Tarjuma-tul-Quran Class 9 Chapter 1: سورہ مریم
Free chapter
This is the free study page for Tarjuma-tul-Quran Class 9, Chapter 1: سورہ مریم. It follows the Federal Board (FBISE) SSC-I syllabus and takes about 15 minutes to read. After reading, tap Practice this chapter to answer questions with the answers shown at once.
ایک نظر میں: سورہ مریم
| موضوع | ایک جملے میں |
|---|---|
| تعارف | یہ مکی سورت ہے، اس میں ۹۸ آیات اور ۶ رکوع ہیں۔ |
| شانِ نزول | ہجرتِ حبشہ سے پہلے جب کفار مسلمانوں پر سخت ظلم کر رہے تھے، یہ سورت نازل ہوئی۔ |
| وجہِ تسمیہ | اس میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر ہے، اس لیے نام سورہ مریم ہے۔ |
۱۔ تعارفِ سورت
ایک نظر میں
- نام: سورہ مریم
- قسم: مکی سورت
- آیات: ۹۸
- رکوع: ۶
- قرآن مجید میں ترتیب: ۱۹ ویں سورت
- مقصد: مسیحیوں اور یہودیوں کے عقائد کی اصلاح
۲۔ وجہِ تسمیہ
وجہِ تسمیہ
- اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام کا تذکرہ ہے۔
- اسی وجہ سے نام «سورہ مریم» ہے۔
۳۔ شانِ نزول
شانِ نزول
- سورہ مریم ہجرتِ حبشہ سے پہلے نازل ہوئی۔
- کفار اور مشرکین مسلمانوں پر سخت ظلم کر رہے تھے۔
- مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنا دشوار ہوگیا تھا۔
خصوصیت: نجاشی کا واقعہ
- کفارِ مکہ مکرمہ کے کہنے پر نجاشی بادشاہ نے مسلمانوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عقیدہ پوچھا۔
- حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت کی۔
- نجاشی رو پڑا اور کفار کا وفد ناکام واپس گیا۔
- بعد میں نجاشی نے اسلام قبول کر لیا۔
۴۔ مرکزی موضوع اور بنیادی مضامین
مرکزی موضوع
- توحید، رسالت اور آخرت کا بیان
- توحید: اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کی کوئی اولاد اور شریک نہیں۔
- حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کا ذکر۔
- انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر۔
- حضرت مریم علیہا السلام کی عظمت اور شان۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔
- مسیحیوں، یہودیوں اور مشرکین کے غلط عقیدوں کی تردید۔
- قیامت کا ذکر: فرماں بردار جنت میں، نافرمان عذاب میں۔
۵۔ منتخب الفاظ کے معانی
| لفظ | معنی | کہاں آیا |
|---|---|---|
| ٱلۡعَظۡمُ | ہڈیاں | سورہ مریم، آیت ۴ |
| غُلَٰمٞ | لڑکا | آیت ۸ |
| مُبَارَكًا | بابرکت | آیت ۳۱ |
| أَنذِرۡ | خبردار کر/ڈرا | آیت ۳۹ |
| أَضَاعُواْ | انہوں نے ضائع کیا | آیت ۵۹ |
۶۔ سورت میں مذکور واقعات
حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کا واقعہ (آیات ۲ تا ۱۵)
- حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی ہڈیاں کمزور اور سر شعلہ کی طرح چمکنے لگا تھا (آیات ۴، ۵، ۸)۔
- انھوں نے اپنے رب کو آہستہ آواز سے پکارا اور اپنے بعد رشتہ داروں کے دین سے دور ہونے کے خوف سے وارث مانگا (آیات ۳ تا ۶)۔
- اللہ تعالیٰ نے لڑکے کی خوش خبری دی جس کا نام یحییٰ علیہ السلام تھا (آیت ۷)۔
نتیجہ: دعا قبول ہوئی، حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا ہوئے۔
حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا واقعہ (آیات ۱۶ تا ۳۶)
- حضرت مریم علیہا السلام گھر والوں سے الگ ایک مشرقی مکان میں گئیں اور پردہ کر لیا (آیات ۱۶، ۱۷)۔
- اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو پورے انسان کی شکل میں بھیجا (آیات ۱۷، ۱۸)۔
- فرشتے نے پاکیزہ لڑکے کی خوش خبری دی (آیات ۱۹ تا ۲۱)۔
نتیجہ: حضرت مریم علیہا السلام کی پاک دامنی ظاہر ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بندہ اور رسول ہونا ثابت ہوا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے والد کا واقعہ (آیات ۴۱ تا ۵۰)
- حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے سچے نبی تھے (آیت ۴۱)۔
- انھوں نے «اے میرے باپ!» کہہ کر نرمی سے پوچھا کہ تم ان چیزوں کی پوجا کیوں کرتے ہو جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں (آیت ۴۲)۔
- علم کی بنا پر پیروی کی دعوت دی، شیطان کی پوجا سے روکا اور عذاب کا ڈر بتایا (آیات ۴۳ تا ۴۵)۔
نتیجہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما السلام عطا کیے، سب کو نبی بنایا، رحمت دی اور ذکرِ خیر بلند کیا (آیات ۴۹، ۵۰)۔
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر (آیات ۵۱ تا ۵۳)
- حضرت موسیٰ علیہ السلام خاص بندے، رسول اور نبی تھے (آیت ۵۱)۔
- انھیں طور کی دائیں جانب سے پکارا گیا اور راز کی بات کے لیے قریب کیا گیا (آیت ۵۲)۔
- ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے نبی بنا کر عطا کیا (آیت ۵۳)۔
نتیجہ: دونوں بھائیوں کو نبوت اور خاص قرب ملا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر (آیات ۵۴، ۵۵)
- وہ وعدے کے سچے، رسول اور نبی تھے (آیت ۵۴)۔
- وہ اپنے گھر والوں کو خاص طور پر نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے (آیت ۵۵)۔
نتیجہ: وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھے۔
حضرت ادریس علیہ السلام اور انعام یافتہ بندے (آیات ۵۶ تا ۵۸)
- حضرت ادریس علیہ السلام بڑے سچے نبی تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بلند مرتبہ تک پہنچایا (آیات ۵۶، ۵۷)۔
- آیت ۵۸ میں بتایا گیا کہ یہ انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ تھے۔
- جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں تو وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے تھے (آیت ۵۸)۔
نتیجہ: انعام یافتہ بندوں کی پہچان سجدہ، خشوع اور رونا ہے۔
ناخلف جانشین اور توبہ کرنے والے (آیات ۵۹ تا ۶۳)
- ان کے بعد ایسے ناخلف جانشین آئے جنھوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کی پیروی کی (آیت ۵۹)۔
- جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیے وہ جنت میں جائے گا اور اس پر ظلم نہ ہوگا (آیت ۶۰)۔
- جنت: دائمی باغات، بے کار بات نہیں صرف سلام، رزق صبح و شام (آیات ۶۱ تا ۶۳)۔
نتیجہ: نافرمانی کے بعد بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
فرشتوں کا قول اور انسان کا سوال (آیات ۶۴ تا ۷۲)
- فرشتے کہتے ہیں کہ ہم رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے (آیات ۶۴، ۶۵)۔
- انسان پوچھتا ہے: کیا مرنے کے بعد زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟ جواب: ہم نے اسے پہلے پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھا (آیات ۶۶، ۶۷)۔
- قیامت کے دن انسانوں اور شیطانوں کو جمع کر کے جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل حاضر کیا جائے گا (آیات ۶۸ تا ۷۲)۔
نتیجہ: آخرت پر یقین اور پرہیز گاری ضروری ہے۔
کفار کا اعتراض اور جواب (آیات ۷۳ تا ۷۶)
- کفار مومنوں سے کہتے کہ دونوں گروہوں میں مقام اور مجلس کے اعتبار سے کون بہتر ہے (آیت ۷۳)۔
- جواب: ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک ہو چکیں جو سازو سامان اور نمود و نمائش میں ان سے بہتر تھیں (آیت ۷۴)۔
- گمراہی میں مبتلا کو رحمان ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ عذاب یا قیامت دیکھ لیں (آیات ۷۵، ۷۶)۔
نتیجہ: دنیا کی شان و شوکت کام نہیں آتی۔
مال و اولاد پر گھمنڈ کرنے والا شخص (آیات ۷۷ تا ۸۰)
- اس شخص نے آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دیا جائے گا (آیت ۷۷)۔
- اللہ تعالیٰ نے پوچھا: کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے یا رحمان سے عہد لے رکھا ہے؟ (آیت ۷۸)
- ہرگز نہیں! ہم اس کی بات لکھ لیں گے، عذاب بڑھاتے جائیں گے اور وہ اکیلا ہمارے پاس آئے گا (آیات ۷۹، ۸۰)۔
نتیجہ: مال و اولاد پر گھمنڈ اور آیات کے انکار کا انجام عذاب ہے۔
جھوٹے معبود اور قیامت کا منظر (آیات ۸۱ تا ۸۷)
- انھوں نے عزت کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنائے (آیات ۸۱، ۸۲)۔
- شیطان کافروں کو اکساتے رہتے ہیں (آیات ۸۳، ۸۴)۔
- پرہیز گار رحمان کے ہاں مہمان بن کر جائیں گے اور مجرم پیاسے جان وروں کی طرح جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (آیات ۸۵ تا ۸۷)۔
نتیجہ: جھوٹے معبود کوئی عزت نہیں دے سکتے۔
اللہ تعالیٰ کی اولاد کی نفی (آیات ۸۸ تا ۹۵)
- لوگ کہتے ہیں کہ رحمن نے بیٹا بنایا ہے (آیات ۸۸، ۸۹)۔
- اس بات سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں (آیت ۹۰)۔
- رحمان کی شان نہیں کہ اولاد بنائے (آیات ۹۱ تا ۹۵)۔
نتیجہ: اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں۔
اختتامِ سورت (آیات ۹۶ تا ۹۸)
- ایمان اور نیک عمل والوں کے لیے رحمان محبت پیدا فرما دے گا (آیت ۹۶)۔
- قرآن مجید نبی کی زبان میں آسان کیا گیا تاکہ پرہیز گاروں کو خوش خبری دیں اور جھگڑالو قوم کو ڈرائیں (آیت ۹۷)۔
- ہلاک ہونے والی قوموں کی کوئی آہٹ بھی سنائی نہیں دیتی (آیت ۹۸)۔
نتیجہ: سورت کا اختتام خوش خبری، تنبیہ اور عبرت پر ہوتا ہے۔
۷۔ اسباق و تعلیمات
- ۱۔ دعا اللہ تعالیٰ سے مانگیں (آیات ۳، ۴)
- ۲۔ دعا آہستہ آواز سے مانگیں (آیت ۳)
- ۳۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں (آیات ۹، ۲۱، ۳۵)
- ۴۔ والدین سے نیک سلوک کرو (آیات ۱۴، ۳۲)
- ۵۔ سرکشی اور نافرمانی سے بچو (آیات ۱۴، ۳۲)
- ۶۔ پاک دامنی اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا (آیات ۱۸، ۲۰)
- ۷۔ مصیبت میں صبر اور استقامت (آیات ۲۳ تا ۲۶)
- ۸۔ اللہ تعالیٰ نیک بندوں کی مدد فرماتا ہے (آیات ۲۴ تا ۲۶)
- ۹۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور نبی ہیں (آیات ۳۰ تا ۳۴)
- ۱۰۔ توحید (آیات ۳۵، ۸۸ تا ۹۵)
- ۱۱۔ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ثابت قدم رہو (آیات ۳۶، ۶۵)
- ۱۲۔ نماز اور زکوٰۃ کی پابندی (آیات ۳۱، ۵۵)
- ۱۳۔ گھر والوں کی دینی تربیت (آیت ۵۵)
- ۱۴۔ وعدے کی سچائی (آیت ۵۴)
- ۱۵۔ سچائی اختیار کرو (آیات ۴۱، ۵۶)
- ۱۶۔ نرمی اور دلیل سے دعوت دو (آیات ۴۲ تا ۴۷)
- ۱۷۔ شیطان کی پیروی نہ کرو (آیات ۴۴، ۴۵، ۸۳)
- ۱۸۔ حق کے لیے باطل سے الگ ہو جاؤ (آیات ۴۸، ۴۹)
- ۱۹۔ اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر خشوع اختیار کرو (آیت ۵۸)
- ۲۰۔ نماز ضائع نہ کرو اور خواہشات کی پیروی نہ کرو (آیت ۵۹)
- ۲۱۔ توبہ، ایمان اور نیک عمل جنت کا راستہ ہیں (آیات ۶۰ تا ۶۳)
- ۲۲۔ آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے پر یقین (آیات ۳۹، ۶۶، ۶۷)
- ۲۳۔ پرہیز گاری اختیار کرو (آیات ۶۳، ۷۲)
- ۲۴۔ دنیا کے سازو سامان پر گھمنڈ نہ کرو (آیات ۷۳، ۷۴)
- ۲۵۔ باقی رہنے والی نیکیاں کماؤ (آیت ۷۶)
- ۲۶۔ مال اور اولاد پر گھمنڈ نہ کرو (آیات ۷۷ تا ۸۰)
- ۲۷۔ شرک سے بچو (آیات ۸۱ تا ۸۳)
- ۲۸۔ ہر شخص خود جواب دہ ہے (آیات ۸۷، ۹۳، ۹۵)
- ۲۹۔ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے (آیات ۶۴، ۹۴)
- ۳۰۔ ایمان اور نیک عمل پر محبت (آیت ۹۶)
- ۳۱۔ قرآن مجید کو آسان سمجھ کر پڑھو اور عبرت پکڑو (آیات ۹۷، ۹۸)
۸۔ فوری دہرائی
تعارف، وجہِ تسمیہ اور شانِ نزول
- تعارف: مکی، ۹۸ آیات، ۶ رکوع
- شانِ نزول: ہجرتِ حبشہ سے پہلے ظلم
- وجہِ تسمیہ: مریم و عیسیٰ علیہما السلام
مرکزی موضوع
- توحید، رسالت اور آخرت کا بیان
منتخب الفاظ
- ہڈیاں، لڑکا، بابرکت، خبردار کر/ڈرا، انہوں نے ضائع کیا
واقعات
- حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کا واقعہ (آیات ۲ تا ۱۵)
- حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا واقعہ (آیات ۱۶ تا ۳۶)
- حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے والد کا واقعہ (آیات ۴۱ تا ۵۰)
- حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر (آیات ۵۱ تا ۵۳)
- حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر (آیات ۵۴، ۵۵)
- حضرت ادریس علیہ السلام اور انعام یافتہ بندے (آیات ۵۶ تا ۵۸)
- ناخلف جانشین اور توبہ کرنے والے (آیات ۵۹ تا ۶۳)
- فرشتوں کا قول اور انسان کا سوال (آیات ۶۴ تا ۷۲)
- کفار کا اعتراض اور جواب (آیات ۷۳ تا ۷۶)
- مال و اولاد پر گھمنڈ کرنے والا شخص (آیات ۷۷ تا ۸۰)
- جھوٹے معبود اور قیامت کا منظر (آیات ۸۱ تا ۸۷)
- اللہ تعالیٰ کی اولاد کی نفی (آیات ۸۸ تا ۹۵)
- اختتامِ سورت (آیات ۹۶ تا ۹۸)
اسباق
- کل اسباق: ۳۱۔ ہر سبق کے ساتھ آیت کا نمبر یاد رکھیں۔
۹۔ مختصر سوالات مع جوابات (ہر قسم)
ہر قسم کے مختصر سوالات (عام طور پر ہر سوال کے ۲ نمبر) مع جوابات۔ امتحان سے پہلے ان کو دہرائیں۔
تعارفِ سورت (1 سوالات)
سوال 1۔ سورہ مریم مکی ہے یا مدنی؟ اس کی آیات اور رکوع کی تعداد لکھیں۔
سورہ مریم مکی سورت ہے۔
اس کی آیات کی تعداد ۹۸ (اٹھانوے) اور رکوع کی تعداد ۶ (چھ) ہے۔
وجہِ تسمیہ (3 سوالات)
سوال 2۔ سورہ مریم کا نام «مریم علیہا السلام» کیوں رکھا گیا؟ (وجہِ تسمیہ لکھیں۔)
اس سورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام کا تذکرہ ہے۔
اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورہ مریم رکھا گیا۔
سوال 3۔ «مریم علیہا السلام» کون تھیں اور اس سورت میں ان کا ذکر کیوں آیا ہے؟
- حضرت مریم علیہا السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں۔
- سورت میں ان کی پاک دامنی، تقویٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کا ذکر ہے۔
- اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورہ مریم ہے۔
سوال 4۔ سورہ مریم کے نام کی وجہ اور مقصد دونوں لکھیں۔
- نام کی وجہ: اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام کا تذکرہ ہے۔
- مقصد: مسیحیوں اور یہودیوں کے عقائد کی اصلاح۔
شانِ نزول (10 سوالات)
سوال 5۔ سورہ مریم کی تلاوت سن کر نجاشی نے کیا کہا؟
سورہ مریم کی تلاوت سن کر نجاشی بادشاہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے ایک تنکا اٹھا کر کہا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ تم نے کہا، وہ اس سے ایک تنکا برابر بھی زیادہ نہ تھے۔
سوال 6۔ سورہ مریم کا شانِ نزول مختصر تحریر کریں۔
سورہ مریم ہجرتِ حبشہ سے پہلے نازل ہوئی۔
اس وقت کفار اور مشرکین مکہ مکرمہ مسلمانوں پر سخت ظلم ڈھا رہے تھے اور ان کے لیے زندگی گزارنا دشوار ہوگیا تھا۔ انھی حالات میں یہ سورت نازل ہوئی۔
سوال 7۔ سورہ مریم کب نازل ہوئی اور اس وقت مسلمانوں کے حالات کیسے تھے؟
یہ سورت ہجرتِ حبشہ سے پہلے نازل ہوئی۔
اس وقت مشرکین مسلمانوں کو اتنی تکلیف پہنچاتے تھے کہ ان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا تھا۔
سوال 8۔ ہجرتِ حبشہ کا واقعہ مختصراً لکھیں۔
جب مکہ مکرمہ کے لوگوں کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ واصحابہٖ وسلم نے صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔
مسلمان حبشہ پہنچے تو مکہ مکرمہ کے کفار بھی ان کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ حبشہ کے مسیحی بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا عقیدہ پوچھا۔
سوال 9۔ نجاشی کون تھا؟ اس نے مسلمانوں سے کیا سوال کیا؟
نجاشی حبشہ کا مسیحی بادشاہ تھا۔
اس نے مسلمانوں سے پوچھا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟
سوال 10۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نجاشی کے دربار میں کیا کیا؟
حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نجاشی کے سامنے ایک تقریر کی۔
اس میں انھوں نے سورہ مریم کی تلاوت فرمائی، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر ہے۔
سوال 11۔ سورہ مریم سن کر نجاشی کے دل میں مسلمانوں کے لیے کیا کیفیت پیدا ہوئی اور قریش کے وفد کا کیا انجام ہوا؟
نجاشی کے دل میں مسلمانوں کے لیے ہم دردی پیدا ہوگئی۔
قریش کے اس وفد کو حبشہ سے ناکام واپس جانا پڑا۔
سوال 12۔ نجاشی بعد میں کیا ثابت ہوا؟
بعد میں نجاشی نے اسلام قبول کر لیا اور بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔
وہ حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ واصحابہٖ وسلم سے بہت محبت رکھتے تھے۔
سوال 13۔ ہجرتِ حبشہ کی اجازت کیوں دی گئی؟ سورہ مریم کی خصوصیت اس واقعے سے کیسے ظاہر ہوتی ہے؟
مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم حد سے بڑھ گیا تھا، اس لیے انھیں حبشہ ہجرت کی اجازت دی گئی۔
نجاشی کے دربار میں سورہ مریم پڑھی گئی تو وہ رو پڑا اور اس نے مسلمانوں کے عقیدے کی تصدیق کی۔ یہی اس سورت کی خصوصیت ہے۔
سوال 14۔ قریش کا وفد حبشہ کیوں گیا تھا اور اس کا کیا نتیجہ نکلا؟
- مکہ مکرمہ کے کفار مسلمانوں کا پیچھا کرتے ہوئے حبشہ پہنچ گئے۔
- نجاشی کے دل میں مسلمانوں کے لیے ہم دردی پیدا ہوئی اور قریش کے وفد کو ناکام واپس جانا پڑا۔
مرکزی موضوع (12 سوالات)
سوال 15۔ سورہ مریم کا مقصد تحریر کریں۔
سورہ مریم کا مقصد مسیحیوں اور یہودیوں کے عقائد کی اصلاح ہے۔
اس میں بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، اس کے بیٹے نہیں۔
سوال 16۔ سورہ مریم کا مرکزی موضوع تحریر کریں۔
سورہ مریم کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کا بیان ہے۔
توحید میں اللہ تعالیٰ کے یکتا ہونے کا بیان ہے، رسالت میں انبیائے کرام کا ذکر ہے اور آخرت میں قیامت، جنت اور عذاب کا بیان ہے۔
سوال 17۔ سورہ مریم کے کوئی سے چار موضوعات تحریر کریں۔
- توحید: اللہ تعالیٰ یکتا ہے؛ اس کا کوئی بیٹا، بیٹی اور شریک نہیں۔
- حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کا ذکر۔
- حضرت مریم علیہا السلام کے احوال اور ان کی عظمت و شان۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش اور ان کا اللہ تعالیٰ کا بندہ اور رسول ہونا۔
سوال 18۔ سورہ مریم میں توحید کا بیان کس طرح آیا ہے؟ دو نکات لکھیں۔
سورہ مریم میں تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے۔
- اللہ تعالیٰ یکتا ہے؛ اس کا کوئی بیٹا، بیٹی اور شریک نہیں۔
- آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس بندے کی حیثیت سے حاضر ہوگا (آیت ۹۳)۔
سوال 19۔ مسیحی اور یہودی کن ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں؟
مسیحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے تھے۔
قرآن مجید میں ان دونوں عقیدوں کو غلط قرار دیا گیا ہے۔
سوال 20۔ مشرکین کا فرشتوں کے بارے میں کیا عقیدہ تھا؟
مشرکینِ مکہ مکرمہ کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔
قرآن مجید میں اس عقیدے کو بھی غلط قرار دیا گیا ہے۔
سوال 21۔ سورہ مریم کے کوئی سے دو نکات تحریر کریں۔
- اللہ تعالیٰ یکتا ہے؛ اس کا کوئی بیٹا، بیٹی اور شریک نہیں۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، اس کے بیٹے نہیں۔
سوال 22۔ سورت کے شروع میں کن ہستیوں کا ذکر آیا ہے؟ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ایک صفت لکھیں۔
سورت کے شروع میں حضرت زکریا علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ والدین کے فرماں بردار تھے۔
سوال 23۔ معجزانہ پیدائش کے بارے میں سورہ مریم کیا تعلیم دیتی ہے؟
کسی نبی کی معجزانہ پیدائش اسے خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بناتی۔
یہ معجزے صرف انسانوں کی ہدایت کے لیے ہوتے ہیں۔
سوال 24۔ سورت کے آخر میں قیامت کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟ اس سے فرماں برداروں اور نافرمانوں کا انجام لکھیں۔
سورت کے آخر میں قیامت کے احوال کا ذکر ہے۔
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کریں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان لوگ اس کے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
سوال 25۔ سورہ مریم میں انبیاء کرام علیہم السلام کے ذکر سے کیا بات سمجھائی گئی ہے؟
- انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں۔
- معجزانہ پیدائش کسی نبی کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بناتی۔
- معجزے صرف انسانوں کی ہدایت کے لیے ہیں۔
سوال 26۔ سورہ مریم میں آخرت کے بیان کے دو نکات لکھیں۔
- قیامت کے دن توبہ، ایمان اور نیک عمل والے جنت میں داخل ہوں گے۔
- نافرمان، ظالم اور اولاد کا دعویٰ کرنے والے عذاب کے مستحق ہوں گے؛ ہر شخص اکیلا اللہ تعالیٰ کے پاس آئے گا۔
الفاظ کے معانی (5 سوالات)
سوال 27۔ درج ذیل لفظ کے معنی تحریر کریں:
«ٱلۡعَظۡمُ»
ہڈیاں
سوال 28۔ درج ذیل لفظ کے معنی تحریر کریں:
«غُلَٰمٞ»
لڑکا
سوال 29۔ درج ذیل لفظ کے معنی تحریر کریں:
«مُبَارَكًا»
بابرکت
سوال 30۔ درج ذیل لفظ کے معنی تحریر کریں:
«أَنذِرۡ»
خبردار کر/ڈرا
سوال 31۔ درج ذیل لفظ کے معنی تحریر کریں:
«أَضَاعُواْ»
انہوں نے ضائع کیا
واقعات (27 سوالات)
سوال 32۔ آیات ۱ اور ۲ میں کس کا ذکر ہے؟
آیت ۱ میں حروف «کھیعص» ہیں اور آیت ۲ میں حضرت زکریا علیہ السلام پر آپ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے۔
سوال 33۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے وارث کی دعا کیوں مانگی؟
حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے چمکنے لگا۔
ان کی بیوی بانجھ تھیں اور انھیں اپنے بعد رشتہ داروں کے دین سے دور ہونے کا خوف تھا۔
اس لیے انھوں نے آہستہ آواز سے اپنے رب کو پکارا اور ایک ایسا وارث مانگا جو ان کا اور اولادِ یعقوب علیہ السلام کا وارث بنے۔
سوال 34۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو لڑکے کی خوش خبری پر تعجب کیوں ہوا اور انھیں کیا جواب ملا؟
حضرت زکریا علیہ السلام نے عرض کیا کہ میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، جب کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسا ہی ہوگا؛ یہ میرے لیے آسان ہے اور میں اس سے پہلے تمھیں بھی پیدا کر چکا ہوں جب تم کچھ بھی نہ تھے۔
سوال 35۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی نشانی کیا مقرر ہوئی؟ نشانی کے بعد انھوں نے قوم کو کیا حکم دیا؟
نشانی یہ مقرر ہوئی کہ وہ تندرست ہونے کے باوجود مسلسل تین رات تک لوگوں سے کلام نہ کر سکیں گے۔
پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر قوم کے پاس آئے اور اشارے سے انھیں حکم دیا کہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو۔
سوال 36۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صفات اپنے الفاظ میں لکھیں۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں بچپن ہی میں حکمت اور نبوت عطا فرمائی۔
- وہ نرم دل اور پاکیزہ تھے۔
- وہ بڑے پرہیز گار تھے۔
- وہ والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے۔
- وہ سرکش اور نافرمان نہ تھے۔
سوال 37۔ آیت ۱۵ میں حضرت یحییٰ علیہ السلام پر سلام کن تین دنوں کا ذکر ہے؟
سلام ہو ان پر جس دن وہ پیدا ہوئے، جس دن وہ وفات پائیں گے اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سلامتی اور بڑے اعزاز کی بات ہے۔
سوال 38۔ حضرت مریم علیہا السلام کے پاس فرشتہ کس صورت میں آیا اور اس نے کیا خوش خبری دی؟
حضرت مریم علیہا السلام گھر والوں سے الگ ایک مشرقی مکان میں گئیں اور پردہ کر لیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی روح (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں ظاہر ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ میں آپ کے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ آپ کو ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔
سوال 39۔ حضرت مریم علیہا السلام نے فرشتے کو دیکھ کر کیا کہا؟ اس سے ان کا کون سا وصف ظاہر ہوتا ہے؟
حضرت مریم علیہا السلام نے فرمایا کہ میں تم سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تم رحمن سے ڈرنے والے ہو۔
پھر کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار نہیں رہی۔
اس سے ان کی پاک دامنی، عفت اور تقویٰ ظاہر ہوتا ہے۔
سوال 40۔ حضرت مریم علیہا السلام کو درد زہ کے وقت کیا پیش آیا اور فرشتے نے کیا تسلی دی؟
دردِ زہ انھیں کھجور کے تنے کی طرف لے آیا تو انھوں نے کہا: اے کاش! میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی۔
فرشتے نے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کیجیے، آپ کے رب نے آپ کے نیچے سے چشمہ جاری کر دیا ہے۔ کھجور کے تنے کو ہلائیں، یہ آپ پر تازہ کھجوریں گرائے گا۔
سوال 41۔ حضرت مریم علیہا السلام کو دردِ زہ کے وقت کن نعمتوں سے نوازا گیا؟
- نیچے سے چشمہ جاری کیا گیا۔
- کھجور کے تنے کو ہلانے پر تازہ کھجوریں گریں۔
- فرشتے کے ذریعے غم نہ کرنے کی تسلی دی گئی۔
سوال 42۔ جب حضرت مریم علیہا السلام بچے کو لے کر قوم کے پاس آئیں تو قوم نے کیا کہا اور حضرت مریم علیہا السلام نے کیا کیا؟
قوم نے کہا کہ اے مریم علیہا السلام! تم تو بڑی عجیب چیز لائی ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تمھارے والد برے آدمی تھے اور نہ تمھاری والدہ بدکار تھیں۔
حضرت مریم علیہا السلام نے (نہ بولنے کی نذر کی وجہ سے) بچے کی طرف اشارہ کیا۔
لوگ بولے کہ ہم گہوارے کے بچے سے کیسے بات کریں؟
سوال 43۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گہوارے میں کیا اعلان فرمایا؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔
اس نے مجھے بابرکت بنایا ہے جہاں بھی میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا ہے جب تک میں زندہ رہوں۔
اور اس نے مجھے سرکش و نافرمان نہیں بنایا۔
سوال 44۔ آیات ۳۴ تا ۴۰ کا خلاصہ تحریر کریں۔
- یہ مریم علیہا السلام کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور یہی سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں (آیت ۳۴)۔
- اللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ بیٹا بنائے؛ وہ جب ارادہ فرماتا ہے تو «ہوجا» کہتا ہے (آیت ۳۵)۔
- اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے، اسی کی عبادت سیدھا راستہ ہے (آیت ۳۶)۔
- انکار کرنے والوں کے لیے تباہی ہے؛ حسرت کے دن ہر کام کا فیصلہ ہو جائے گا (آیات ۳۷ تا ۴۰)۔
سوال 45۔ آیات ۳۸ تا ۴۰ میں قیامت کے دن اور اس دن کے بارے میں لوگوں کی غفلت کا بیان لکھیں۔
- ظالم لوگ آج واضح گمراہی میں ہیں (آیت ۳۸)۔
- نبی کو حسرت کے دن سے ڈرانے کا حکم ہے جب ہر کام کا فیصلہ ہو جائے گا؛ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے (آیت ۳۹)۔
- اللہ تعالیٰ زمین اور اس پر موجود سب چیزوں کا وارث ہے اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے (آیت ۴۰)۔
سوال 46۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے والد اور قوم سے الگ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں کیا عطا فرمایا؟
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام قوم اور ان کے معبودوں سے الگ ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حضرت اسحاق علیہ السلام (بیٹا) اور حضرت یعقوب علیہ السلام (پوتا) عطا کیے اور ان سب کو نبی بنایا۔
ان کو اپنی رحمت عطا فرمائی اور ان کا ذکرِ خیر بہت بلند فرما دیا۔
سوال 47۔ سورہ مریم میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر کس طرح آیا ہے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام خاص بندے، رسول اور نبی تھے۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں طور (پہاڑ) کی دائیں جانب سے پکارا اور راز کی بات کہنے کے لیے انھیں اپنے قریب کیا۔
اپنی رحمت سے ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو نبی بنا کر عطا فرمایا۔
سوال 48۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام کی صفات لکھیں۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام وعدے کے سچے اور رسول و نبی تھے؛ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھے۔
حضرت ادریس علیہ السلام بڑے سچے نبی تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بلند مرتبہ تک پہنچایا۔
سوال 49۔ آیت ۵۸ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے کیسے تھے؟
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا؛ یہ انبیاء میں سے ہیں، حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے، ان لوگوں میں سے جنھیں حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ سوار کیا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) کی اولاد میں سے۔
جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے تھے۔
سوال 50۔ آیات ۶۱ تا ۶۳ کے مطابق جنت اور جنت والوں کے بارے میں کیا بتایا گیا؟
جنت ہمیشہ رہنے والے دائمی باغات ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔
وہاں وہ کوئی بے کار بات نہیں سنیں گے، صرف سلام سنیں گے اور ان کا رزق صبح و شام ہوگا۔
اس جنت کا وارث اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اسے بنائے گا جو پرہیز گار رہا۔
سوال 51۔ فرشتے کیا کہتے ہیں کہ وہ کس کے حکم سے اترتے ہیں؟ (آیت ۶۴)
فرشتوں نے کہا کہ ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔
جو کچھ ہمارے آگے ہے، پیچھے ہے اور اس کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔
سوال 52۔ فرشتوں نے حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ واصحابہٖ وسلم سے آیات ۶۴، ۶۵ میں کیا کہا؟
- ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔
- آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔
- وہ آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے، اسی کی عبادت کیجیے اور اس پر ثابت قدم رہیے۔
سوال 53۔ قیامت کے دن انسان کو کس طرح جہنم کے گرد حاضر کیا جائے گا؟ (آیات ۶۸ تا ۷۲)
فرمایا: آپ کے رب کی قسم! ہم انھیں اور شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے، پھر ان سب کو جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کریں گے۔
پھر ہر گروہ میں سے زیادہ سخت سرکشوں کو الگ کیا جائے گا۔
پھر پرہیز گاروں کو نجات دی جائے گی اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیا جائے گا۔
سوال 54۔ کفار نے مومنوں سے کیا کہا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا کیا جواب دیا؟ (آیات ۷۳، ۷۴)
جب ان پر واضح آیات پڑھی جاتیں تو کافر مومنوں سے کہتے کہ دونوں گروہوں میں کون مقام اور مجلس کے اعتبار سے بہتر ہے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چکے ہیں جو سازو سامان اور نمود و نمائش میں ان سے کہیں اچھی تھیں۔
سوال 55۔ مال و اولاد کے دعوے دار شخص کا حال آیات ۷۷ تا ۸۰ کی روشنی میں لکھیں۔
- اس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دیا جائے گا۔
- اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا اس نے غیب کی خبر پا لی یا رحمان سے عہد لے رکھا ہے؟
- ہرگز نہیں! ہم اس کی بات لکھ لیں گے، اس کا عذاب بڑھائیں گے اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔
سوال 56۔ آیات ۸۱ اور ۸۲ میں جھوٹے معبودوں کا کیا انجام بتایا گیا ہے؟
انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا لیے تاکہ وہ ان کے لیے باعثِ عزت ہوں۔
فرمایا ہرگز ایسا نہیں؛ عنقریب یہ معبود خود ان کی پوجا سے انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہو جائیں گے۔
سوال 57۔ آیات ۸۱ تا ۸۷ میں جھوٹے معبودوں اور قیامت کے منظر کا خلاصہ لکھیں۔
- انھوں نے عزت کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنائے مگر وہ خود ان کی پوجا سے انکار کریں گے۔
- شیطان کافروں کو اکساتے رہتے ہیں؛ عذاب کی جلدی نہ کی جائے۔
- پرہیز گار مہمان بن کر رحمان کے پاس جائیں گے اور مجرم پیاسے جان وروں کی طرح جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔
سوال 58۔ سورہ مریم کی آخری آیات (۹۶ تا ۹۸) کا خلاصہ لکھیں۔
ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے والوں کے لیے رحمان محبت پیدا فرما دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو آپ کی زبان میں آسان فرمایا تاکہ آپ پرہیز گاروں کو خوش خبری دیں اور جھگڑالو قوم کو ڈرائیں۔
آخر میں فرمایا کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چکے ہیں؛ کیا آپ ان میں سے کسی کو محسوس کرتے ہیں یا کسی کی آہٹ سنتے ہیں؟
اسباق (37 سوالات)
سوال 59۔ آیات ۳، ۴ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: دعا اللہ تعالیٰ سے مانگیں
- حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور فرمایا کہ میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
- ہمیں اپنی ہر ضرورت اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہیے اور قبولیت کی امید رکھنی چاہیے۔
سوال 60۔ آیت ۳ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: دعا آہستہ آواز سے مانگیں
- حضرت زکریا علیہ السلام نے رب کو آہستہ آواز سے پکارا۔
- دعا خلوص اور عاجزی سے مانگنی چاہیے۔
سوال 61۔ آیات ۹، ۲۱، ۳۵ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں
- بوڑھے اور بانجھ میاں بیوی کو بیٹا دینا بھی اللہ تعالیٰ کے لیے آسان ہے۔
- وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے «ہوجا» تو وہ ہو جاتی ہے۔
سوال 62۔ آیات ۱۴، ۳۲ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: والدین سے نیک سلوک کرو
- حضرت یحییٰ علیہ السلام اپنے والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے اچھا سلوک کرنے کا ذکر فرمایا۔
سوال 63۔ آیات ۱۴، ۳۲ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: سرکشی اور نافرمانی سے بچو
- حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام سرکش اور نافرمان نہ تھے۔
- ہمیں بھی عاجزی اور فرماں برداری اختیار کرنی چاہیے۔
سوال 64۔ آیات ۱۸، ۲۰ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: پاک دامنی اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا
- حضرت مریم علیہا السلام نے فرشتے کو دیکھ کر رحمن کی پناہ مانگی۔
- ان کی پاک دامنی اور تقویٰ قابلِ تقلید ہے۔
سوال 65۔ آیات ۲۳ تا ۲۶ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: مصیبت میں صبر اور استقامت
- حضرت مریم علیہا السلام سخت آزمائش میں ثابت قدم رہیں۔
- ہمیں مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔
سوال 66۔ آیات ۲۴ تا ۲۶ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: اللہ تعالیٰ نیک بندوں کی مدد فرماتا ہے
- مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ نے چشمہ جاری کیا اور تازہ کھجوریں عطا کیں۔
- وہ اپنے نیک بندوں کی نگہبانی کرتا ہے۔
سوال 67۔ آیات ۳۰ تا ۳۴ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور نبی ہیں
- انھوں نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں؛ اس نے مجھے کتاب اور نبوت دی۔
- معجزانہ پیدائش کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بناتی۔
سوال 68۔ آیات ۳۱، ۵۵ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: نماز اور زکوٰۃ کی پابندی
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندگی بھر نماز اور زکوٰۃ کا حکم ملا۔
- حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر والوں کو یہی حکم دیتے تھے۔
سوال 69۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلام کا کیا عقیدہ ہے؟
اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پاک دامن حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوئے۔
وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، اس کے بیٹے نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں رسالت اور آسمانی کتاب سے نوازا۔
سوال 70۔ آیات ۳۵، ۸۸ تا ۹۵ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: توحید: اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں
- اللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔
- اولاد کا دعویٰ بہت بھاری بات ہے؛ سب اس کے بندے ہیں۔
سوال 71۔ آیات ۳۶، ۶۵ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ثابت قدم رہو
- اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے، اسی کی عبادت سیدھا راستہ ہے۔
- عبادت پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
سوال 72۔ آیات ۳۹، ۶۶، ۶۷ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: آخرت اور دوبارہ زندہ ہونے پر یقین
- جس نے پہلی بار پیدا کیا وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے۔
- حسرت کے دن ہر کام کا فیصلہ ہو جائے گا؛ غفلت سے بچنا چاہیے۔
سوال 73۔ آیات ۴۱، ۵۶ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: سچائی اختیار کرو
- حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام بڑے سچے نبی تھے۔
- سچ بولنا انبیاء کی صفت ہے۔
سوال 74۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو دعوتِ حق کس انداز سے دی؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بار بار «اے میرے باپ!» کہہ کر نہایت نرمی اور محبت سے بات کی۔
انھوں نے دلیل دی کہ جو چیزیں نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ کام آتی ہیں، ان کی پوجا کیوں کرتے ہو؟
انھوں نے والد کو شیطان کی پوجا سے منع کیا اور رحمان کے عذاب سے ڈرایا۔
سوال 75۔ آیات ۴۲ تا ۴۷ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: نرمی اور دلیل سے دعوت دو
- حضرت ابراہیم علیہ السلام نے «اے میرے باپ!» کہہ کر نرمی سے سمجھایا۔
- سخت بات کا جواب بھی سلام اور دعا سے دیا۔
سوال 76۔ آیات ۴۴، ۴۵، ۸۳ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: شیطان کی پیروی نہ کرو
- شیطان رحمن کا بڑا نافرمان ہے۔
- اس کی پیروی عذاب کی طرف لے جاتی ہے۔
سوال 77۔ آیات ۴۸، ۴۹ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: حق کے لیے باطل سے الگ ہو جاؤ
- حضرت ابراہیم علیہ السلام قوم اور ان کے معبودوں سے الگ ہوئے۔
- اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے انھیں اسحاق اور یعقوب علیہما السلام عطا کیے۔
سوال 78۔ آیت ۵۴ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: وعدے کی سچائی
- حضرت اسماعیل علیہ السلام وعدے کے سچے تھے۔
- ہمیں بھی وعدہ پورا کرنا چاہیے۔
سوال 79۔ آیت ۵۵ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: گھر والوں کی دینی تربیت
- حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے۔
- ہمیں بھی اپنے گھر والوں کو نیکی کی تلقین کرنی چاہیے۔
سوال 80۔ آیت ۵۸ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر خشوع اختیار کرو
- انعام یافتہ بندے رحمن کی آیات سن کر سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے۔
- ہمیں بھی قرآن مجید سن کر دل نرم رکھنا چاہیے۔
سوال 81۔ نماز ضائع کرنے والے ناخلف لوگوں کا کیا انجام بتایا گیا اور ان میں سے کون بچ جائے گا؟
ان کے بعد ایسے ناخلف جانشین آئے جنھوں نے نماز ضائع کی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی؛ وہ عنقریب گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔
جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیا، وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا۔
سوال 82۔ آیت ۵۹ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: نماز ضائع نہ کرو اور خواہشات کی پیروی نہ کرو
- نماز ضائع کرنے اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والے گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔
- نماز ایمان کی علامت ہے، اسے ضائع نہ کریں۔
سوال 83۔ آیات ۶۰ تا ۶۳ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: توبہ، ایمان اور نیک عمل جنت کا راستہ ہیں
- توبہ کرنے والے، ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے جنت میں جائیں گے۔
- جنت میں ان پر ظلم نہ ہوگا اور رزق صبح و شام ملے گا۔
سوال 84۔ آیات ۶۳، ۷۲ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: پرہیز گاری اختیار کرو
- جنت کا وارث پرہیز گار ہوگا اور پرہیز گار نجات پائیں گے۔
- ظالم جہنم میں رہیں گے۔
سوال 85۔ آیات ۶۴، ۹۴ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
- وہ بھولنے والا نہیں اور اس نے سب کو گن رکھا ہے۔
- ہمیں ہر وقت اس کے علم پر یقین رکھنا چاہیے۔
سوال 86۔ آیات ۷۳، ۷۴ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: دنیا کے سازو سامان پر گھمنڈ نہ کرو
- ہلاک ہونے والی قومیں سازو سامان میں زیادہ بہتر تھیں مگر ہلاک ہوئیں۔
- شان و شوکت نجات کا ذریعہ نہیں۔
سوال 87۔ آیت ۷۶ میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور نیکیوں کے بارے میں کیا فرمایا؟
اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت کو بڑھاتا ہے۔
باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے نزدیک ثواب میں بھی بہتر ہیں اور انجام کے اعتبار سے بھی بہت اچھی ہیں۔
سوال 88۔ آیت ۷۶ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: باقی رہنے والی نیکیاں کماؤ
- باقی رہنے والی نیکیاں ثواب اور انجام میں بہتر ہیں۔
- اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت بڑھاتا ہے۔
سوال 89۔ آیات ۷۷ تا ۸۰ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: مال اور اولاد پر گھمنڈ نہ کرو
- جس نے آیات کا انکار کر کے مال و اولاد کا دعویٰ کیا اس کے لیے عذاب بڑھایا جائے گا۔
- وہ اللہ تعالیٰ کے پاس اکیلا آئے گا۔
سوال 90۔ آیات ۸۱ تا ۸۳ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: شرک سے بچو
- جھوٹے معبود عزت نہیں دے سکتے بلکہ ان کی پوجا سے انکار کریں گے۔
- اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہ بناؤ۔
سوال 91۔ آیات ۸۷، ۹۳، ۹۵ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: ہر شخص خود جواب دہ ہے
- ہر ایک اللہ تعالیٰ کے پاس بندہ بن کر اور اکیلا آئے گا۔
- شفاعت کا اختیار صرف رحمان کے عہد والے کو ہوگا۔
سوال 92۔ آیات ۸۸ تا ۹۲ میں اللہ تعالیٰ کی اولاد کے بارے میں کیا فرمایا گیا؟
جو لوگ کہتے ہیں کہ رحمن نے بیٹا بنایا ہے، وہ بہت بھاری بات زبان پر لائے ہیں۔
قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیں، کیوں کہ انھوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا۔
رحمان کی شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔
سوال 93۔ آیات ۹۳ تا ۹۵ سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
آسمانوں اور زمینوں میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس بندے کی حیثیت سے حاضر ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب گن رکھا ہے۔
قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک اس کے پاس اکیلا آئے گا۔
سوال 94۔ آیت ۹۶ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: ایمان اور نیک عمل پر محبت
- ایمان اور نیک عمل والوں کے لیے رحمان محبت پیدا فرما دے گا۔
- نیکی لوگوں کے دلوں میں بھی عزت بناتی ہے۔
سوال 95۔ آیات ۹۷، ۹۸ میں سورہ مریم کا جو سبق بیان ہوا ہے وہ لکھیں۔
سبق: قرآن مجید کو آسان سمجھ کر پڑھو اور عبرت پکڑو
- قرآن مجید آسان کیا گیا تاکہ پرہیز گاروں کو خوش خبری ملے اور جھگڑالو قوم کو تنبیہ ہو۔
- ہلاک ہونے والی قوموں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
آیات کا ترجمہ اور مفہوم (46 سوالات)
سوال 96۔
كٓهيعٓصٓ ﴿۱﴾ ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهُۥ زَكَرِيَّآ ﴿۲﴾
ترجمہ: کھیعص (یہ) آپ کے رب کی رحمت (فرمانے) کا ذکر ہے اپنے بندہ زکریا علیہ السلام پر۔
۱۔ آیت ۲ میں کس کا ذکر ہے؟
۲۔ آیت ۲ کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیں۔
۱۔ اس میں حضرت زکریا علیہ السلام پر رب کی رحمت کا ذکر ہے۔
۲۔ یہ آپ کے رب کی رحمت فرمانے کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے حضرت زکریا علیہ السلام پر فرمائی۔
سوال 97۔
إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥ نِدَآءً خَفِيّٗا ﴿۳﴾ قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ ٱلۡعَظۡمُ مِنِّي وَٱشۡتَعَلَ ٱلرَّأۡسُ شَيۡبٗا وَلَمۡ أَكُنۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيّٗا ﴿۴﴾ وَإِنِّي خِفۡتُ ٱلۡمَوَٰلِيَ مِن وَرَآءِي وَكَانَتِ ٱمۡرَأَتِي عَاقِرٗا فَهَبۡ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيّٗا ﴿۵﴾ يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنۡ ءَالِ يَعۡقُوبَۖ وَٱجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيّٗا ﴿۶﴾
ترجمہ: جب انھوں نے اپنے رب کو آہستہ آواز سے پکارا۔ انھوں نے عرض کیا اے میرے رب! بے شک میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر شعلہ کی طرح چمکنے لگا اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔ اور بے شک مجھے اپنے بعد اپنے رشتہ داروں (کے دین سے دُور ہونے) کا خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔ جو میرا وارث بنے اور اولادِ یعقوب علیہ السلام کا وارث بنے اور اے میرے رب! اس کو پسندیدہ (انسان) بنا۔
۱۔ آیت ۴ میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے بڑھاپے کے بارے میں کیا عرض کیا؟
۲۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو کس بات کا خوف تھا اور انھوں نے کیا دعا کی؟
۱۔ انھوں نے عرض کیا کہ میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر شعلہ کی طرح چمکنے لگا۔
۲۔ انھیں اپنے بعد رشتہ داروں کے دین سے دور ہونے کا خوف تھا۔ ان کی بیوی بانجھ تھیں، اس لیے انھوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرمائے جو پسندیدہ ہو۔
سوال 98۔
قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ ٱلۡعَظۡمُ مِنِّي وَٱشۡتَعَلَ ٱلرَّأۡسُ شَيۡبٗا وَلَمۡ أَكُنۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيّٗا ﴿۴﴾
ترجمہ: انھوں نے عرض کیا اے میرے رب! بے شک میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر شعلہ کی طرح چمکنے لگا اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
۱۔ یہ دعا کس نبی نے کی؟
۲۔ انھوں نے اپنے رب کے سامنے اپنی کون سی حالت بیان کی؟
۱۔ یہ دعا حضرت زکریا علیہ السلام نے کی۔
۲۔ انھوں نے عرض کیا کہ میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور بڑھاپے کی وجہ سے سر شعلہ کی طرح چمکنے لگا اور اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
سوال 99۔
وَإِنِّي خِفۡتُ ٱلۡمَوَٰلِيَ مِن وَرَآءِي وَكَانَتِ ٱمۡرَأَتِي عَاقِرٗا فَهَبۡ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيّٗا ﴿۵﴾ يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنۡ ءَالِ يَعۡقُوبَۖ وَٱجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيّٗا ﴿۶﴾
ترجمہ: اور بے شک مجھے اپنے بعد اپنے رشتہ داروں (کے دین سے دُور ہونے) کا خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔ جو میرا وارث بنے اور اولادِ یعقوب علیہ السلام کا وارث بنے اور اے میرے رب! اس کو پسندیدہ (انسان) بنا۔
۱۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی کی کیا حالت تھی؟
۲۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا مانگا اور کس بات کا خوف ظاہر کیا؟
۱۔ ان کی بیوی بانجھ تھیں۔
۲۔ انھوں نے اپنے پاس سے ایک وارث مانگا جو ان کا اور اولادِ یعقوب علیہ السلام کا وارث بنے اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ہو۔ انھیں اپنے بعد رشتہ داروں کے دین سے دور ہونے کا خوف تھا۔
سوال 100۔
يَٰزَكَرِيَّآ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ ٱسۡمُهُۥ يَحۡيَىٰ لَمۡ نَجۡعَل لَّهُۥ مِن قَبۡلُ سَمِيّٗا ﴿۷﴾
ترجمہ: (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اے زکریا علیہ السلام! بے شک ہم تمھیں ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہوگا، اس سے پہلے ہم نے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔
۱۔ اللہ تعالیٰ نے کس کی خوش خبری دی اور اس کا نام کیا ہوگا؟
۲۔ اس نام کی کیا خاص بات بتائی گئی؟
۱۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو ایک لڑکے کی خوش خبری دی جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہوگا۔
۲۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔
سوال 101۔
يَٰزَكَرِيَّآ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ ٱسۡمُهُۥ يَحۡيَىٰ لَمۡ نَجۡعَل لَّهُۥ مِن قَبۡلُ سَمِيّٗا ﴿۷﴾ قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَكَانَتِ ٱمۡرَأَتِي عَاقِرٗا وَقَدۡ بَلَغۡتُ مِنَ ٱلۡكِبَرِ عِتِيّٗا ﴿۸﴾ قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞ وَقَدۡ خَلَقۡتُكَ مِن قَبۡلُ وَلَمۡ تَكُ شَيۡـٔٗا ﴿۹﴾
ترجمہ: (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اے زکریا علیہ السلام! بے شک ہم تمھیں ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہوگا، اس سے پہلے ہم نے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔ (زکریا علیہ السلام نے) عرض کیا اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا؟ جب کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا ایسا ہی ہوگا، تمھارے رب نے فرمایا کہ یہ میرے لیے آسان ہے اور میں یقیناً اس سے پہلے تمھیں (بھی) پیدا کر چکا ہوں جب کہ تم کچھ (بھی) نہ تھے۔
۱۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے لڑکے کی خوش خبری پر تعجب کا اظہار کیوں کیا؟
۲۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو کس بیٹے کی خوش خبری ملی اور اس کی کیا خاص بات بتائی گئی؟
۱۔ ان کی بیوی بانجھ تھیں اور وہ خود بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکے تھے۔
۲۔ انھیں بیٹے یحییٰ علیہ السلام کی خوش خبری ملی۔ بتایا گیا کہ اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا گیا۔
سوال 102۔
قَالَ رَبِّ ٱجۡعَل لِّيٓ ءَايَةٗۖ قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَ لَيَالٖ سَوِيّٗا ﴿۱۰﴾ فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنَ ٱلۡمِحۡرَابِ فَأَوۡحَىٰٓ إِلَيۡهِمۡ أَن سَبِّحُواْ بُكۡرَةٗ وَعَشِيّٗا ﴿۱۱﴾ يَٰيَحۡيَىٰ خُذِ ٱلۡكِتَٰبَ بِقُوَّةٖۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحُكۡمَ صَبِيّٗا ﴿۱۲﴾
ترجمہ: (زکریا علیہ السلام نے) عرض کیا اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا تمھاری نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے کلام نہ کر سکو گے مسلسل تین رات تک تندرست ہونے کے باوجود۔ پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو انھیں اشارے سے فرمایا کہ تم صبح و شام (اللہ تعالیٰ کی) تسبیح کرو۔ اے یحییٰ علیہ السلام! کتاب (تورات) کو مضبوطی سے تھام لو اور ہم نے انھیں بچپن ہی میں حکمت (و نبوت) عطا فرمائی۔
۱۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے قوم کو کیا حکم دیا؟
۲۔ حضرت زکریا علیہ السلام کو کیا نشانی دی گئی؟
۱۔ انھوں نے اشارے سے قوم کو صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے کا حکم دیا۔
۲۔ انھیں نشانی دی گئی کہ وہ تندرست ہونے کے باوجود مسلسل تین رات تک لوگوں سے کلام نہ کر سکیں گے۔
سوال 103۔
يَٰيَحۡيَىٰ خُذِ ٱلۡكِتَٰبَ بِقُوَّةٖۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحُكۡمَ صَبِيّٗا ﴿۱۲﴾ وَحَنَانٗا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَوٰةٗۖ وَكَانَ تَقِيّٗا ﴿۱۳﴾ وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَيۡهِ وَلَمۡ يَكُن جَبَّارًا عَصِيّٗا ﴿۱۴﴾
ترجمہ: اے یحییٰ علیہ السلام! کتاب (تورات) کو مضبوطی سے تھام لو اور ہم نے انھیں بچپن ہی میں حکمت (و نبوت) عطا فرمائی۔ اور اپنی طرف سے نرم دلی اور پاکیزگی (عطا فرمائی) اور وہ بڑے پرہیز گار تھے۔ اور اپنے والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے اور وہ سرکش (و) نافرمان نہ تھے۔
۱۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن میں کیا عطا کیا گیا؟
۲۔ ان کی دو صفات لکھیں۔
۱۔ انھیں بچپن ہی میں حکمت (و نبوت) عطا کی گئی۔
۲۔ وہ نرم دل، پاکیزہ، بڑے پرہیز گار اور والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے؛ وہ سرکش اور نافرمان نہ تھے۔ (کوئی سی دو لکھیں۔)
سوال 104۔
وَحَنَانٗا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَوٰةٗۖ وَكَانَ تَقِيّٗا ﴿۱۳﴾ وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَيۡهِ وَلَمۡ يَكُن جَبَّارًا عَصِيّٗا ﴿۱۴﴾ وَسَلَٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيّٗا ﴿۱۵﴾
ترجمہ: اور اپنی طرف سے نرم دلی اور پاکیزگی (عطا فرمائی) اور وہ بڑے پرہیز گار تھے۔ اور اپنے والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے اور وہ سرکش (و) نافرمان نہ تھے۔ سلام ہو ان (یحییٰ علیہ السلام) پر جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ وفات پائیں گے اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔
۱۔ آیت ۱۵ میں حضرت یحییٰ علیہ السلام پر سلامتی کن تین دنوں کی ہے؟
۲۔ آیت ۱۳ اور ۱۴ کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام کی کوئی دو صفات لکھیں۔
۱۔ جس دن وہ پیدا ہوئے، جس دن وہ وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔
۲۔ ۱۔ وہ نرم دل اور پاکیزہ تھے۔ ۲۔ وہ بڑے پرہیز گار اور والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے۔ (کوئی سی دو)
سوال 105۔
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَرۡيَمَ إِذِ ٱنتَبَذَتۡ مِنۡ أَهۡلِهَا مَكَانٗا شَرۡقِيّٗا ﴿۱۶﴾ فَٱتَّخَذَتۡ مِن دُونِهِمۡ حِجَابٗا فَأَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرٗا سَوِيّٗا ﴿۱۷﴾ قَالَتۡ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيّٗا ﴿۱۸﴾
ترجمہ: اور (اے نبی خاتم النبیین) اس کتاب میں مریم (علیہا السلام) کا (بھی) ذکر کیجیے جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہوئیں ایک مشرقی مکان میں۔ پھر انھوں نے ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا۔ پھر ہم نے ان کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا تو وہ ان کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ (مریم علیہا السلام نے) فرمایا بے شک میں تم سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تم (رحمن سے) ڈرنے والے ہو۔
۱۔ آیت ۱۸ میں حضرت مریم علیہا السلام نے فرشتے سے کیا فرمایا؟
۲۔ حضرت مریم علیہا السلام کا واقعہ آیات ۱۶، ۱۷ کی روشنی میں بیان کریں۔
۱۔ انھوں نے فرمایا: میں تم سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تم (رحمن سے) ڈرنے والے ہو۔
۲۔ حضرت مریم علیہا السلام گھر والوں سے الگ ہو کر ایک مشرقی مکان میں گئیں اور لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کے پاس ایک پورے انسان کی شکل میں بھیجا۔
سوال 106۔
قَالَتۡ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيّٗا ﴿۱۸﴾ قَالَ إِنَّمَآ أَنَا۠ رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَٰمٗا زَكِيّٗا ﴿۱۹﴾
ترجمہ: (مریم علیہا السلام نے) فرمایا بے شک میں تم سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تم (رحمن سے) ڈرنے والے ہو۔ (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا بے شک میں آپ کے رب کا بھیجا ہوا ہوں (اس لیے آیا ہوں) تاکہ آپ کو (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔
۱۔ حضرت مریم علیہا السلام نے کس کی پناہ مانگی؟
۲۔ فرشتے نے اپنے آنے کی کیا وجہ بتائی؟
۱۔ حضرت مریم علیہا السلام نے رحمن کی پناہ مانگی۔
۲۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ میں آپ کے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ آپ کو (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔
سوال 107۔
قَالَتۡ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٞ وَلَمۡ أَكُ بَغِيّٗا ﴿۲۰﴾ قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞۖ وَلِنَجۡعَلَهُۥٓ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِ وَرَحۡمَةٗ مِّنَّاۚ وَكَانَ أَمۡرٗا مَّقۡضِيّٗا ﴿۲۱﴾
ترجمہ: (مریم علیہا السلام نے) فرمایا میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار رہی ہوں۔ (جبرائیل علیہ السلام نے) کہا یوں ہی ہے، آپ کے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے تاکہ ہم اسے اپنی طرف سے لوگوں کے لیے ایک نشانی اور رحمت بنائیں اور یہ ایک طے شدہ بات ہے۔
۱۔ حضرت مریم علیہا السلام کو کس بات پر تعجب ہوا؟
۲۔ فرشتے نے جواب میں اللہ تعالیٰ کا کیا فرمان سنایا؟
۱۔ انھیں اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے، جب کہ انھیں کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور وہ بدکار نہیں رہیں۔
۲۔ فرشتے نے کہا: یوں ہی ہے، آپ کے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی اور رحمت بنائیں گے۔
سوال 108۔
۞فَحَمَلَتۡهُ فَٱنتَبَذَتۡ بِهِۦ مَكَانٗا قَصِيّٗا ﴿۲۲﴾ فَأَجَآءَهَا ٱلۡمَخَاضُ إِلَىٰ جِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ قَالَتۡ يَٰلَيۡتَنِي مِتُّ قَبۡلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسۡيٗا مَّنسِيّٗا ﴿۲۳﴾ فَنَادَىٰهَا مِن تَحۡتِهَآ أَلَّا تَحۡزَنِي قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيّٗا ﴿۲۴﴾
ترجمہ: پھر ان کو اس (بچے) کا حمل ہوگیا تو وہ اسے لے کر ایک دُور جگہ چلی گئیں۔ پھر دردِ زہ انھیں لے آیا کھجور کے تنے کی طرف، وہ کہنے لگیں اے کاش! میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں بھولی بسری ہو جاتی۔ پھر اس (فرشتے) نے انھیں ان (کی وادی) کے نشیب سے پکارا کہ غم نہ کیجیے، آپ کے رب نے آپ کے نیچے سے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔
۱۔ آیت ۲۳ میں دردِ زہ کے وقت حضرت مریم علیہا السلام نے کیا فرمایا؟
۲۔ آیت ۲۴ میں فرشتے نے کیا تسلی دی؟
۱۔ انھوں نے فرمایا: اے کاش! میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں بھولی بسری ہو جاتی۔
۲۔ فرشتے نے کہا کہ غم نہ کیجیے، آپ کے رب نے آپ کے نیچے سے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔
سوال 109۔
فَنَادَىٰهَا مِن تَحۡتِهَآ أَلَّا تَحۡزَنِي قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيّٗا ﴿۲۴﴾ وَهُزِّيٓ إِلَيۡكِ بِجِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ تُسَٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبٗا جَنِيّٗا ﴿۲۵﴾ فَكُلِي وَٱشۡرَبِي وَقَرِّي عَيۡنٗاۖ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ ٱلۡبَشَرِ أَحَدٗا فَقُولِيٓ إِنِّي نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمَٰنِ صَوۡمٗا فَلَنۡ أُكَلِّمَ ٱلۡيَوۡمَ إِنسِيّٗا ﴿۲۶﴾
ترجمہ: پھر اس (فرشتے) نے انھیں ان (کی وادی) کے نشیب سے پکارا کہ غم نہ کیجیے، آپ کے رب نے آپ کے نیچے سے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلائیے، یہ (درخت) آپ پر تازہ کھجوریں گرا دے گا۔ پھر آپ کھائیں اور پئیں اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھیں۔ پھر اگر آپ کسی انسان کو دیکھیں تو (اشارے سے) کہہ دیں کہ میں نے رحمان کے لیے (نہ بولنے کے) روزے کی نذر مان رکھی ہے، لہٰذا میں آج ہرگز کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔
۱۔ فرشتے نے حضرت مریم علیہا السلام کو کیا تسلی دی؟
۲۔ حضرت مریم علیہا السلام کو کھجور کے تنے اور لوگوں کے بارے میں کیا ہدایت ملی؟
۱۔ فرشتے نے کہا کہ غم نہ کیجیے، آپ کے رب نے آپ کے نیچے سے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔
۲۔ کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلائیں، وہ تازہ کھجوریں گرائے گا؛ کھائیں، پئیں اور آنکھیں ٹھنڈی رکھیں۔ اگر کسی انسان کو دیکھیں تو اشارے سے کہہ دیں کہ میں نے رحمان کے لیے نہ بولنے کے روزے کی نذر مان رکھی ہے۔
سوال 110۔
فَأَتَتۡ بِهِۦ قَوۡمَهَا تَحۡمِلُهُۥۖ قَالُواْ يَٰمَرۡيَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـٔٗا فَرِيّٗا ﴿۲۷﴾ يَـٰٓأُخۡتَ هَٰرُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ ٱمۡرَأَ سَوۡءٖ وَمَا كَانَتۡ أُمُّكِ بَغِيّٗا ﴿۲۸﴾ فَأَشَارَتۡ إِلَيۡهِۖ قَالُواْ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي ٱلۡمَهۡدِ صَبِيّٗا ﴿۲۹﴾
ترجمہ: پھر وہ اس (بچے) کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں۔ انھوں نے کہا اے مریم علیہا السلام! یقیناً تم تو بڑی عجیب چیز لائی ہو۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تمھارے والد برے آدمی تھے اور نہ ہی تمھاری والدہ بدکار تھیں۔ تو انھوں نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کیا۔ وہ سب بولے ہم کیسے بات کریں (اس سے) جو گہوارے میں (پڑا ہوا) ایک بچہ ہے؟
۱۔ قوم کے الفاظ کا کیا مطلب تھا؟
۲۔ قوم نے حضرت مریم علیہا السلام سے کیا کہا؟
۱۔ مطلب یہ تھا کہ تمھارا خاندان نیک ہے، اس لیے تم سے ایسی بات کی توقع نہ تھی۔
۲۔ قوم نے کہا: اے مریم علیہا السلام! تم تو بڑی عجیب چیز لائی ہو۔ نہ تمھارے والد برے آدمی تھے اور نہ تمھاری والدہ بدکار تھیں۔
سوال 111۔
قَالَ إِنِّي عَبۡدُ ٱللَّهِ ءَاتَىٰنِيَ ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلَنِي نَبِيّٗا ﴿۳۰﴾ وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيۡنَ مَا كُنتُ وَأَوۡصَٰنِي بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ مَا دُمۡتُ حَيّٗا ﴿۳۱﴾
ترجمہ: وہ (بچہ) بول اٹھا بے شک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ اور مجھے بابرکت بنایا جہاں بھی میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا جب تک میں زندہ رہوں۔
۱۔ یہ کلام کس نے کیا اور کس حالت میں؟
۲۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں کن دو چیزوں کا حکم دیا؟
۱۔ یہ کلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گہوارے (گود) میں ایک بچے کی حالت میں کیا۔
۲۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا جب تک وہ زندہ رہیں۔
سوال 112۔
قَالَ إِنِّي عَبۡدُ ٱللَّهِ ءَاتَىٰنِيَ ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلَنِي نَبِيّٗا ﴿۳۰﴾ وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيۡنَ مَا كُنتُ وَأَوۡصَٰنِي بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ مَا دُمۡتُ حَيّٗا ﴿۳۱﴾ وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَتِي وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِي جَبَّارٗا شَقِيّٗا ﴿۳۲﴾ وَٱلسَّلَٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدتُّ وَيَوۡمَ أَمُوتُ وَيَوۡمَ أُبۡعَثُ حَيّٗا ﴿۳۳﴾
ترجمہ: وہ (بچہ) بول اٹھا بے شک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ اور مجھے بابرکت بنایا جہاں بھی میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا جب تک میں زندہ رہوں۔ اور اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور اس نے مجھے سرکش (و) نافرمان نہیں بنایا۔ اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں وفات پاؤں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔
۱۔ اس گفتگو سے حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں کیا بات ثابت ہوئی؟
۲۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گہوارے میں اپنے بارے میں کیا اعلان فرمایا؟
۱۔ یہ گفتگو ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کی پاک دامنی کی گواہی تھی۔
۲۔ انھوں نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے، مجھے نبی بنایا ہے اور جہاں بھی میں ہوں مجھے بابرکت بنایا ہے۔
سوال 113۔
ذَٰلِكَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَۖ قَوۡلَ ٱلۡحَقِّ ٱلَّذِي فِيهِ يَمۡتَرُونَ ﴿۳۴﴾ مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٖۖ سُبۡحَٰنَهُۥٓۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ﴿۳۵﴾ وَإِنَّ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُوهُۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ ﴿۳۶﴾ فَٱخۡتَلَفَ ٱلۡأَحۡزَابُ مِنۢ بَيۡنِهِمۡۖ فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن مَّشۡهَدِ يَوۡمٍ عَظِيمٍ ﴿۳۷﴾
ترجمہ: یہ مریم (علیہا السلام) کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں، یہی سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے، وہ پاک ہے اس سے، جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتی ہے۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ میرا اور تمھارا رب ہے، تو اسی کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ پھر مختلف جماعتیں آپس میں اختلاف میں پڑگئیں تو ان لوگوں کے لیے تباہی ہے جنھوں نے انکار کیا ایک بڑے دن کی حاضری سے۔
۱۔ آیت ۳۶ میں سیدھا راستہ کیا بتایا گیا ہے؟
۲۔ آیت ۳۵ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی شان بیان کریں۔
۱۔ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا رب ہے، اس لیے اسی کی عبادت کرنا سیدھا راستہ ہے۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے، وہ اس سے پاک ہے۔ وہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو فرماتا ہے «ہوجا» تو وہ ہو جاتی ہے۔
سوال 114۔
مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٖۖ سُبۡحَٰنَهُۥٓۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ﴿۳۵﴾
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے، وہ پاک ہے اس سے، جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتی ہے۔
۱۔ اللہ تعالیٰ کی کیا شان نہیں ہے؟
۲۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو کیا فرماتا ہے؟
۱۔ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے؛ وہ پاک ہے۔
۲۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ «ہوجا» تو وہ ہو جاتی ہے۔
سوال 115۔
أَسۡمِعۡ بِهِمۡ وَأَبۡصِرۡ يَوۡمَ يَأۡتُونَنَا لَٰكِنِ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٱلۡيَوۡمَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ﴿۳۸﴾ وَأَنذِرۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡحَسۡرَةِ إِذۡ قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ وَهُمۡ فِي غَفۡلَةٖ وَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ﴿۳۹﴾ إِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ ٱلۡأَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَإِلَيۡنَا يُرۡجَعُونَ ﴿۴۰﴾
ترجمہ: کیا خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے لیکن آج ظالم لوگ واضح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور آپ ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب (ہر) کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ لوگ (آج دنیا میں) غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے۔ بے شک ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور جو اس کے اوپر ہے اور ہماری ہی طرف وہ لوٹائے جائیں گے۔
۱۔ حسرت کے دن کے بارے میں آیت ۳۹ کیا بتاتی ہے؟
۲۔ آیت ۳۹ کے مطابق لوگوں کی دنیا میں کیا حالت ہے؟
۱۔ اس دن ہر کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
۲۔ وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
سوال 116۔
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِبۡرَٰهِيمَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقٗا نَّبِيًّا ﴿۴۱﴾ إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِي عَنكَ شَيۡـٔٗا ﴿۴۲﴾ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّي قَدۡ جَآءَنِي مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَأۡتِكَ فَٱتَّبِعۡنِيٓ أَهۡدِكَ صِرَٰطٗا سَوِيّٗا ﴿۴۳﴾
ترجمہ: اور آپ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے، بے شک وہ بڑے سچے نبی تھے۔ جب انھوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ! تو ان چیزوں کی کیوں پوجا کرتا ہے جو نہ سنتی ہیں اور نہ دیکھتی ہیں اور نہ ہی وہ تیرے کچھ کام آ سکتی ہیں؟ اے میرے باپ! بے شک میرے پاس وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، پس تو میری پیروی کر میں تیری سیدھے راستہ کی طرف رہ نمائی کروں گا۔
۱۔ آیت ۴۳ میں انھوں نے اپنی دعوت کی کیا دلیل دی؟
۲۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے والد سے کیا سوال کیا؟
۱۔ انھوں نے کہا کہ میرے پاس وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا۔
۲۔ انھوں نے کہا کہ اے میرے باپ! تو ان چیزوں کی کیوں پوجا کرتا ہے جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ تیرے کچھ کام آ سکتی ہیں؟
سوال 117۔
إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِي عَنكَ شَيۡـٔٗا ﴿۴۲﴾ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّي قَدۡ جَآءَنِي مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَأۡتِكَ فَٱتَّبِعۡنِيٓ أَهۡدِكَ صِرَٰطٗا سَوِيّٗا ﴿۴۳﴾
ترجمہ: جب انھوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ! تو ان چیزوں کی کیوں پوجا کرتا ہے جو نہ سنتی ہیں اور نہ دیکھتی ہیں اور نہ ہی وہ تیرے کچھ کام آ سکتی ہیں؟ اے میرے باپ! بے شک میرے پاس وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، پس تو میری پیروی کر میں تیری سیدھے راستہ کی طرف رہ نمائی کروں گا۔
۱۔ یہ بات کس نے کس سے کہی؟
۲۔ اس نے کن چیزوں کی پوجا پر اعتراض کیا اور اپنی کون سی دلیل پیش کی؟
۱۔ یہ بات حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کہی۔
۲۔ انھوں نے کہا کہ تو ان چیزوں کی پوجا کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ کام آ سکتی ہیں۔ دلیل یہ دی کہ میرے پاس وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، اس لیے میری پیروی کر، میں تجھے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کروں گا۔
سوال 118۔
يَـٰٓأَبَتِ لَا تَعۡبُدِ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمَٰنِ عَصِيّٗا ﴿۴۴﴾ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٞ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيۡطَٰنِ وَلِيّٗا ﴿۴۵﴾
ترجمہ: اے میرے باپ! تو شیطان کی پوجا نہ کر، بے شک شیطان رحمن کا بڑا ہی نافرمان ہے۔ اے میرے باپ! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمان کا کوئی عذاب پہنچے پھر تو (عذاب میں) شیطان کا ساتھی ہو جائے۔
۱۔ آیت ۴۴ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے والد کو کیا نصیحت کی؟
۲۔ آیت ۴۵ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کیا خوف تھا؟
۱۔ تو شیطان کی پوجا نہ کر، بے شک شیطان رحمن کا بڑا ہی نافرمان ہے۔
۲۔ انھیں خوف تھا کہ والد کو رحمان کا کوئی عذاب پہنچے اور وہ شیطان کے ساتھی ہو جائیں۔
سوال 119۔
قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنۡ ءَالِهَتِي يَـٰٓإِبۡرَٰهِيمُۖ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ لَأَرۡجُمَنَّكَۖ وَٱهۡجُرۡنِي مَلِيّٗا ﴿۴۶﴾ قَالَ سَلَٰمٌ عَلَيۡكَۖ سَأَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ بِي حَفِيّٗا ﴿۴۷﴾
ترجمہ: (آزر نے) کہا اے ابراہیم علیہ السلام! کیا تم میرے معبودوں سے منہ پھیرتے ہو؟ اگر تم (اس کام سے) باز نہ آئے تو میں تمھیں ضرور رجم کر دوں گا اور تم ہمیشہ کے لیے مجھ سے دُور ہو جاؤ۔ (ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا (بس) تجھ پر سلام، میں عنقریب اپنے رب سے تیرے لیے بخشش مانگوں گا، بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔
۱۔ آزر نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کیا دھمکی دی؟
۲۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا جواب دیا؟
۱۔ آزر نے کہا کہ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمھیں ضرور رجم کر دوں گا اور تم ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جاؤ۔
۲۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: تجھ پر سلام، میں عنقریب اپنے رب سے تیرے لیے بخشش مانگوں گا، بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔
سوال 120۔
وَأَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَأَدۡعُواْ رَبِّي عَسَىٰٓ أَلَّآ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّي شَقِيّٗا ﴿۴۸﴾ فَلَمَّا ٱعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۖ وَكُلّٗا جَعَلۡنَا نَبِيّٗا ﴿۴۹﴾ وَوَهَبۡنَا لَهُم مِّن رَّحۡمَتِنَا وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيّٗا ﴿۵۰﴾
ترجمہ: اور میں تم لوگوں سے الگ ہوتا ہوں اور اُن سے بھی جنھیں تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو اور میں اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی کر کے محروم نہ رہوں گا۔ پھر جب وہ (ابراہیم علیہ السلام) ان سے الگ ہوگئے اور اُن (بتوں) سے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے، ہم نے ان کو اسحاق علیہ السلام (بیٹا) اور یعقوب علیہ السلام (پوتا) عطا کیے اور ہم نے ان سب کو نبی بنایا۔ اور ہم نے ان کو اپنی رحمت عطا فرمائی اور ہم نے ان کا ذکرِ خیر بہت بلند فرما دیا۔
۱۔ آیت ۴۹ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں کیا عطا فرمایا؟
۲۔ آیت ۴۸ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا اعلان فرمایا؟
۱۔ اسحاق علیہ السلام (بیٹا) اور یعقوب علیہ السلام (پوتا) عطا کیے اور سب کو نبی بنایا۔
۲۔ انھوں نے اعلان کیا کہ میں تم لوگوں سے اور ان سے جنھیں تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو الگ ہوتا ہوں اور اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا۔
سوال 121۔
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مُوسَىٰٓۚ إِنَّهُۥ كَانَ مُخۡلَصٗا وَكَانَ رَسُولٗا نَّبِيّٗا ﴿۵۱﴾ وَنَٰدَيۡنَٰهُ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ ٱلۡأَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنَٰهُ نَجِيّٗا ﴿۵۲﴾ وَوَهَبۡنَا لَهُۥ مِن رَّحۡمَتِنَآ أَخَاهُ هَٰرُونَ نَبِيّٗا ﴿۵۳﴾
ترجمہ: اور آپ اس کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کیجیے، بے شک وہ خاص (بندے) تھے اور رسول (اور) نبی تھے۔ اور ہم نے انھیں طور (پہاڑ) کی دائیں جانب سے پکارا اور راز کی بات کہنے کے لیے انھیں اپنے قریب کیا۔ اور ہم نے انھیں اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر عطا فرمایا۔
۱۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صفات لکھیں۔
۲۔ آیت ۵۲ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی کیا مہربانی بیان ہوئی؟
۱۔ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے، رسول اور نبی تھے۔
۲۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں طور کی دائیں جانب سے پکارا اور راز کی بات کہنے کے لیے اپنے قریب کیا۔
سوال 122۔
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِسۡمَٰعِيلَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صَادِقَ ٱلۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُولٗا نَّبِيّٗا ﴿۵۴﴾ وَكَانَ يَأۡمُرُ أَهۡلَهُۥ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِۦ مَرۡضِيّٗا ﴿۵۵﴾
ترجمہ: اور آپ اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیے، بے شک وہ وعدہ کے سچے تھے اور رسول (اور) نبی تھے۔ اور وہ اپنے گھر والوں کو (خاص طور پر) حکم دیا کرتے تھے نماز اور زکوٰۃ کا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھے۔
۱۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے گھر والوں کو کیا حکم دیتے تھے؟
۲۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دو صفات لکھیں۔
۱۔ وہ اپنے گھر والوں کو خاص طور پر نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے۔
۲۔ ۱۔ وہ وعدے کے سچے اور رسول و نبی تھے۔ ۲۔ وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھے۔ (کوئی سی دو)
سوال 123۔
وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِدۡرِيسَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقٗا نَّبِيّٗا ﴿۵۶﴾ وَرَفَعۡنَٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا ﴿۵۷﴾ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوحٖ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡرَـٰٓءِيلَ وَمِمَّنۡ هَدَيۡنَا وَٱجۡتَبَيۡنَآۚ إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُ ٱلرَّحۡمَٰنِ خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَبُكِيّٗا۩ ﴿۵۸﴾
ترجمہ: اور آپ اس کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے، بے شک وہ بڑے سچے نبی تھے۔ اور ہم نے انھیں بلند مرتبہ تک پہنچایا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا انبیاء (علیہم السلام) میں سے (اور) آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اور ان میں سے جنھیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم (علیہ السلام) اور اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) کی اولاد میں سے اور ان میں سے جنھیں ہم نے ہدایت دی اور ہم نے پسند فرمایا۔ جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے تھے۔
۱۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں کیا بتایا گیا؟
۲۔ آیت ۵۸ میں انعام یافتہ بندے کن کی اولاد میں سے بتائے گئے؟
۱۔ وہ بڑے سچے نبی تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بلند مرتبہ تک پہنچایا۔
۲۔ وہ آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے، نوح علیہ السلام کے ساتھ سوار ہونے والوں میں سے اور ابراہیم علیہ السلام اور اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔
سوال 124۔
۞فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ أَضَاعُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّبَعُواْ ٱلشَّهَوَٰتِۖ فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا ﴿۵۹﴾ إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا ﴿۶۰﴾
ترجمہ: پھر ان کے بعد ایسے ناخلف (نااہل) جانشین ہوئے جنھوں نے نماز کو ضائع کیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی، تو وہ عنقریب گمراہی (کے انجام) سے دوچار ہوں گے۔ سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا، تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کچھ (بھی) ظلم نہیں کیا جائے گا۔
۱۔ ناخلف جانشینوں نے کیا کیا؟
۲۔ ان میں سے کون جنت میں داخل ہوگا؟
۱۔ انھوں نے نماز کو ضائع کیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی، تو وہ عنقریب گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔
۲۔ جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا، وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
سوال 125۔
جَنَّـٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ عِبَادَهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ إِنَّهُۥ كَانَ وَعۡدُهُۥ مَأۡتِيّٗا ﴿۶۱﴾ لَّا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوًا إِلَّا سَلَٰمٗاۖ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيهَا بُكۡرَةٗ وَعَشِيّٗا ﴿۶۲﴾ تِلۡكَ ٱلۡجَنَّةُ ٱلَّتِي نُورِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيّٗا ﴿۶۳﴾
ترجمہ: ہمیشہ رہنے والے دائمی باغات میں (رہیں گے)، جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے، بے شک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ وہ اس میں کوئی بے کار بات نہیں سنیں گے، صرف سلام (سنیں گے) اور اس میں ان کے لیے ان کا رزق صبح و شام ہوگا۔ یہی وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے بنائیں گے اس کو جو پرہیز گار رہا۔
۱۔ آیت ۶۱ میں جنت کے بارے میں کیا بتایا گیا؟
۲۔ آیت ۶۲ میں جنت کی دو خصوصیات لکھیں۔
۱۔ جنت ہمیشہ رہنے والے دائمی باغات ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے اور اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔
۲۔ ۱۔ وہاں کوئی بے کار بات نہیں ہوگی، صرف سلام سنیں گے۔ ۲۔ رزق صبح و شام ملے گا۔
سوال 126۔
وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمۡرِ رَبِّكَۖ لَهُۥ مَا بَيۡنَ أَيۡدِينَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَيۡنَ ذَٰلِكَۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيّٗا ﴿۶۴﴾ رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا فَٱعۡبُدۡهُ وَٱصۡطَبِرۡ لِعِبَٰدَتِهِۦۚ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهُۥ سَمِيّٗا ﴿۶۵﴾ وَيَقُولُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَءِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ أُخۡرَجُ حَيًّا ﴿۶۶﴾ أَوَلَا يَذۡكُرُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقۡنَٰهُ مِن قَبۡلُ وَلَمۡ يَكُ شَيۡـٔٗا ﴿۶۷﴾
ترجمہ: اور ہم (فرشتے) آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے، (سب) اسی کا ہے جو (کچھ) ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ (وہ) رب ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے، تو آپ اسی کی عبادت کیجیے اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہیے، کیا آپ اس کا کوئی (اور بھی) ہم نام جانتے ہیں۔ اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟ کیا انسان کو یہ یاد نہیں کہ بے شک اس سے پہلے ہم نے اسے پیدا کیا جب کہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
۱۔ آیت ۶۴ میں فرشتے اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
۲۔ انسان کے سوال «کیا مرنے کے بعد زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟» کا اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا؟
۱۔ فرشتے کہتے ہیں کہ ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔
۲۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا اسے یاد نہیں کہ ہم نے اسے پہلے پیدا کیا جب کہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟ (جو پہلے پیدا کر سکتا ہے وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے۔)
سوال 127۔
وَيَقُولُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَءِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ أُخۡرَجُ حَيًّا ﴿۶۶﴾ أَوَلَا يَذۡكُرُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقۡنَٰهُ مِن قَبۡلُ وَلَمۡ يَكُ شَيۡـٔٗا ﴿۶۷﴾
ترجمہ: اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟ کیا انسان کو یہ یاد نہیں کہ بے شک اس سے پہلے ہم نے اسے پیدا کیا جب کہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
۱۔ انسان کیا کہتا ہے؟
۲۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں اسے کیا یاد دلایا؟
۱۔ انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟
۲۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا انسان کو یاد نہیں کہ ہم نے اسے پہلے پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھا؟
سوال 128۔
فَوَرَبِّكَ لَنَحۡشُرَنَّهُمۡ وَٱلشَّيَٰطِينَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَنَّمَ جِثِيّٗا ﴿۶۸﴾ ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمۡ أَشَدُّ عَلَى ٱلرَّحۡمَٰنِ عِتِيّٗا ﴿۶۹﴾ ثُمَّ لَنَحۡنُ أَعۡلَمُ بِٱلَّذِينَ هُمۡ أَوۡلَىٰ بِهَا صِلِيّٗا ﴿۷۰﴾
ترجمہ: تو آپ کے رب کی قسم! ہم انھیں اور شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے، پھر یقیناً ہم ان سب کو حاضر کریں گے جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے۔ پھر ہم ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو ضرور کھینچ کر نکالیں گے جو رحمان کے خلاف زیادہ سخت سرکش تھے۔ پھر یقیناً ہم خوب جانتے ہیں ان کو جو اس (جہنم) میں جھونکے جانے کے زیادہ حق دار ہیں۔
۱۔ آیت ۶۹ میں کن لوگوں کو کھینچ کر نکالا جائے گا؟
۲۔ آیت ۶۸ میں قیامت کے دن لوگوں کے جمع کیے جانے کا کیا بیان ہے؟
۱۔ ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو جو رحمان کے خلاف زیادہ سخت سرکش تھے۔
۲۔ اللہ تعالیٰ انھیں اور شیطانوں کو ضرور جمع کرے گا، پھر ان سب کو جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کرے گا۔
سوال 129۔
وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتۡمٗا مَّقۡضِيّٗا ﴿۷۱﴾ ثُمَّ نُنَجِّي ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْ وَّنَذَرُ ٱلظَّـٰلِمِينَ فِيهَا جِثِيّٗا ﴿۷۲﴾
ترجمہ: اور تم میں سے ہر ایک اس (جہنم) پر سے گزرنے والا ہے، یہ آپ کے رب کا حتمی فیصلہ ہے۔ پھر ہم پرہیز گاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔
۱۔ آیت ۷۱ میں تم میں سے ہر ایک کے بارے میں کیا بتایا گیا؟
۲۔ آیت ۷۲ میں پرہیز گاروں اور ظالموں کا انجام لکھیں۔
۱۔ ہر ایک جہنم پر سے گزرنے والا ہے، یہ آپ کے رب کا حتمی فیصلہ ہے۔
۲۔ اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کو نجات دے گا اور ظالموں کو جہنم میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دے گا۔
سوال 130۔
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ خَيۡرٞ مَّقَامٗا وَأَحۡسَنُ نَدِيّٗا ﴿۷۳﴾ وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّن قَرۡنٍ هُمۡ أَحۡسَنُ أَثَٰثٗا وَرِءۡيٗا ﴿۷۴﴾
ترجمہ: اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو جنھوں نے انکار کیا وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں گروہوں میں سے کون مقام کے اعتبار سے بہتر ہے اور مجلس کے اعتبار سے اچھا ہے۔ اور ہم ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چکے ہیں جو سازو سامان اور نمود و نمائش میں (ان سے کہیں) اچھی تھیں۔
۱۔ آیت ۷۳ میں انکار کرنے والوں نے مومنوں سے کیا کہا؟
۲۔ اللہ تعالیٰ نے آیت ۷۴ میں اس کا کیا جواب دیا؟
۱۔ انھوں نے کہا کہ دونوں گروہوں میں سے کون مقام کے اعتبار سے بہتر اور مجلس کے اعتبار سے اچھا ہے؟
۲۔ فرمایا کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چکے ہیں جو سازو سامان اور نمود و نمائش میں ان سے کہیں اچھی تھیں۔
سوال 131۔
قُلۡ مَن كَانَ فِي ٱلضَّلَٰلَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ مَدًّاۚ حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوۡاْ مَا يُوعَدُونَ إِمَّا ٱلۡعَذَابَ وَإِمَّا ٱلسَّاعَةَ فَسَيَعۡلَمُونَ مَنۡ هُوَ شَرّٞ مَّكَانٗا وَأَضۡعَفُ جُندٗا ﴿۷۵﴾ وَيَزِيدُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ٱهۡتَدَوۡاْ هُدٗىۗ وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّـٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابٗا وَخَيۡرٞ مَّرَدًّا ﴿۷۶﴾
ترجمہ: آپ فرما دیجیے جو شخص گمراہی میں مبتلا ہو تو رحمان بھی اسے ڈھیل دیتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے جس کا اُن سے وعدہ کیا جاتا ہے (یعنی) عذاب یا قیامت کو، پھر عنقریب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ کون ہے برے مقام والا اور کس کا گروہ کمزور ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بڑھاتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت کو اور باقی رہنے والی نیکیاں جو آپ کے رب کے نزدیک ثواب میں بہتر ہیں اور انجام کے اعتبار سے (بھی) بہت اچھی ہیں۔
۱۔ آیت ۷۵ میں گمراہ شخص کے ساتھ رحمان کا کیا معاملہ بیان ہوا؟
۲۔ آیت ۷۶ میں اللہ تعالیٰ نے کن چیزوں کو بہتر فرمایا؟
۱۔ رحمان اسے ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ وہ عذاب یا قیامت کو دیکھ لیں، پھر انھیں معلوم ہو جائے گا کہ برے مقام والا کون ہے اور کس کا گروہ کمزور ہے۔
۲۔ باقی رہنے والی نیکیاں رب کے نزدیک ثواب میں بہتر ہیں اور انجام کے اعتبار سے بھی بہت اچھی ہیں۔
سوال 132۔
أَفَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي كَفَرَ بِـَٔايَٰتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالٗا وَوَلَدًا ﴿۷۷﴾ أَطَّلَعَ ٱلۡغَيۡبَ أَمِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا ﴿۷۸﴾ كَلَّاۚ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُۥ مِنَ ٱلۡعَذَابِ مَدّٗا ﴿۷۹﴾
ترجمہ: کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دیا جائے گا۔ کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟ ہرگز (ایسا) نہیں (ہے)! ہم عنقریب اسے لکھ لیں گے جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اور ہم اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔
۱۔ آیات کا انکار کرنے والے شخص نے کیا کہا؟
۲۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں کیا فرمایا؟
۱۔ اس نے کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دیا جائے گا۔
۲۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے یا رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟ ہرگز نہیں! ہم عنقریب اس کی بات لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔
سوال 133۔
أَفَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي كَفَرَ بِـَٔايَٰتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالٗا وَوَلَدًا ﴿۷۷﴾ أَطَّلَعَ ٱلۡغَيۡبَ أَمِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا ﴿۷۸﴾ كَلَّاۚ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُۥ مِنَ ٱلۡعَذَابِ مَدّٗا ﴿۷۹﴾ وَنَرِثُهُۥ مَا يَقُولُ وَيَأۡتِينَا فَرۡدٗا ﴿۸۰﴾
ترجمہ: کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دیا جائے گا۔ کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟ ہرگز (ایسا) نہیں (ہے)! ہم عنقریب اسے لکھ لیں گے جو کچھ وہ کہہ رہا ہے اور ہم اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔ اور ہم اس کے وارث ہوں گے جو وہ کہتا ہے اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔
۱۔ آیت ۷۷ میں انکار کرنے والے شخص نے کیا کہا؟
۲۔ آیت ۷۸ میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے کون سے دو سوال فرمائے؟
۱۔ اس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دیا جائے گا۔
۲۔ ۱۔ کیا اس نے غیب کی خبر پا لی ہے؟ ۲۔ کیا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟
سوال 134۔
وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِهَةٗ لِّيَكُونُواْ لَهُمۡ عِزّٗا ﴿۸۱﴾ كَلَّاۚ سَيَكۡفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمۡ وَيَكُونُونَ عَلَيۡهِمۡ ضِدًّا ﴿۸۲﴾ أَلَمۡ تَرَ أَنَّآ أَرۡسَلۡنَا ٱلشَّيَٰطِينَ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ تَؤُزُّهُمۡ أَزّٗا ﴿۸۳﴾
ترجمہ: اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا لیے تاکہ وہ ان کے لیے باعثِ عزت ہوں۔ ہرگز (ایسا) نہیں (ہے)! عنقریب یہ معبود خود ہی اُن کی پوجا سے انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہو جائیں گے۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے جو انھیں خوب اُکساتے رہتے ہیں۔
۱۔ آیت ۸۳ میں شیطانوں کے بارے میں کیا فرمایا گیا؟
۲۔ آیت ۸۱ اور ۸۲ میں جھوٹے معبودوں کا کیا انجام بتایا گیا؟
۱۔ اللہ تعالیٰ نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے جو انھیں خوب اکساتے رہتے ہیں۔
۲۔ انھوں نے عزت کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنائے مگر وہ خود ان کی پوجا سے انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہو جائیں گے۔
سوال 135۔
فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمۡ عَدّٗا ﴿۸۴﴾ يَوۡمَ نَحۡشُرُ ٱلۡمُتَّقِينَ إِلَى ٱلرَّحۡمَٰنِ وَفۡدٗا ﴿۸۵﴾ وَنَسُوقُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرۡدٗا ﴿۸۶﴾ لَّا يَمۡلِكُونَ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَنِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا ﴿۸۷﴾
ترجمہ: تو آپ ان کے لیے (عذاب کی) جلدی نہ کریں، ہم خود ہی ان کے دن گن رہے ہیں۔ جس دن ہم پرہیز گاروں کو رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے۔ اور ہم مجرموں کو ہانک کر لے جائیں گے جہنم کی طرف پیاسے (جان وروں کی طرح)۔ کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے اس کے جس نے رحمان سے عہد لیا ہو۔
۱۔ آیت ۸۴ میں نبی کو کیا ہدایت دی گئی؟
۲۔ آیات ۸۵ اور ۸۶ میں پرہیز گاروں اور مجرموں کے انجام میں کیا فرق ہے؟
۱۔ کافروں کے لیے عذاب کی جلدی نہ کریں، اللہ تعالیٰ خود ان کے دن گن رہا ہے۔
۲۔ پرہیز گاروں کو رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کیا جائے گا، جب کہ مجرموں کو پیاسے جان وروں کی طرح ہانک کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
سوال 136۔
يَوۡمَ نَحۡشُرُ ٱلۡمُتَّقِينَ إِلَى ٱلرَّحۡمَٰنِ وَفۡدٗا ﴿۸۵﴾ وَنَسُوقُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرۡدٗا ﴿۸۶﴾
ترجمہ: جس دن ہم پرہیز گاروں کو رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے۔ اور ہم مجرموں کو ہانک کر لے جائیں گے جہنم کی طرف پیاسے (جان وروں کی طرح)۔
۱۔ پرہیز گاروں کو اللہ تعالیٰ کس حیثیت سے جمع کرے گا؟
۲۔ مجرموں کو کس طرح لے جایا جائے گا؟
۱۔ پرہیز گاروں کو رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کیا جائے گا۔
۲۔ مجرموں کو پیاسے (جان وروں کی طرح) ہانک کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
سوال 137۔
وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَلَدٗا ﴿۸۸﴾ لَّقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔا إِدّٗا ﴿۸۹﴾ تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ وَتَنشَقُّ ٱلۡأَرۡضُ وَتَخِرُّ ٱلۡجِبَالُ هَدًّا ﴿۹۰﴾
ترجمہ: اور وہ کہتے ہیں رحمن نے بیٹا بنایا ہے۔ یقیناً تم بہت بھاری بات (زبان پر) لائے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان اس (بات) سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیں۔
۱۔ آیات ۸۸، ۸۹ میں لوگوں کی کون سی بات کو بھاری فرمایا گیا؟
۲۔ آیت ۹۰ میں اس بات کے اثرات لکھیں۔
۱۔ لوگوں کی اس بات کو کہ رحمن نے بیٹا بنایا ہے، بہت بھاری بات فرمایا گیا۔
۲۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیں۔
سوال 138۔
أَن دَعَوۡاْ لِلرَّحۡمَٰنِ وَلَدٗا ﴿۹۱﴾ وَمَا يَنۢبَغِي لِلرَّحۡمَٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا ﴿۹۲﴾ إِن كُلُّ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ إِلَّآ ءَاتِي ٱلرَّحۡمَٰنِ عَبۡدٗا ﴿۹۳﴾
ترجمہ: (اس لیے) کہ انھوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا۔ حالاں کہ رحمان کی شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ آسمانوں اور زمینوں میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس بندہ کی حیثیت سے حاضر ہوگا۔
۱۔ آیت ۹۲ میں رحمان کی شان کیا بتائی گئی؟
۲۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
۱۔ رحمان کی شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔
۲۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، اس کے بیٹے نہیں۔
سوال 139۔
لَّقَدۡ أَحۡصَىٰهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدّٗا ﴿۹۴﴾ وَكُلُّهُمۡ ءَاتِيهِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَرۡدًا ﴿۹۵﴾
ترجمہ: یقیناً اس (اللہ تعالیٰ) نے اُن کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن رکھا ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آئے گا۔
۱۔ آیت ۹۴ میں اللہ تعالیٰ کے علم کے بارے میں کیا بتایا گیا؟
۲۔ آیت ۹۵ میں قیامت کے دن ہر شخص کی حالت لکھیں۔
۱۔ اللہ تعالیٰ نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن رکھا ہے۔
۲۔ ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آئے گا۔
سوال 140۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وُدّٗا ﴿۹۶﴾ فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلۡمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوۡمٗا لُّدّٗا ﴿۹۷﴾
ترجمہ: بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے عنقریب ان کے لیے رحمان محبت پیدا فرما دے گا۔ تو ہم نے اس (قرآن مجید) کو آپ کی زبان میں آسان فرما دیا ہے تاکہ آپ پرہیز گاروں کو اس سے خوش خبری دیں اور جھگڑالو قوم کو اس کے ذریعہ ڈرائیں۔
۱۔ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے رحمان کیا فرمائے گا؟
۲۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو آپ کی زبان میں آسان کیوں فرمایا؟
۱۔ ان کے لیے رحمان (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا فرما دے گا۔
۲۔ تاکہ آپ پرہیز گاروں کو اس سے خوش خبری دیں اور جھگڑالو قوم کو اس کے ذریعے ڈرائیں۔
سوال 141۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وُدّٗا ﴿۹۶﴾ فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلۡمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوۡمٗا لُّدّٗا ﴿۹۷﴾ وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّن قَرۡنٍ هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُم مِّنۡ أَحَدٍ أَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزَۢا ﴿۹۸﴾
ترجمہ: بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے عنقریب ان کے لیے رحمان محبت پیدا فرما دے گا۔ تو ہم نے اس (قرآن مجید) کو آپ کی زبان میں آسان فرما دیا ہے تاکہ آپ پرہیز گاروں کو اس سے خوش خبری دیں اور جھگڑالو قوم کو اس کے ذریعہ ڈرائیں۔ اور ہم ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چکے ہیں، کیا آپ ان میں سے کسی ایک کو (بھی) محسوس کرتے ہیں یا کسی کی کوئی آہٹ بھی سنتے ہیں؟
۱۔ ایمان اور نیک عمل والوں کے بارے میں آیت ۹۶ میں کیا خوش خبری ہے؟
۲۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو آسان کیوں فرمایا؟
۱۔ رحمان ان کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا فرما دے گا۔
۲۔ تاکہ آپ پرہیز گاروں کو اس سے خوش خبری دیں اور جھگڑالو قوم کو اس کے ذریعے ڈرائیں۔
۱۰۔ تفصیلی سوالات مع جوابات (عنوانات کے ساتھ)
تفصیلی سوالات (۸ نمبر): جواب عنوانات کے ساتھ لکھیں، ہر عنوان کے نیچے نکات۔
تفصیلی سوال 1۔ سورہ مریم کی روشنی میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا واقعہ تحریر کریں۔
حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر
- سورہ مریم میں حضرت مریم علیہا السلام کی پاک دامنی، عفت اور تقویٰ کا ذکر ہے۔
- وہ گھر والوں سے الگ ایک مشرقی مکان میں گئیں اور پردہ کر لیا (آیات ۱۶، ۱۷)۔
فرشتے کی آمد اور خوش خبری
- اللہ تعالیٰ نے اپنی روح (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا جو پورے انسان کی شکل میں ظاہر ہوئے۔
- حضرت مریم علیہا السلام نے رحمن کی پناہ مانگی تو فرشتے نے بتایا کہ میں آپ کے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ آپ کو ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔
- حضرت مریم علیہا السلام نے تعجب سے کہا کہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں؛ فرشتے نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے (آیات ۱۸ تا ۲۱)۔
معجزانہ پیدائش
- اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوئے۔
- دردِ زہ کے وقت وہ کھجور کے تنے کے پاس آئیں تو فرشتے نے تسلی دی کہ غم نہ کیجیے؛ آپ کے نیچے چشمہ جاری ہے اور تنے کو ہلائیں تو تازہ کھجوریں گریں گی۔
- فرشتے نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی انسان ملے تو اشارے سے کہہ دیں کہ میں نے رحمان کے لیے نہ بولنے کے روزے کی نذر مانی ہے (آیات ۲۲ تا ۲۶)۔
قوم کا سوال اور بچے کا کلام
- حضرت مریم علیہا السلام بچے کو لے کر قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے کہا کہ تم بڑی عجیب چیز لائی ہو؛ نہ تمھارے والد برے آدمی تھے اور نہ تمھاری والدہ بدکار تھیں۔
- حضرت مریم علیہا السلام نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگ بولے کہ ہم گہوارے کے بچے سے کیسے بات کریں؟
- تب بچہ بول اٹھا: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے، مجھے بابرکت بنایا اور نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا (آیات ۲۷ تا ۳۱)۔
نتیجہ
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے نہیں بلکہ اس کے بندے اور رسول ہیں؛ یہ معجزہ ان کی والدہ کی پاک دامنی کی گواہی بھی تھا۔
- اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے؛ وہ کسی چیز کا ارادہ کرے تو «ہوجا» فرماتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے (آیت ۳۵)۔
- حضرت مریم علیہا السلام کا صبر اور استقامت قیامت تک عورتوں کے لیے مثال ہے۔
تفصیلی سوال 2۔ سورہ مریم کی روشنی میں حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کا واقعہ تحریر کریں۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا
- حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور ان کی بیوی بانجھ تھیں۔
- انھوں نے آہستہ آواز سے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
- انھیں اپنے بعد رشتہ داروں کے دین سے دور ہونے کا خوف تھا، اس لیے وارث مانگا (آیات ۳ تا ۶)۔
خوش خبری
- اللہ تعالیٰ نے ایک لڑکے کی خوش خبری دی جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہوگا؛ اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا گیا۔
- حضرت زکریا علیہ السلام نے تعجب سے پوچھا کہ لڑکا کیسے ہوگا؟ جواب ملا کہ یہ میرے لیے آسان ہے، میں تمھیں بھی پہلے پیدا کر چکا ہوں جب تم کچھ نہ تھے (آیات ۷ تا ۹)۔
نشانی
- نشانی یہ مقرر ہوئی کہ وہ تندرست ہونے کے باوجود مسلسل تین رات تک لوگوں سے کلام نہ کر سکیں گے۔
- وہ حجرے سے نکل کر قوم کے پاس آئے تو اشارے سے انھیں صبح و شام تسبیح کا حکم دیا (آیات ۱۰، ۱۱)۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صفات
- انھیں بچپن میں حکمت و نبوت دی گئی اور کتاب کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم ہوا۔
- وہ نرم دل، پاکیزہ، پرہیز گار اور والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے؛ سرکش اور نافرمان نہ تھے۔
- ان پر پیدائش، وفات اور دوبارہ اٹھائے جانے کے دن سلام ہے (آیات ۱۲ تا ۱۵)۔
تفصیلی سوال 3۔ سورہ مریم کی روشنی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے والد کا واقعہ تحریر کریں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعارف
- اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ اس کتاب میں ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیجیے؛ وہ بڑے سچے نبی تھے (آیت ۴۱)۔
والد کو دعوت
- انھوں نے «اے میرے باپ!» کہہ کر پوچھا کہ تو ان چیزوں کی پوجا کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ کام آتی ہیں؟
- میرے پاس وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، اس لیے میری پیروی کر، میں تجھے سیدھے راستے کی طرف لے جاؤں گا۔
- شیطان کی پوجا نہ کر، وہ رحمن کا نافرمان ہے؛ مجھے ڈر ہے کہ تجھے رحمان کا عذاب پہنچے (آیات ۴۲ تا ۴۵)۔
والد کا جواب
- آزر نے کہا: اے ابراہیم علیہ السلام! کیا تم میرے معبودوں سے منہ پھیرتے ہو؟ اگر باز نہ آئے تو میں تمھیں ضرور رجم کر دوں گا اور تم ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جاؤ (آیت ۴۶)۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ردعمل
- انھوں نے فرمایا: تجھ پر سلام، میں اپنے رب سے تیرے لیے بخشش مانگوں گا، وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔
- میں تم لوگوں سے اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمھارے معبودوں سے الگ ہوتا ہوں اور صرف اپنے رب کی بندگی کروں گا (آیات ۴۷، ۴۸)۔
انعام
- جب وہ ان سے الگ ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حضرت اسحاق علیہ السلام (بیٹا) اور حضرت یعقوب علیہ السلام (پوتا) عطا کیے اور سب کو نبی بنایا۔
- انھیں اپنی رحمت عطا کی اور ان کا ذکرِ خیر بہت بلند فرما دیا (آیات ۴۹، ۵۰)۔
تفصیلی سوال 4۔ سورہ مریم کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش اور ان کے گہوارے میں کلام کا حال بیان کریں۔
معجزانہ پیدائش
- اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پاک دامن حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوئے۔
- فرشتے نے خوش خبری دی اور کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے آسان ہے؛ اسے لوگوں کے لیے نشانی اور رحمت بنایا جائے گا (آیات ۱۹ تا ۲۱)۔
گہوارے میں کلام
- قوم کے اعتراض پر حضرت مریم علیہا السلام نے بچے کی طرف اشارہ کیا اور بچے نے گہوارے میں کلام کیا۔
- اس نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی، نبی بنایا، بابرکت بنایا اور نماز و زکوٰۃ کا حکم دیا۔
- یہ کلام ان کی والدہ کی پاک دامنی کی گواہی تھی (آیات ۲۹ تا ۳۳)۔
عقیدے کی اصلاح
- یہی سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں؛ اللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے (آیات ۳۴، ۳۵)۔
- اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمھارا رب ہے، اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے (آیت ۳۶)۔
- معجزہ کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بناتا؛ معجزے انسانوں کی ہدایت کے لیے ہیں۔
تفصیلی سوال 5۔ سورہ مریم میں توحید کا بیان تفصیل سے تحریر کریں۔
اللہ تعالیٰ یکتا ہے
- سورہ مریم میں تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے۔
- اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے، اسی کی عبادت کرو؛ یہی سیدھا راستہ ہے (آیت ۳۶)۔
- وہ آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کا رب ہے، اس لیے اسی کی عبادت کرو اور اسی پر ثابت قدم رہو (آیت ۶۵)۔
اولاد کی نفی
- اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے (آیت ۳۵)۔
- جو کہتے ہیں کہ رحمن نے بیٹا بنایا ہے وہ بہت بھاری بات لائے ہیں؛ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیں (آیات ۸۸ تا ۹۱)۔
- رحمان کی شان نہیں کہ وہ اولاد بنائے (آیت ۹۲)۔
تمام مخلوق بندے ہیں
- آسمانوں اور زمینوں میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس بندے کی حیثیت سے حاضر ہوگا۔
- اللہ تعالیٰ نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور سب کو گن رکھا ہے؛ قیامت کے دن ہر ایک اس کے پاس اکیلا آئے گا (آیات ۹۳ تا ۹۵)۔
غلط عقیدوں کی تردید
- مسیحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو، یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور مشرکین فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں مانتے تھے۔
- قرآن مجید نے ان سب عقیدوں کو غلط قرار دیا ہے۔
تفصیلی سوال 6۔ سورہ مریم کے بنیادی مضامین (توحید، رسالت اور آخرت) کی وضاحت کریں۔
توحید
- اللہ تعالیٰ یکتا ہے؛ اس کا کوئی بیٹا، بیٹی اور شریک نہیں (آیات ۳۵، ۸۸ تا ۹۲)۔
- اسی کی عبادت کرو اور اسی پر ثابت قدم رہو (آیات ۳۶، ۶۵)۔
رسالت
- سورت میں حضرت زکریا، یحییٰ، مریم، عیسیٰ، ابراہیم، موسیٰ، ہارون، اسماعیل اور ادریس علیہم السلام کا ذکر ہے۔
- ان سب کو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور خاص اعزاز عطا فرمایا؛ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔
آخرت
- سورت میں قیامت، حسرت کے دن، جنت اور جہنم کا ذکر ہے۔
- فرماں بردار لوگ جنت میں اور نافرمان لوگ عذاب میں ہوں گے؛ ہر ایک اللہ تعالیٰ کے پاس اکیلا آئے گا۔
نتیجہ
- یہ تینوں اسلام کے بنیادی عقائد ہیں اور سورہ مریم کا مرکزی موضوع ہیں۔
تفصیلی سوال 7۔ سورہ مریم میں حضرت موسیٰ، ہارون، اسماعیل اور ادریس علیہم السلام کا ذکر تفصیل سے لکھیں۔
حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام
- حضرت موسیٰ علیہ السلام خاص بندے، رسول اور نبی تھے۔
- اللہ تعالیٰ نے انھیں طور کی دائیں جانب سے پکارا اور راز کی بات کہنے کے لیے اپنے قریب کیا۔
- اپنی رحمت سے ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو نبی بنا کر عطا فرمایا (آیات ۵۱ تا ۵۳)۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام
- وہ وعدے کے سچے اور رسول و نبی تھے۔
- اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے اور اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھے (آیات ۵۴، ۵۵)۔
حضرت ادریس علیہ السلام
- وہ بڑے سچے نبی تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بلند مرتبہ تک پہنچایا (آیات ۵۶، ۵۷)۔
انعام یافتہ بندے
- یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا؛ جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں تو وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے (آیت ۵۸)۔
تفصیلی سوال 8۔ سورہ مریم میں قیامت، جنت اور جہنم کے احوال تحریر کریں۔
حسرت کا دن
- اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب ہر کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ لوگ دنیا میں غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے (آیت ۳۹)۔
جنت
- توبہ، ایمان اور نیک عمل والے جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔
- وہ دائمی باغات میں رہیں گے، وہاں بے کار بات نہیں سنیں گے، صرف سلام سنیں گے اور ان کا رزق صبح و شام ہوگا (آیات ۶۰ تا ۶۳)۔
- پرہیز گاروں کو رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کیا جائے گا (آیت ۸۵)۔
جہنم
- انسانوں اور شیطانوں کو جمع کر کے جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل حاضر کیا جائے گا۔
- پرہیز گاروں کو نجات ملے گی اور ظالم گھٹنوں کے بل گرے ہوئے رہ جائیں گے (آیات ۶۸ تا ۷۲)۔
- مجرموں کو پیاسے ہانک کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا (آیت ۸۶)۔
ہر ایک اکیلا آئے گا
- قیامت کے دن ہر ایک اللہ تعالیٰ کے پاس اکیلا آئے گا (آیت ۹۵)۔
- کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے اس کے جس نے رحمان سے عہد لیا ہو (آیت ۸۷)۔
تفصیلی سوال 9۔ سورہ مریم سے حاصل ہونے والے اسباق تحریر کریں۔
عقیدے سے متعلق اسباق
- اللہ تعالیٰ یکتا ہے؛ اس کا کوئی بیٹا، بیٹی اور شریک نہیں۔
- قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے پر یقین رکھنا چاہیے؛ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے بھی پیدا کیا جب ہم کچھ نہ تھے۔
عبادت اور دعا
- اپنی ضرورت اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہیے، جیسے حضرت زکریا علیہ السلام نے مانگی۔
- نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرنی چاہیے اور گھر والوں کو بھی ان کا حکم دینا چاہیے۔
- نماز ضائع کرنا اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنا گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اخلاق
- والدین سے نیک سلوک اور ان کی فرماں برداری کرنی چاہیے۔
- دوسروں کو نرمی اور محبت سے سمجھانا چاہیے، جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے والد کو سمجھایا۔
- وعدے کے سچے بننا چاہیے۔
مشکلات اور آخرت
- مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے؛ حضرت مریم علیہا السلام صبر اور استقامت کی مثال ہیں۔
- توبہ، ایمان اور نیک عمل کرنے والے جنت میں جائیں گے اور رحمان ان کے لیے محبت پیدا فرمائے گا۔
تفصیلی سوال 10۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا اور اس کی قبولیت سے ملنے والے اسباق لکھیں۔
دعا کا انداز
- انھوں نے اپنے رب کو آہستہ آواز سے پکارا اور اپنی کمزوری اور بڑھاپے کا حال عرض کیا۔
- انھوں نے اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسا ظاہر کیا کہ میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا (آیات ۳، ۴)۔
دعا کی قبولیت
- اللہ تعالیٰ نے لڑکے کی خوش خبری دی جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہوگا۔
- بڑھاپے اور بانجھ بیوی کے باوجود فرمایا کہ یہ میرے لیے آسان ہے (آیات ۷ تا ۹)۔
سبق
- اپنی ہر ضرورت اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہیے اور دعا سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔
- نیک اولاد اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے؛ حضرت یحییٰ علیہ السلام والدین کے فرماں بردار تھے۔
تفصیلی سوال 11۔ سورہ مریم میں غلط عقیدوں (مسیحی، یہودی اور مشرکین) کی تردید کس طرح کی گئی ہے؟
غلط عقیدے
- مسیحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے تھے۔
- یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے تھے۔
- مشرکینِ مکہ مکرمہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔
قرآن مجید کا جواب
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اعلان کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں (آیت ۳۰)۔
- اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے (آیات ۳۵، ۹۲)۔
- معجزانہ پیدائش کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بناتی؛ یہ معجزے انسانوں کی ہدایت کے لیے ہیں۔
- آسمانوں اور زمین میں ہر ایک رحمان کے پاس بندے کی حیثیت سے حاضر ہوگا (آیت ۹۳)۔
تفصیلی سوال 12۔ سورہ مریم کے شانِ نزول اور نجاشی کے واقعے کو تفصیل سے لکھیں۔
نزول کے وقت کے حالات
- سورہ مریم ہجرتِ حبشہ سے پہلے نازل ہوئی۔
- اس وقت کفار اور مشرکین مکہ مکرمہ مسلمانوں پر سخت ظلم ڈھا رہے تھے اور انھیں اتنی تکلیف دیتے کہ زندگی گزارنا دشوار ہوگیا۔
ہجرتِ حبشہ
- ظلم حد سے بڑھا تو حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ واصحابہٖ وسلم نے صحابہ کرام کو حبشہ ہجرت کی اجازت دی۔
- مسلمان حبشہ پہنچے تو کفار بھی ان کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔
نجاشی کا سوال
- حبشہ کے مسیحی بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا عقیدہ پوچھا۔
سورت کی تلاوت
- حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریر کی اور سورہ مریم کی تلاوت فرمائی۔
- اسے سن کر نجاشی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
- اس نے تنکا اٹھا کر کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ تم نے کہا وہ اس سے ایک تنکا برابر بھی زیادہ نہ تھے۔
نتیجہ
- نجاشی کے دل میں مسلمانوں کے لیے ہم دردی پیدا ہوئی اور قریش کا وفد ناکام واپس گیا۔
- بعد میں نجاشی نے اسلام قبول کر لیا اور بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔
تفصیلی سوال 13۔ حضرت مریم علیہا السلام کے واقعے سے ملنے والے عملی اسباق اپنی زندگی کے حوالے سے لکھیں۔
حضرت مریم علیہا السلام کی صفات
- سورہ مریم میں ان کی پاک دامنی، عفت اور تقویٰ کا ذکر ہے۔
- انھوں نے مشکل امتحان میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی اور صبر کیا۔
ہمارے لیے اسباق
- اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی خود نگہبانی فرماتا اور ان کی مدد کرتا ہے۔
- نیک بندے مشکلات میں گھبراتے نہیں؛ ہمیں بھی مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرتا ہے؛ ہمیں ثابت قدم رہنا چاہیے۔
روزمرہ زندگی میں عمل
- مشکل وقت میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں اور دعا کریں۔
- اپنی پاک دامنی اور اچھے اخلاق کی حفاظت کریں۔
- صبر اور استقامت کو اپنی عادت بنائیں۔
تفصیلی سوال 14۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دعوت دینے کے انداز سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ آیات ۴۲ تا ۵۰ کی روشنی میں لکھیں۔
دعوت کا انداز
- انھوں نے بار بار «اے میرے باپ!» کہہ کر محبت اور ادب سے بات کی۔
- دلیل دی کہ جو چیزیں نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ کام آتی ہیں ان کی پوجا کیوں؟
- اپنے علم کا ذکر کر کے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کی پیش کش کی۔
سختی کا جواب
- والد نے رجم کی دھمکی دی تو بھی انھوں نے سلام کہا اور بخشش کی دعا کا وعدہ کیا۔
- بہتر یہی سمجھا کہ حق پر قائم رہتے ہوئے ان سے الگ ہو جائیں۔
اللہ تعالیٰ کا انعام
- اللہ تعالیٰ نے انھیں اسحاق اور یعقوب علیہما السلام عطا کیے، رحمت دی اور ذکرِ خیر بلند فرمایا۔
ہمارے لیے سبق
- دوسروں کو نرمی، محبت اور دلیل سے سمجھانا چاہیے۔
- غصے اور سختی کے جواب میں بھی اخلاق نہیں چھوڑنا چاہیے۔
تفصیلی سوال 15۔ آیات ۷۳ تا ۸۰ کی روشنی میں مال و اولاد کے گھمنڈ اور آیات کے انکار کا انجام بیان کریں۔
کفار کا سوال اور جواب
- کفار مومنوں سے پوچھتے کہ دونوں گروہوں میں کون مقام اور مجلس کے اعتبار سے بہتر ہے؟
- اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر چکے ہیں جو سازو سامان اور نمود و نمائش میں ان سے اچھی تھیں (آیات ۷۳، ۷۴)۔
ڈھیل اور انجام
- جو گمراہی میں ہو، رحمان اسے ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ وہ عذاب یا قیامت دیکھ لیں؛ تب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ برے مقام والا کون ہے (آیت ۷۵)۔
- باقی رہنے والی نیکیاں رب کے نزدیک ثواب اور انجام میں بہتر ہیں (آیت ۷۶)۔
آیات کا انکار کرنے والا
- اس نے کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دیا جائے گا۔
- اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا اس نے غیب کی خبر پا لی یا رحمان سے عہد لے رکھا ہے؟ ہرگز نہیں!
- اللہ تعالیٰ اس کی بات لکھ لے گا، عذاب بڑھاتا چلا جائے گا اور وہ اکیلا اس کے پاس آئے گا (آیات ۷۷ تا ۸۰)۔
سبق
- مال، اولاد اور سازو سامان پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے۔
- باقی رہنے والی نیکیوں کو اختیار کرنا چاہیے۔
تفصیلی سوال 16۔ والدین سے حسنِ سلوک کے بارے میں سورہ مریم کی تعلیمات تفصیل سے لکھیں۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام
- وہ والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے اور سرکش و نافرمان نہ تھے (آیات ۱۳، ۱۴)۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام
- انھوں نے گہوارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سرکش اور نافرمان نہیں بنایا (آیت ۳۲)۔
- اپنی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کی پاک دامنی کی گواہی دی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام
- والد کو «اے میرے باپ!» کہہ کر ادب سے پکارا اور رجم کی دھمکی کے باوجود سلام کہا اور بخشش کی دعا کا وعدہ کیا (آیات ۴۲ تا ۴۷)۔
ہمارے لیے سبق
- والدین کے فرماں بردار اور ان سے نیک سلوک کرنے والے بنیں۔
- ان سے ادب اور نرمی سے بات کریں۔
تفصیلی سوال 17۔ سورہ مریم کی روشنی میں نماز، توبہ اور نیک عمل کی اہمیت بیان کریں۔
نماز ضائع کرنے کا انجام
- ناخلف جانشینوں نے نماز ضائع کی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی؛ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے (آیت ۵۹)۔
توبہ اور نیک عمل
- جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیا وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس پر ظلم نہیں ہوگا (آیت ۶۰)۔
- ایمان اور نیک عمل والوں کے لیے رحمان محبت پیدا فرما دے گا (آیت ۹۶)۔
نبیوں کا نمونہ
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم ملا (آیت ۳۱)۔
- حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے (آیت ۵۵)۔
- انعام یافتہ بندے آیات سن کر سجدہ کرتے اور روتے (آیت ۵۸)۔
تفصیلی سوال 18۔ قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں انسان کے سوال اور اللہ تعالیٰ کے جواب کی وضاحت کریں۔
انسان کا سوال
- انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب زندہ کر کے نکالا جاؤں گا؟ (آیت ۶۶)۔
اللہ تعالیٰ کا جواب
- کیا انسان کو یہ یاد نہیں کہ اس سے پہلے ہم نے اسے پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھا؟ (آیت ۶۷)۔
- آپ کے رب کی قسم! ہم انھیں اور شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے اور جہنم کے گرد حاضر کریں گے (آیت ۶۸)۔
نتیجہ
- جس نے پہلی بار پیدا کیا وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے۔
- اس لیے قیامت اور آخرت پر یقین رکھنا چاہیے۔
تفصیلی سوال 19۔ سورہ مریم میں حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کا ذکر تفصیل سے لکھیں۔
دعا اور خوش خبری
- حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی ہڈیاں کمزور اور سر شعلہ کی طرح چمکنے لگا تھا؛ ان کی بیوی بانجھ تھیں (آیات ۴، ۵، ۸)۔
- انھوں نے اپنے رب کو آہستہ آواز سے پکارا اور اپنے بعد رشتہ داروں کے دین سے دور ہونے کے خوف سے وارث مانگا (آیات ۳ تا ۶)۔
- اللہ تعالیٰ نے لڑکے کی خوش خبری دی جس کا نام یحییٰ علیہ السلام تھا؛ اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا (آیت ۷)۔
- حضرت زکریا علیہ السلام کو تعجب ہوا تو فرمایا: یہ میرے لیے آسان ہے اور میں نے تمھیں پہلے بھی پیدا کیا جب تم کچھ نہ تھے (آیات ۸، ۹)۔
نشانی اور تسبیح کا حکم
- نشانی: تندرست ہونے کے باوجود مسلسل تین رات تک لوگوں سے کلام نہ کر سکنا (آیت ۱۰)۔
- حجرے سے نکل کر انھوں نے اشارے سے قوم کو صبح و شام تسبیح کا حکم دیا (آیت ۱۱)۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صفات اور سلامتی
- حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن میں حکمت (و نبوت)، نرم دلی اور پاکیزگی ملی؛ وہ پرہیز گار، والدین سے نیک سلوک کرنے والے اور غیر سرکش تھے؛ ان پر پیدائش، وفات اور دوبارہ اٹھنے کے دن سلامتی ہے (آیات ۱۲ تا ۱۵)۔
- نتیجہ: دعا قبول ہوئی، حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا ہوئے۔
تفصیلی سوال 20۔ سورہ مریم سے توحید اور نبوت سے متعلق چھ اسباق بیان کریں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور نبی ہیں
- انھوں نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں؛ اس نے مجھے کتاب اور نبوت دی۔
- معجزانہ پیدائش کسی کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بناتی۔
توحید: اللہ تعالیٰ کی اولاد نہیں
- اللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔
- اولاد کا دعویٰ بہت بھاری بات ہے؛ سب اس کے بندے ہیں۔
صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ثابت قدم رہو
- اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے، اسی کی عبادت سیدھا راستہ ہے۔
- عبادت پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
والدین سے نیک سلوک کرو
- حضرت یحییٰ علیہ السلام اپنے والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے اچھا سلوک کرنے کا ذکر فرمایا۔
شیطان کی پیروی نہ کرو
- شیطان رحمن کا بڑا نافرمان ہے۔
- اس کی پیروی عذاب کی طرف لے جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر خشوع اختیار کرو
- انعام یافتہ بندے رحمن کی آیات سن کر سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے۔
- ہمیں بھی قرآن مجید سن کر دل نرم رکھنا چاہیے۔
تفصیلی سوال 21۔ سورہ مریم کی روشنی میں چھ ایسے اسباق لکھیں جو ہماری روزمرہ زندگی میں کام آتے ہیں۔
دعا اللہ تعالیٰ سے مانگیں
- حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور فرمایا کہ میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔
- ہمیں اپنی ہر ضرورت اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہیے اور قبولیت کی امید رکھنی چاہیے۔
والدین سے نیک سلوک کرو
- حضرت یحییٰ علیہ السلام اپنے والدین سے نیک سلوک کرنے والے تھے۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے اچھا سلوک کرنے کا ذکر فرمایا۔
مصیبت میں صبر اور استقامت
- حضرت مریم علیہا السلام سخت آزمائش میں ثابت قدم رہیں۔
- ہمیں مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔
نماز اور زکوٰۃ کی پابندی
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندگی بھر نماز اور زکوٰۃ کا حکم ملا۔
- حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر والوں کو یہی حکم دیتے تھے۔
وعدے کی سچائی
- حضرت اسماعیل علیہ السلام وعدے کے سچے تھے۔
- ہمیں بھی وعدہ پورا کرنا چاہیے۔
نرمی اور دلیل سے دعوت دو
- حضرت ابراہیم علیہ السلام نے «اے میرے باپ!» کہہ کر نرمی سے سمجھایا۔
- سخت بات کا جواب بھی سلام اور دعا سے دیا۔
تفصیلی سوال 22۔ سورہ مریم میں مذکور انبیاء کرام علیہم السلام (حضرت ابراہیم، موسیٰ، ہارون، اسماعیل اور ادریس علیہم السلام) کا ذکر کریں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام
- حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے سچے نبی تھے (آیت ۴۱)۔
- انھوں نے «اے میرے باپ!» کہہ کر نرمی سے پوچھا کہ تم ان چیزوں کی پوجا کیوں کرتے ہو جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں (آیت ۴۲)۔
- نتیجہ: اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما السلام عطا کیے، سب کو نبی بنایا، رحمت دی اور ذکرِ خیر بلند کیا (آیات ۴۹، ۵۰)۔
حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام
- حضرت موسیٰ علیہ السلام خاص بندے، رسول اور نبی تھے (آیت ۵۱)۔
- انھیں طور کی دائیں جانب سے پکارا گیا اور راز کی بات کے لیے قریب کیا گیا (آیت ۵۲)۔
- ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے نبی بنا کر عطا کیا (آیت ۵۳)۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام
- وہ وعدے کے سچے، رسول اور نبی تھے (آیت ۵۴)۔
- وہ اپنے گھر والوں کو خاص طور پر نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے (آیت ۵۵)۔
حضرت ادریس علیہ السلام
- حضرت ادریس علیہ السلام بڑے سچے نبی تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں بلند مرتبہ تک پہنچایا (آیات ۵۶، ۵۷)۔
تفصیلی سوال 23۔ آیات ۵۹ تا ۷۲ کی روشنی میں توبہ کرنے والوں، پرہیز گاروں اور نافرمانوں کا انجام بیان کریں۔
ناخلف جانشین
- ان کے بعد ایسے ناخلف جانشین آئے جنھوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کی پیروی کی؛ انھیں گمراہی کے انجام کی خبر دی گئی (آیت ۵۹)۔
توبہ کرنے والے اور جنت
- جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیے وہ جنت میں جائے گا اور اس پر ظلم نہ ہوگا (آیت ۶۰)۔
- جنت: دائمی باغات، بے کار بات نہیں صرف سلام، رزق صبح و شام؛ اس کا وارث پرہیز گار ہوگا (آیات ۶۱ تا ۶۳)۔
قیامت کے دن کا منظر
- قیامت کے دن انسانوں اور شیطانوں کو جمع کر کے جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل حاضر کیا جائے گا؛ ہر ایک جہنم پر سے گزرے گا؛ پرہیز گار نجات پائیں گے اور ظالم وہیں رہیں گے (آیات ۶۸ تا ۷۲)۔
تفصیلی سوال 24۔ سورہ مریم کی آخری آیات (۹۶ تا ۹۸) اور آیات ۸۱ تا ۸۷ سے ملنے والے اسباق لکھیں۔
قرآن مجید کو آسان سمجھ کر پڑھو اور عبرت پکڑو
- قرآن مجید آسان کیا گیا تاکہ پرہیز گاروں کو خوش خبری ملے اور جھگڑالو قوم کو تنبیہ ہو۔
- ہلاک ہونے والی قوموں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
ایمان اور نیک عمل پر محبت
- ایمان اور نیک عمل والوں کے لیے رحمان محبت پیدا فرما دے گا۔
- نیکی لوگوں کے دلوں میں بھی عزت بناتی ہے۔
شرک سے بچو
- جھوٹے معبود عزت نہیں دے سکتے بلکہ ان کی پوجا سے انکار کریں گے۔
- اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہ بناؤ۔
ہر شخص خود جواب دہ ہے
- ہر ایک اللہ تعالیٰ کے پاس بندہ بن کر اور اکیلا آئے گا۔
- شفاعت کا اختیار صرف رحمان کے عہد والے کو ہوگا۔
تفصیلی سوال 25۔ سورہ مریم میں توحید، رسالت اور آخرت کے مضامین کی نشان دہی آیات کے حوالے سے کریں۔
توحید
- اللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔
- اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے، اسی کی عبادت سیدھا راستہ ہے۔
- وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے «ہوجا» تو وہ ہو جاتی ہے۔
رسالت
- حضرت زکریا، یحییٰ، مریم، عیسیٰ، ابراہیم، موسیٰ، ہارون، اسماعیل اور ادریس علیہم السلام کا ذکر آیات ۲ تا ۵۷ میں ہے۔
- انعام یافتہ انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر سجدہ کرتے اور روتے تھے (آیت ۵۸)۔
آخرت
- توبہ کرنے والے، ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے جنت میں جائیں گے۔
- جنت میں ان پر ظلم نہ ہوگا اور رزق صبح و شام ملے گا۔
- قیامت، جنت اور جہنم کا بیان آیات ۳۷ تا ۴۰، ۵۹ تا ۷۲ اور ۸۵ تا ۹۵ میں ہے۔
فرہنگ
- ٱلۡعَظۡمُ
- ہڈیاں
- غُلَٰمٞ
- لڑکا
- مُبَارَكًا
- بابرکت
- أَنذِرۡ
- خبردار کر/ڈرا
- أَضَاعُواْ
- انہوں نے ضائع کیا
Chapter 1 is free
You are reading a free chapter. The other chapters of this subject are Premium. Rs 3000 now, Rs 4000 from 15 Dec.