Tarjuma-tul-Quran Class 10 Chapter 1: سورۃ الانعام
Free chapter
This is the free study page for Tarjuma-tul-Quran Class 10, Chapter 1: سورۃ الانعام. It follows the Federal Board (FBISE) SSC-II syllabus and takes about 13 minutes to read. After reading, tap Practice this chapter to answer questions with the answers shown at once.
ایک نظر میں: سورۃ الانعام
| موضوع | ایک جملے میں |
|---|---|
| تعارف | یہ مکی سورت ہے، اس میں ۱۶۵ آیات اور ۲۰ رکوع ہیں۔ |
| شانِ نزول | مکہ کے مشرکین جانوروں کے بارے میں غلط عقیدے رکھتے تھے، ان کی تردید میں یہ سورت نازل ہوئی۔ |
| وجہِ تسمیہ | آیت ۱۳۶ میں لفظ «الانعام» یعنی مویشی آیا ہے، اس لیے نام سورۃ الانعام ہے۔ |
۱۔ تعارفِ سورت
ایک نظر میں
- نام: سورۃ الانعام
- قرآن مجید میں ترتیب: چھٹی سورت (۶)
- ساتویں پارے سے شروع ہوتی ہے
- قسم: مکی سورت
- آیات: ۱۶۵ (ایک سو پینسٹھ)
- رکوع: ۲۰ (بیس)
- موضوع: مشرکین کے باطل عقائد کی تردید
۲۔ وجہِ تسمیہ
حفظ کرنے کا جواب
- آیت ۱۳۶ میں لفظ «الانعام» آیا ہے۔
- یہ لفظ «النعم» کی جمع ہے جس کے معنی مویشی کے ہیں۔
- اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الانعام رکھا گیا۔
۳۔ شانِ نزول
حفظ کرنے کا جواب (کتاب کے مطابق)
- سورۃ الانعام مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
- مکہ مکرمہ کے مشرکین بتوں کو جانوروں میں حصہ دار ٹھہراتے اور خود ساختہ عقائد سے جانور حلال و حرام کرتے تھے۔
- وہ دلائلِ توحید سے اعراض کرتے، توحید کی دعوت دینے والوں کا مذاق اڑاتے اور انبیائے کرام علیہم السلام کو جادوگر کہتے تھے۔
- وہ فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے تھے۔
- اس سورت میں توحید، رسالت اور آخرت کے دلائل دے کر ان کی تردید کی گئی۔
۴۔ مرکزی موضوع اور بنیادی مضامین
حفظ کرنے کا جواب
- سورۃ الانعام کا مرکزی موضوع ہے: توحید، رسالت، آخرت اور معاشرتی زندگی کے احکام کا بیان۔
- اسلام کے بنیادی عقائد تفصیل سے بیان کیے گئے۔
- توحید کے ایسے دلائل جن کا انکار ممکن نہیں۔
- وحی اور رسالت کا اثبات اور موت کے بعد کی زندگی (قیامت) کی تفصیلات۔
- کفار و مشرکین کے اعتراضات ذکر کر کے احسن انداز سے جوابات۔
- مشرکین مکہ مکرمہ کو تخلیقِ انسانی اور تخلیقِ کائنات میں غور و فکر کی دعوت۔
- ابتدا اللہ تعالیٰ کی تعریف سے۔
۵۔ منتخب الفاظ کے معانی
| لفظ | معنی | کہاں آیا |
|---|---|---|
| حَاقَ | اس نے گھیر لیا | آیت ۱۰ |
| يُجَادِلُونَ | وہ جھگڑا / بحث کرتے ہیں | آیت ۲۵ |
| بَغۡتَةٗ | اچانک | آیت ۳۱ (اور ۴۴) |
| قَرۡنٖ | ایک زمانہ / ایک قوم (نسل) | آیت ۶ |
| تَسۡتَعۡجِلُونَ | تم جلدی کرتے ہو | آیت ۵۸ |
| صُمّٞ وَبُكۡمٞ | بہرے اور گونگے | آیت ۳۹ |
۶۔ سورت میں مذکور واقعات
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آزر اور اپنی قوم سے مکالمہ (آیات ۷۴ تا ۸۳)
- کس نے، کس سے: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آزر اور اپنی قوم سے۔
- بتوں کو معبود بنانے پر فرمایا: میں تمھیں اور تمھاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں (آیت ۷۴)۔
- اللہ تعالیٰ نے انھیں آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھائے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والے ہوں (آیت ۷۵)۔
- نتیجہ: توحید کی دلیل ملی (آیت ۸۳)۔
انبیائے کرام کا ذکر (آیات ۸۴ تا ۹۰)
- اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام عطا کیے (آیت ۸۴)۔
- نوح علیہ السلام اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو ہدایت دی (آیت ۸۴)۔
- زکریا، یحییٰ، عیسیٰ علیہ السلام اور الیاس علیہ السلام کو بھی (آیت ۸۵)۔
- نتیجہ: نبی کریم ﷺ کو حکم ہوا کہ ان کے طریقے پر چلیں اور تبلیغ پر اجر نہ مانگیں (آیت ۹۰)۔
پچھلی قوموں کی ہلاکت (آیات ۶، ۱۰، ۱۱، ۴۲ تا ۴۵)
- کتنی ہی قوموں کو زمین میں اقتدار دیا گیا جو مشرکین کو نہیں ملا (آیت ۶)۔
- ان پر آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور نہریں بہائیں (آیت ۶)۔
- گناہوں کی وجہ سے انھیں ہلاک کر دیا اور ان کے بعد دوسری قومیں پیدا کیں (آیت ۶)۔
- نتیجہ: ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی (آیت ۴۵)۔
مشرکین کے مطالبات اور اعتراضات (آیات ۷ تا ۹، ۳۷، ۱۰۹ تا ۱۱۱، ۱۲۴)
- اگر کاغذ پر لکھی کتاب اترتی اور وہ چھو لیتے تب بھی کہتے یہ کھلا جادو ہے (آیت ۷)۔
- کہا: اس رسول پر فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ جواب: فرشتہ اترتا تو فیصلہ ہو چکا ہوتا (آیت ۸)۔
- کہا: ان پر نشانی کیوں نازل نہیں ہوتی؟ جواب: اللہ تعالیٰ قادر ہے مگر اکثر نہیں جانتے (آیت ۳۷)۔
- نتیجہ: فرشتے اترتے، مردے بولتے اور ہر چیز جمع ہوتی تب بھی ایمان نہ لاتے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے (آیت ۱۱۱)۔
قیامت کے مناظر (آیات ۲۲ تا ۲۴، ۲۷ تا ۳۱، ۹۴، ۱۲۸ تا ۱۳۰)
- مشرکوں سے پوچھا جائے گا: تمھارے شریک کہاں ہیں ؟ (آیت ۲۲)۔
- وہ جھوٹی قسم کھائیں گے: اللہ تعالیٰ کی قسم ہم مشرک نہ تھے (آیت ۲۳)۔
- آگ کے کنارے کھڑے ہو کر کہیں گے: کاش ہم واپس بھیج دیے جائیں (آیت ۲۷)۔
- نتیجہ: مجرموں کا ٹھکانا آگ ہے، ہمیشہ اس میں رہیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے (آیت ۱۲۸)۔
مشرکین کی جاہلانہ رسمیں (آیات ۱۳۶ تا ۱۴۰)
- کھیتی اور مویشیوں میں سے اللہ تعالیٰ کا ایک حصہ اور شریکوں کا حصہ مقرر کرتے (آیت ۱۳۶)۔
- شریکوں کا حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں جاتا تھا مگر اللہ تعالیٰ کا حصہ شریکوں کو پہنچ جاتا (آیت ۱۳۶)۔
- شریکوں نے اولاد کا قتل خوش نما بنا دیا (آیت ۱۳۷)۔
- نتیجہ: اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ کر اولاد کو قتل کرنے والے خسارے میں اور گمراہ ہو گئے (آیت ۱۴۰)۔
رسولوں کا صبر اور نبی کریم ﷺ کو تسلی (آیات ۳۳ تا ۳۵)
- کفار کی باتیں نبی کریم ﷺ کو غمگین کرتی تھیں (آیت ۳۳)۔
- وہ آپ کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں (آیت ۳۳)۔
- پہلے رسولوں نے جھٹلائے جانے اور ایذاؤں پر صبر کیا (آیت ۳۴)۔
- نتیجہ: صبر کے بعد اللہ تعالیٰ کی مدد ان کے پاس آ پہنچی (آیت ۳۴)۔
موسیٰ علیہ السلام کی کتاب اور قرآن مجید (آیات ۹۱، ۹۲، ۱۵۴، ۱۵۵)
- موسیٰ علیہ السلام کی کتاب لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی (آیت ۹۱)۔
- آیت ۹۱ میں مخاطبین سے فرمایا گیا: تم نے اسے ورق ورق کر رکھا ہے، کچھ ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ چھپاتے ہو۔
- پھر موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی گئی جو تفصیل، ہدایت اور رحمت تھی (آیت ۱۵۴)۔
- نتیجہ: قرآن مجید کی پیروی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم ہے تاکہ رحم کیا جائے (آیت ۱۵۵)۔
۷۔ اسباق و تعلیمات
- ۱۔ اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے (آیات ۱ تا ۳)
- ۲۔ نشانیوں سے منہ موڑنا اور حق کو جھٹلانا برا انجام لاتا ہے (آیات ۴، ۵، ۱۰)
- ۳۔ پچھلی قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنا (آیات ۶، ۱۱، ۴۵)
- ۴۔ ایمان نہ لانے والوں کو کوئی معجزہ فائدہ نہیں دیتا (آیات ۷ تا ۹، ۳۵، ۱۱۱)
- ۵۔ اللہ تعالیٰ نے رحمت کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا (آیات ۱۲، ۵۴)
- ۶۔ کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اور سب سے پہلے فرماں بردار بننا (آیات ۱۳ تا ۱۸)
- ۷۔ سب سے بڑی گواہی اللہ تعالیٰ کی ہے اور شرک سب سے بڑا ظلم (آیات ۱۹ تا ۲۱)
- ۸۔ قیامت کے دن جھوٹے عذر کام نہ آئیں گے (آیات ۲۲ تا ۲۴، ۲۷ تا ۳۱)
- ۹۔ ہدایت سے محروم لوگوں کا حال (آیات ۲۵، ۲۶، ۳۹، ۴۶)
- ۱۰۔ دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے اور آخرت بہتر ہے (آیات ۲۹، ۳۰، ۳۲)
- ۱۱۔ صبر اور رسولوں کی پیروی (آیات ۳۳ تا ۳۵)
- ۱۲۔ حق وہی قبول کرتا ہے جو سنتا ہے (آیات ۳۶، ۳۷)
- ۱۳۔ جانور اور پرندے بھی امتیں ہیں (آیت ۳۸)
- ۱۴۔ مصیبت میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا جاتا ہے (آیات ۴۰، ۴۱، ۶۳، ۶۴)
- ۱۵۔ آزمائش، ڈھیل اور اچانک پکڑ (آیات ۴۲ تا ۴۵)
- ۱۶۔ رسولوں کا کام خوش خبری دینا اور ڈرانا ہے (آیات ۴۸، ۴۹)
- ۱۷۔ نبی کریم ﷺ کا اعلان: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور رسول ہوں (آیات ۵۰، ۵۶، ۵۷)
- ۱۸۔ غریب ایمان والوں کی قدر اور ایمان والوں کو سلام (آیات ۵۱ تا ۵۴)
- ۱۹۔ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے (آیات ۵۹ تا ۶۲)
- ۲۰۔ اللہ تعالیٰ ہر عذاب پر قادر ہے اور ہر خبر کا وقت مقرر ہے (آیات ۶۵ تا ۶۷)
- ۲۱۔ آیات کا مذاق اڑانے والوں سے کنارہ کرنا (آیات ۶۸ تا ۷۰)
- ۲۲۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے اور نماز کی تاکید (آیات ۷۱ تا ۷۳)
- ۲۳۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا استدلال: غروب ہونے والا ربّ نہیں ہو سکتا (آیات ۷۴ تا ۸۳)
- ۲۴۔ انبیائے کرام کی ہدایت اور شرک سے اعمال کی بربادی (آیات ۸۴ تا ۹۰)
- ۲۵۔ اللہ تعالیٰ کی قدر کرنا اور قرآن مجید کی پیروی (آیات ۹۱ تا ۹۴)
- ۲۶۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں (آیات ۹۵ تا ۹۹)
- ۲۷۔ اللہ تعالیٰ کی ذات: شریک اور اولاد سے پاک (آیات ۱۰۰ تا ۱۰۳)
- ۲۸۔ وحی کی پیروی اور دوسروں کے معبودوں کو برا نہ کہنا (آیات ۱۰۴ تا ۱۰۸)
- ۲۹۔ ہر نبی کے دشمن اور فریب سے بچنا (آیات ۱۰۹ تا ۱۱۳)
- ۳۰۔ اکثریت کی پیروی نہ کرنا اور اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرنے والا ہے (آیات ۱۱۴ تا ۱۱۷)
- ۳۱۔ ذبیحہ کے احکام: اللہ تعالیٰ کا نام لینا (آیات ۱۱۸ تا ۱۲۱)
- ۳۲۔ مومن اور کافر کی مثال اور ہدایت کا ذریعہ (آیات ۱۲۲ تا ۱۲۷)
- ۳۳۔ جنات اور انسانوں کا حساب اور اللہ تعالیٰ کا عدل (آیات ۱۲۸ تا ۱۳۵)
- ۳۴۔ جاہلی رسموں کی تردید (آیات ۱۳۶ تا ۱۴۰)
- ۳۵۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حق ادا کرنا اور اسراف سے بچنا (آیات ۱۴۱، ۱۴۲)
- ۳۶۔ حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے (آیات ۱۴۳ تا ۱۴۷)
- ۳۷۔ بہانوں کی تردید اور دلیل اللہ تعالیٰ کے پاس ہے (آیات ۱۴۸ تا ۱۵۰)
- ۳۸۔ سورت کے دس بنیادی احکام (آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳)
- ۳۹۔ قرآن مجید کی پیروی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا (آیات ۱۵۴ تا ۱۵۸)
- ۴۰۔ دین میں تفرقہ سے بچنا اور نیکی کا بدلہ (آیات ۱۵۹، ۱۶۰)
- ۴۱۔ نماز، قربانی، جینا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے اور ہر کوئی اپنا بوجھ اٹھائے گا (آیات ۱۶۱ تا ۱۶۵)
۸۔ فوری دہرائی
پوری سورت ایک نظر میں
- تعارف: مکی، چھٹی سورت، ساتویں پارے سے، ۱۶۵ آیات، ۲۰ رکوع۔
- وجہِ تسمیہ: آیت ۱۳۶ میں «الانعام» (مویشی) کا ذکر ہے۔
- شانِ نزول: مکی دور میں مشرکین کے باطل عقائد کی تردید (کتاب میں الگ عنوان نہیں)۔
- مرکزی موضوع: توحید، رسالت، آخرت اور معاشرتی زندگی کے احکام۔
- منتخب الفاظ: حَاقَ، يُجَادِلُونَ، بَغۡتَةٗ، قَرۡنٖ، تَسۡتَعۡجِلُونَ، صُمّٞ وَبُكۡمٞ۔
- واقعات: کل ۸ واقعات/مناظر (حصہ ۶)۔
- اسباق: کل ۴۱ اسباق (حصہ ۷)۔
۹۔ مختصر سوالات مع جوابات (ہر قسم)
ہر قسم کے مختصر سوالات (عام طور پر ہر سوال کے ۲ نمبر) مع جوابات۔ امتحان سے پہلے ان کو دہرائیں۔
تعارفِ سورت (5 سوالات)
سوال 1۔ سورۃ الانعام کی فضیلت میں نبی کریم ﷺ کا کون سا ارشاد آتا ہے؟
- سورۃ الانعام قرآن مجید کی ابتدائی سات سورتوں میں سے ہے۔
- نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے یہ ابتدائی سات سورتیں پا لیں وہ ایک بڑا عالم ہے۔
سوال 2۔ سورۃ الانعام مکی ہے یا مدنی؟ اس کی آیات اور رکوع کی تعداد لکھیں۔
- سورۃ الانعام مکی سورت ہے۔
- اس کی آیات ۱۶۵ اور رکوع ۲۰ ہیں۔
سوال 3۔ سورۃ الانعام کا مختصر تعارف لکھیں۔
- سورۃ الانعام قرآن مجید کی چھٹی سورت ہے اور ساتویں پارے سے شروع ہوتی ہے۔
- یہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی، اس کی ۱۶۵ آیات اور ۲۰ رکوع ہیں۔
- اس میں مشرکین کے باطل عقائد کی تردید کی گئی ہے۔
سوال 4۔ سورۃ الانعام کی ترتیب اور پارہ بتائیں۔
- یہ قرآن مجید کی چھٹی سورت ہے۔
- یہ ساتویں پارے سے شروع ہوتی ہے۔
سوال 5۔ سورۃ الانعام میں کن لوگوں کے نظریات کی تردید کی گئی ہے؟
- اس سورت میں ان مشرکین کے نظریات کی تردید کی گئی ہے جو اپنے جانوروں اور مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے۔
- وہ خود ساختہ عقائد سے بعض جانور حلال اور بعض حرام قرار دیتے تھے۔
وجہِ تسمیہ (3 سوالات)
سوال 6۔ سورۃ الانعام کا نام «الانعام» کیوں رکھا گیا؟
- اس سورت کی آیت ۱۳۶ میں لفظ الانعام (مویشی) آیا ہے، اسی مناسبت سے نام رکھا گیا۔
- الانعام، النعم کی جمع ہے جس کے معنی مویشی ہیں۔
سوال 7۔ الانعام کا لفظ کس آیت میں آیا ہے اور اس کے معنی کیا ہیں؟
- الانعام کا لفظ آیت ۱۳۶ میں ہے۔
- اس کے معنی مویشی ہیں۔
سوال 8۔ آیت ۱۳۶ میں مشرکین مویشیوں کے بارے میں کیا کرتے تھے؟
- وہ کھیتی اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور ایک شریکوں کے لیے مقرر کرتے تھے۔
- شریکوں کا حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جاتا مگر اللہ تعالیٰ کا حصہ شریکوں کو دے دیتے تھے۔
شانِ نزول (4 سوالات)
سوال 9۔ مشرکین دلائلِ توحید کے سامنے کیا رویہ اختیار کرتے تھے؟
- وہ دلائل سے اعراض کرتے تھے۔
- عاجز ہو کر بے بنیاد اعتراضات شروع کر دیتے تھے (آیات ۴، ۲۵، ۳۷)۔
سوال 10۔ مشرکین انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے؟
- وہ توحید کی دعوت دینے والوں کا مذاق اڑاتے اور انبیائے کرام علیہم السلام کو جادوگر کہتے تھے۔
- وہ فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے تھے (آیات ۷ تا ۱۰)۔
سوال 11۔ آیت ۸ میں مشرکین کے مطالبۂ فرشتہ کا کیا جواب ہے؟
- فرمایا گیا اگر فرشتہ اتارا جاتا تو فیصلہ ہو چکا ہوتا۔
- پھر انھیں مہلت نہ دی جاتی۔
سوال 12۔ سورۃ الانعام کب اور کن حالات میں نازل ہوئی؟ (کتاب کے مطابق)
- سورۃ الانعام مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
- مشرکین بتوں کو جانوروں میں حصہ دار ٹھہراتے اور خود ساختہ عقائد سے جانور حلال و حرام کرتے تھے۔
- اس سورت میں توحید، رسالت اور آخرت کے دلائل دے کر ان کی تردید کی گئی۔
مرکزی موضوع (11 سوالات)
سوال 13۔ سورۃ الانعام کا مرکزی موضوع لکھیں۔
- سورۃ الانعام کا مرکزی موضوع توحید، رسالت، آخرت اور معاشرتی زندگی کے احکام کا بیان ہے۔
سوال 14۔ سورۃ الانعام کے کوئی چار بنیادی مضامین لکھیں۔
- اسلام کے بنیادی عقائد کی تفصیل۔
- اللہ تعالیٰ کی صفات اور قدرت کے دلائل۔
- وحی، رسالت اور قیامت کا اثبات۔
- کفار کے اعتراضات کے احسن جوابات۔
سوال 15۔ مشرکین مکہ مکرمہ کو کس چیز میں غور و فکر کی دعوت دی گئی؟
- انھیں تخلیقِ انسانی اور تخلیقِ کائنات میں غور و فکر کی دعوت دی گئی (آیات ۱، ۲، ۹۵ تا ۹۹)۔
سوال 16۔ فریم ورک کے مطابق سورۃ الانعام کے دو منتخب مضامین لکھیں۔
- نظریات اور معاشرتی رویوں کے بارے میں اسلامی احکامات اور ہمارے قابلِ اصلاح رویے۔
- ذبیحہ اور جانوروں کی حلت و حرمت کے شرعی احکام۔
سوال 17۔ حلال و حرام کا اختیار کس کے پاس ہے؟ آیات کی روشنی میں بتائیں۔
- حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
- آیات ۱۴۳، ۱۴۴ میں مشرکین سے علمی دلیل مانگی گئی کہ کس نے نر یا مادہ حرام کیے، وہ دلیل نہ دے سکے۔
سوال 18۔ آیت ۱۴۵ میں کون سی چار چیزیں حرام ہیں؟
- مردار۔
- بہتا ہوا خون۔
- خنزیر کا گوشت۔
- وہ جانور جس پر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا نام پکارا جائے۔
سوال 19۔ مجبوری کی حالت میں حرام چیز کھانے کا کیا حکم ہے؟
- انتہائی مجبوری میں رخصت ہے۔
- شرط یہ ہے کہ نہ سرکش ہو اور نہ ضرورت سے بڑھنے والا (آیت ۱۴۵)۔
سوال 20۔ آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳ کے کوئی پانچ احکام لکھیں۔
- اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔
- والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔
- تنگ دستی کے ڈر سے اولاد کو قتل نہ کرنا۔
- یتیم کے مال کی حفاظت کرنا۔
- ناپ تول انصاف سے پورا کرنا۔
سوال 21۔ آیت ۱۵۲ میں بات کہنے کے بارے میں کیا ہدایت دی گئی ہے؟
- جب بھی بات کرو تو عدل کرو۔
- چاہے وہ کوئی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (آیت ۱۵۲)۔
سوال 22۔ آیت ۱۵۳ کی روشنی میں صراطِ مستقیم کے بارے میں کیا حکم ہے؟
- یہی اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ ہے، اسی کی پیروی کرو۔
- دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے الگ کر دیں گے (آیت ۱۵۳)۔
سوال 23۔ آیت ۱۶۰ کے مطابق نیکی اور برائی کا بدلہ کیا ہے؟
- ایک نیکی کا بدلہ اس جیسی دس نیکیاں ہیں۔
- ایک برائی کی سزا صرف اس کے برابر ہے۔
- کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
الفاظ کے معانی (6 سوالات)
سوال 24۔ «قَرۡنٖ» کے معنی لکھیں۔
- معنی: ایک زمانہ یا ایک قوم (نسل)۔
- یہ لفظ آیت ۶ میں آیا ہے۔
سوال 25۔ «حَاقَ» کے معنی لکھیں اور بتائیں کہ یہ کس آیت میں آیا ہے۔
- معنی: اس نے گھیر لیا۔
- یہ لفظ آیت ۱۰ میں آیا ہے۔
سوال 26۔ «يُجَادِلُونَ» کے معنی اور آیت نمبر بتائیں۔
- معنی: وہ جھگڑا / بحث کرتے ہیں۔
- یہ لفظ آیت ۲۵ میں آیا ہے۔
سوال 27۔ «بَغۡتَةٗ» کے معنی لکھیں۔
- معنی: اچانک۔
- یہ لفظ آیت ۳۱ میں آیا ہے۔
سوال 28۔ «صُمّٞ وَبُكۡمٞ» کے معنی لکھیں اور آیت نمبر بتائیں۔
- معنی: بہرے اور گونگے۔
- یہ الفاظ آیت ۳۹ میں آئے ہیں۔
سوال 29۔ «تَسۡتَعۡجِلُونَ» کے معنی اور آیت نمبر بتائیں۔
- معنی: تم جلدی کرتے ہو۔
- یہ لفظ آیت ۵۸ میں آیا ہے۔
واقعات (12 سوالات)
سوال 30۔ پچھلی قوموں کے انجام سے مشرکین کو کیا سبق دیا گیا؟
- پہلی قوموں کو اقتدار، بارشیں اور نہریں ملیں مگر گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دی گئیں (آیت ۶)۔
- زمین میں چل پھر کر جھٹلانے والوں کا انجام دیکھنے کا حکم ہے (آیت ۱۱)۔
سوال 31۔ قیامت کے دن مشرکین اپنے بارے میں کیا کہیں گے؟ دو باتیں لکھیں۔
- ہم مشرک نہ تھے (آیت ۲۳)۔
- کاش ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے (آیت ۲۷)۔
سوال 32۔ کیا قیامت کے دن لوٹائے جانے کی آرزو سچی ہوگی؟ آیت ۲۸ سے جواب دیں۔
- نہیں، اگر انھیں لوٹا بھی دیا جائے تو وہی کام کریں گے جس سے منع کیے گئے تھے۔
- اس لیے وہ جھوٹے ہیں (آیت ۲۸)۔
سوال 33۔ آیت ۳۵ میں نبی کریم ﷺ کو کس بات پر تسلی دی گئی؟
- آپ پر کافروں کا منہ پھیرنا گراں گزرتا تھا۔
- فرمایا اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا، آپ نادانوں میں سے نہ ہوں۔
سوال 34۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آزر سے کیا فرمایا؟
- آپ نے فرمایا کیا تُو بتوں کو معبود بناتا ہے؟
- میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں (آیت ۷۴)۔
سوال 35۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستارے، چاند اور سورج کو دیکھ کر کیا فرمایا؟
- ہر ایک کو دیکھ کر فرمایا کیا یہ میرا ربّ ہے؟
- جب وہ غروب ہو گئے تو فرمایا میں غروب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
- آخر میں قوم کے شرک سے بے زاری کا اعلان فرمایا (آیات ۷۶ تا ۷۸)۔
سوال 36۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے استدلال سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
- جو چیز غروب ہو کر غائب ہو جائے وہ ربّ نہیں ہو سکتی۔
- ہمیں دلیل کے ساتھ توحید پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔
سوال 37۔ آیت ۷۹ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا اعلان فرمایا؟
- انھوں نے سب سے الگ ہو کر اپنا رخ اس طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا۔
- فرمایا کہ میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
سوال 38۔ آیات ۸۲، ۸۳ کے مطابق امن اور ہدایت کن لوگوں کے لیے ہے؟
- ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم (شرک) سے نہ ملایا۔
- یہی لوگ امن والے اور ہدایت یافتہ ہیں۔
سوال 39۔ آیات ۸۴ تا ۸۶ میں ذکر ہونے والے کوئی چھ انبیائے کرام علیہم السلام کے نام لکھیں۔
- اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام۔
- نوح علیہ السلام، داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام۔
- یوسف علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام وغیرہ۔
سوال 40۔ آیت ۸۸ میں شرک کا انجام کیا بتایا گیا؟
- اگر وہ انبیاء بھی شرک کرتے تو ان کے تمام اعمال برباد ہو جاتے۔
- اس سے شرک کی سنگینی معلوم ہوتی ہے۔
سوال 41۔ آیت ۱۵۴ اور ۱۵۵ میں موسیٰ علیہ السلام کی کتاب اور قرآن مجید کا کیا ذکر ہے؟
- موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی گئی جو تفصیل، ہدایت اور رحمت تھی۔
- قرآن مجید بابرکت کتاب ہے، اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ رحم ہو۔
اسباق (41 سوالات)
سوال 42۔ آیات ۱ تا ۳ کی روشنی میں «اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے آسمان، زمین، اندھیرے اور روشنی بنائی (آیت ۱)۔
- کافر پھر بھی دوسروں کو اپنے ربّ کے برابر ٹھہراتے ہیں (آیت ۱)۔
- اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور زندگی کی مدت مقرر کی (آیت ۲)۔
سوال 43۔ آیات ۴ تا ۱۰ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (نشانیوں سے منہ موڑنا اور حق کو جھٹلانا برا انجام لاتا ہے)
- مشرکین ہر نشانی سے منہ موڑ لیتے تھے (آیت ۴)۔
- انھوں نے حق کو جھٹلایا تو جس کا مذاق اڑاتے تھے اس کی خبر آ جائے گی (آیت ۵)۔
- رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے گھیر لیا (آیت ۱۰)۔
سوال 44۔ آیات ۶ تا ۴۵ کی روشنی میں «پچھلی قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنا» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- پہلی قوموں کو زمین میں اقتدار، بارشیں اور نہریں ملیں مگر گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دی گئیں (آیت ۶)۔
- زمین میں چل پھر کر جھٹلانے والوں کا انجام دیکھنے کا حکم ہے (آیت ۱۱)۔
- ظلم کرنے والوں کی جڑ کاٹ دی گئی (آیت ۴۵)۔
سوال 45۔ آیات ۷ تا ۱۱۱ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (ایمان نہ لانے والوں کو کوئی معجزہ فائدہ نہیں دیتا)
- کاغذ پر لکھی کتاب چھو بھی لیتے تو کہتے یہ کھلا جادو ہے (آیت ۷)۔
- فرشتہ اتارنے کا مطالبہ ہوا؛ فرشتہ آتا تو فیصلہ ہو چکا ہوتا (آیت ۸)۔
- فرشتے اتر آئیں اور مردے بات کریں تب بھی ایمان نہ لاتے الا یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے (آیت ۱۱۱)۔
سوال 46۔ آیات ۱۲ تا ۵۴ کی روشنی میں «اللہ تعالیٰ نے رحمت کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے (آیت ۱۲)۔
- اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی اور قیامت کے دن سب کو جمع کرے گا (آیت ۱۲)۔
- نادانی سے برائی کر کے توبہ اور اصلاح کرنے والے کے لیے وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے (آیت ۵۴)۔
سوال 47۔ آیات ۱۳ تا ۱۸ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اور سب سے پہلے فرماں بردار بننا)
- اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کو کارساز نہ بنایا جائے، وہ کھلاتا ہے اسے کھلایا نہیں جاتا (آیت ۱۴)۔
- نبی کریم ﷺ کو حکم ہوا کہ سب سے پہلے فرماں بردار بنیں اور مشرکوں میں سے نہ ہوں (آیت ۱۴)۔
- نافرمانی پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے اور عذاب سے بچ جانا کھلی کامیابی ہے (آیات ۱۵، ۱۶)۔
سوال 48۔ آیات ۱۹ تا ۲۱ کی روشنی میں «سب سے بڑی گواہی اللہ تعالیٰ کی ہے اور شرک سب سے بڑا ظلم» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- اللہ تعالیٰ میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے (آیت ۱۹)۔
- قرآن مجید ڈرانے کے لیے وحی کیا گیا؛ معبود صرف ایک ہے اور مشرکوں سے بیزاری کا اعلان ہے (آیت ۱۹)۔
- اہلِ کتاب نبی کریم ﷺ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں (آیت ۲۰)۔
سوال 49۔ آیات ۲۲ تا ۳۱ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (قیامت کے دن جھوٹے عذر کام نہ آئیں گے)
- مشرکوں سے پوچھا جائے گا: تمھارے شریک کہاں ہیں (آیت ۲۲)۔
- وہ جھوٹی قسم کھا کر کہیں گے ہم مشرک نہ تھے مگر ان کے جھوٹے شریک گم ہو جائیں گے (آیات ۲۳، ۲۴)۔
- آگ کے کنارے کھڑے ہو کر واپسی کی تمنا کریں گے مگر واپس ہوں تو پھر وہی کریں گے (آیات ۲۷، ۲۸)۔
سوال 50۔ آیات ۲۵ تا ۴۶ کی روشنی میں «ہدایت سے محروم لوگوں کا حال» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- کچھ لوگ کان لگاتے ہیں مگر دلوں پر پردے اور کانوں میں بوجھ ہے (آیت ۲۵)۔
- وہ دوسروں کو روکتے اور خود بھی دور بھاگتے ہیں؛ اس طرح خود کو ہلاک کرتے ہیں (آیت ۲۶)۔
- آیات کو جھٹلانے والے بہرے اور گونگے ہیں اور اندھیروں میں ہیں (آیت ۳۹)۔
سوال 51۔ آیات ۲۹ تا ۳۲ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے اور آخرت بہتر ہے)
- کافر کہتے ہیں ہماری تو بس دنیا کی زندگی ہے اور دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے (آیت ۲۹)۔
- وہ اپنے ربّ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور عذاب چکھیں گے (آیت ۳۰)۔
- دنیا کی زندگی کھیل اور تماشا ہے اور آخرت کا گھر ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے (آیت ۳۲)۔
سوال 52۔ آیات ۳۳ تا ۳۵ کی روشنی میں «صبر اور رسولوں کی پیروی» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- کفار نبی کریم ﷺ کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں (آیت ۳۳)۔
- پہلے رسولوں نے جھٹلائے جانے اور ایذاؤں پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ کی مدد آ پہنچی (آیت ۳۴)۔
- نادانوں میں سے نہ ہونا؛ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا (آیت ۳۵)۔
سوال 53۔ آیات ۳۶ تا ۳۷ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (حق وہی قبول کرتا ہے جو سنتا ہے)
- حق کو سننے والے ہی قبول کرتے ہیں (آیت ۳۶)۔
- اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے اٹھائے گا اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے (آیت ۳۶)۔
- اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے پر قادر ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (آیت ۳۷)۔
سوال 54۔ آیت ۳۸ کی روشنی میں «جانور اور پرندے بھی امتیں ہیں» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- زمین پر چلنے والے جانور اور اپنے بازوؤں سے اڑنے والے پرندے تمھاری طرح جماعتیں ہیں۔
- ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔
- وہ سب اپنے ربّ کی طرف جمع کیے جائیں گے۔
سوال 55۔ آیات ۴۰ تا ۶۴ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (مصیبت میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا جاتا ہے)
- عذاب یا قیامت آ جائے تو انسان اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے (آیات ۴۰، ۴۱)۔
- اس وقت شریکوں کو بھول جاتے ہیں (آیت ۴۱)۔
- خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے نجات اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے مگر پھر لوگ شرک کرتے ہیں (آیات ۶۳، ۶۴)۔
سوال 56۔ آیات ۴۲ تا ۴۵ کی روشنی میں «آزمائش، ڈھیل اور اچانک پکڑ» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- پہلی امتوں کو سختیوں اور تکلیفوں سے پکڑا تاکہ عاجزی کریں (آیت ۴۲)۔
- انھوں نے عاجزی نہ کی، دل سخت ہو گئے اور شیطان نے برے کام خوش نما بنا دیے (آیت ۴۳)۔
- نصیحت بھولے تو ہر چیز کے دروازے کھول دیے، پھر اچانک پکڑ لیا (آیت ۴۴)۔
سوال 57۔ آیات ۴۸ تا ۴۹ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (رسولوں کا کام خوش خبری دینا اور ڈرانا ہے)
- رسول خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے (آیت ۴۸)۔
- جو ایمان لائے اور اصلاح کرے اس پر نہ خوف ہے نہ غم (آیت ۴۸)۔
- آیات کو جھٹلانے والوں کو نافرمانی کی وجہ سے عذاب ہوگا (آیت ۴۹)۔
سوال 58۔ آیات ۵۰ تا ۵۷ کی روشنی میں «نبی کریم ﷺ کا اعلان: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور رسول ہوں» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں، میں از خود غیب نہیں جانتا اور میں فرشتہ نہیں ہوں (آیت ۵۰)۔
- میں صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں؛ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں (آیت ۵۰)۔
- مجھے مشرکوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا اور میں ان کی خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا (آیت ۵۶)۔
سوال 59۔ آیات ۵۱ تا ۵۴ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (غریب ایمان والوں کی قدر اور ایمان والوں کو سلام)
- قرآن مجید سے ان کو ڈرائیں جو اپنے ربّ کے سامنے جمع ہونے سے ڈرتے ہیں (آیت ۵۱)۔
- صبح و شام اپنے ربّ کو پکارنے والوں کو اپنے سے دور نہ کریں (آیت ۵۲)۔
- ایمان والے آئیں تو ان سے کہیں: تم پر سلام ہو (آیت ۵۴)۔
سوال 60۔ آیات ۵۹ تا ۶۲ کی روشنی میں «اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- غیب کی چابیاں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں (آیت ۵۹)۔
- کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ جانتا ہے (آیت ۵۹)۔
- رات کو روحیں قبض کرتا اور دن میں اٹھاتا ہے (آیت ۶۰)۔
سوال 61۔ آیات ۶۵ تا ۶۷ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (اللہ تعالیٰ ہر عذاب پر قادر ہے اور ہر خبر کا وقت مقرر ہے)
- اللہ تعالیٰ اوپر یا پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیج سکتا ہے یا گروہوں میں بانٹ کر لڑا سکتا ہے (آیت ۶۵)۔
- نبی کریم ﷺ لوگوں پر نگہبان نہیں ہیں (آیت ۶۶)۔
- ہر خبر کے واقع ہونے کا ایک وقت مقرر ہے (آیت ۶۷)۔
سوال 62۔ آیات ۶۸ تا ۷۰ کی روشنی میں «آیات کا مذاق اڑانے والوں سے کنارہ کرنا» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- جو آیات میں فضول بحث کریں ان سے منہ پھیر لیں یہاں تک کہ وہ دوسری بات میں لگ جائیں (آیت ۶۸)۔
- شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں (آیت ۶۸)۔
- پرہیز گاروں پر ان کا حساب نہیں؛ ان کے ذمہ نصیحت کرنا ہے (آیت ۶۹)۔
سوال 63۔ آیات ۷۱ تا ۷۳ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (ہدایت اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے اور نماز کی تاکید)
- اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو نہ پکاریں جو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے (آیت ۷۱)۔
- اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے (آیت ۷۱)۔
- نماز قائم کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو؛ سب اسی کی طرف جمع ہوں گے (آیت ۷۲)۔
سوال 64۔ آیات ۷۴ تا ۸۳ کی روشنی میں «حضرت ابراہیم علیہ السلام کا استدلال: غروب ہونے والا ربّ نہیں ہو سکتا» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- انھوں نے آزر سے کہا: کیا بتوں کو معبود بناتے ہو (آیت ۷۴)۔
- ستارے، چاند اور سورج غروب ہوئے تو فرمایا میں غروب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا (آیات ۷۶ تا ۷۸)۔
- انھوں نے سب سے الگ ہو کر آسمان و زمین کے خالق کی طرف رخ کر لیا اور مشرک نہ رہے (آیت ۷۹)۔
سوال 65۔ آیات ۸۴ تا ۹۰ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (انبیائے کرام کی ہدایت اور شرک سے اعمال کی بربادی)
- اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام عطا کیے اور سب انبیاء کو ہدایت دی (آیات ۸۴ تا ۸۶)۔
- سب کو اپنے زمانے کے لوگوں پر فضیلت دی (آیت ۸۶)۔
- اگر وہ شرک کرتے تو ان کے اعمال برباد ہو جاتے (آیت ۸۸)۔
سوال 66۔ آیات ۹۱ تا ۹۴ کی روشنی میں «اللہ تعالیٰ کی قدر کرنا اور قرآن مجید کی پیروی» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- جنھوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے انسان پر کچھ نہیں اتارا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی (آیت ۹۱)۔
- موسیٰ علیہ السلام کی کتاب نور اور ہدایت تھی (آیت ۹۱)۔
- قرآن مجید بابرکت کتاب ہے اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے (آیت ۹۲)۔
سوال 67۔ آیات ۹۵ تا ۹۹ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں)
- اللہ تعالیٰ دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا اور مردہ سے زندہ نکالتا ہے (آیت ۹۵)۔
- رات کی تاریکی چاک کر کے صبح لاتا، رات کو آرام اور سورج چاند کو حساب کے لیے بنایا (آیت ۹۶)۔
- ستارے خشکی اور سمندر میں راستے معلوم کرنے کے لیے ہیں (آیت ۹۷)۔
سوال 68۔ آیات ۱۰۰ تا ۱۰۳ کی روشنی میں «اللہ تعالیٰ کی ذات: شریک اور اولاد سے پاک» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- جنّات کو شریک بنانا اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں گھڑنا باطل ہے (آیت ۱۰۰)۔
- اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا ایجاد کرنے والا ہے، اس کی بیوی نہیں تو بیٹا کیسے (آیت ۱۰۱)۔
- وہ ہر چیز کا خالق ہے اس لیے اسی کی عبادت کرو (آیت ۱۰۲)۔
سوال 69۔ آیات ۱۰۴ تا ۱۰۸ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (وحی کی پیروی اور دوسروں کے معبودوں کو برا نہ کہنا)
- واضح دلیلیں آ چکی ہیں؛ جس نے دیکھا اپنے فائدے کے لیے اور جو اندھا بنا اپنا نقصان کیا (آیت ۱۰۴)۔
- نبی کریم ﷺ وحی کی پیروی کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیں (آیت ۱۰۶)۔
- مشرکوں کے معبودوں کو برا نہ کہو ورنہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کو برا کہیں گے (آیت ۱۰۸)۔
سوال 70۔ آیات ۱۰۹ تا ۱۱۳ کی روشنی میں «ہر نبی کے دشمن اور فریب سے بچنا» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیطان دشمن بنائے گئے جو بناوٹی باتوں کی سرگوشی کرتے ہیں (آیت ۱۱۲)۔
- آخرت پر یقین نہ رکھنے والوں کے دل اس فریب کی طرف مائل ہوتے ہیں (آیت ۱۱۳)۔
سوال 71۔ آیات ۱۱۴ تا ۱۱۷ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (اکثریت کی پیروی نہ کرنا اور اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرنے والا ہے)
- اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی فیصلہ کرنے والا تلاش نہیں کرنا چاہیے (آیت ۱۱۴)۔
- اللہ تعالیٰ کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے پوری ہے، کوئی اسے بدلنے والا نہیں (آیت ۱۱۵)۔
- زمین کے اکثر لوگوں کی بات ماننے سے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بھٹک جاؤ گے (آیت ۱۱۶)۔
سوال 72۔ آیات ۱۱۸ تا ۱۲۱ کی روشنی میں «ذبیحہ کے احکام: اللہ تعالیٰ کا نام لینا» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- جس جانور پر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ (آیت ۱۱۸)۔
- اللہ تعالیٰ نے حرام چیزیں تفصیل سے بتا دی ہیں سوائے مجبوری کے (آیت ۱۱۹)۔
- جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ، یہ گناہ ہے (آیت ۱۲۱)۔
سوال 73۔ آیات ۱۲۲ تا ۱۲۷ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (مومن اور کافر کی مثال اور ہدایت کا ذریعہ)
- مومن مردہ تھا پھر اسے زندہ کر کے روشنی دی گئی؛ وہ اندھیروں والے کے برابر نہیں (آیت ۱۲۲)۔
- ہر بستی میں مجرم سردار فریب کرتے ہیں مگر خود اپنے ساتھ (آیت ۱۲۳)۔
- اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہے تو سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے (آیت ۱۲۵)۔
سوال 74۔ آیات ۱۲۸ تا ۱۳۵ کی روشنی میں «جنات اور انسانوں کا حساب اور اللہ تعالیٰ کا عدل» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- اللہ تعالیٰ جنّات اور انسانوں سے حساب لے گا (آیات ۱۲۸، ۱۳۰)۔
- اللہ تعالیٰ کبھی بستیوں کو ظلم کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتا جب تک بے خبر ہوں (آیت ۱۳۱)۔
- ہر ایک کے اعمال کے مطابق درجے ہیں (آیت ۱۳۲)۔
سوال 75۔ آیات ۱۳۶ تا ۱۴۰ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (جاہلی رسموں کی تردید)
- کھیتی اور مویشیوں میں اللہ تعالیٰ اور شریکوں کا حصہ مقرر کرنا غلط فیصلہ ہے (آیت ۱۳۶)۔
- شریکوں نے اولاد کا قتل خوش نما بنا دیا (آیت ۱۳۷)۔
- مویشی اور کھیتی کو اپنے خیال سے ممنوع قرار دینا، سواری حرام کرنا اور ذبح پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لینا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ ہے (آیت ۱۳۸)۔
سوال 76۔ آیات ۱۴۱ تا ۱۴۲ کی روشنی میں «اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حق ادا کرنا اور اسراف سے بچنا» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- اللہ تعالیٰ نے باغات، کھجور، کھیتی، زیتون اور انار پیدا کیے (آیت ۱۴۱)۔
- پھل کھاؤ اور فصل کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو (آیت ۱۴۱)۔
- بے جا خرچ نہ کرو، اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (آیت ۱۴۱)۔
سوال 77۔ آیات ۱۴۳ تا ۱۴۷ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے)
- اللہ تعالیٰ نے بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے کے جوڑے پیدا کیے؛ نر یا مادہ کو حرام کہنے کی علمی دلیل مانگی گئی (آیات ۱۴۳، ۱۴۴)۔
- حرام صرف مردار، بہتا خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور ہے جس پر غیر اللہ تعالیٰ کا نام پکارا جائے (آیت ۱۴۵)۔
- مجبوری میں سرکشی اور حد سے بڑھے بغیر کھانے پر اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے (آیت ۱۴۵)۔
سوال 78۔ آیات ۱۴۸ تا ۱۵۰ کی روشنی میں «بہانوں کی تردید اور دلیل اللہ تعالیٰ کے پاس ہے» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- مشرک کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے؛ یہ صرف گمان ہے (آیت ۱۴۸)۔
- کامل دلیل اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے اور وہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا (آیت ۱۴۹)۔
- جھوٹی گواہی دینے والوں کے ساتھ گواہی نہ دیں اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں (آیت ۱۵۰)۔
سوال 79۔ آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (سورت کے دس بنیادی احکام)
- اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
- والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
- اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔
سوال 80۔ آیات ۱۵۴ تا ۱۵۸ کی روشنی میں «قرآن مجید کی پیروی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ملی جو تفصیل، ہدایت اور رحمت تھی (آیت ۱۵۴)۔
- قرآن مجید بابرکت کتاب ہے؛ اس کی پیروی کرو اور ڈرتے رہو تاکہ رحم کیا جائے (آیت ۱۵۵)۔
- اب یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو پہلے دو گروہوں پر اتری تھی (آیت ۱۵۶)۔
سوال 81۔ آیات ۱۵۹ تا ۱۶۰ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ (دین میں تفرقہ سے بچنا اور نیکی کا بدلہ)
- جو دین میں تفرقہ ڈال کر گروہ گروہ ہو گئے نبی کریم ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں (آیت ۱۵۹)۔
- ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے اور ایک برائی کی سزا صرف اتنی ہی ہے (آیت ۱۶۰)۔
سوال 82۔ آیات ۱۶۱ تا ۱۶۵ کی روشنی میں «نماز، قربانی، جینا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے اور ہر کوئی اپنا بوجھ اٹھائے گا» کے بارے میں دو نکات لکھیں۔
- اللہ تعالیٰ نے مجھے ملتِ ابراہیم علیہ السلام کی طرف ہدایت دی جو یک سو تھے (آیت ۱۶۱)۔
- میری نماز، قربانی، جینا اور مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں (آیات ۱۶۲، ۱۶۳)۔
- کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (آیت ۱۶۴)۔
۱۰۔ تفصیلی سوالات مع جوابات (عنوانات کے ساتھ)
تفصیلی سوالات (۸ نمبر): جواب عنوانات کے ساتھ لکھیں، ہر عنوان کے نیچے نکات۔
تفصیلی سوال 1۔ سورۃ الانعام کا تعارف، وجہِ تسمیہ اور شانِ نزول (کتاب کے مطابق) تفصیل سے لکھیں۔
تعارف
- چھٹی سورت، ساتویں پارے سے شروع، مکی۔
- ۱۶۵ آیات اور ۲۰ رکوع۔
- ابتدائی سات سورتوں میں سے؛ فضیلت کا ارشاد نبوی۔
وجہِ تسمیہ
- آیت ۱۳۶ میں لفظ الانعام (مویشی) آیا ہے۔
- الانعام، النعم کی جمع ہے۔
شانِ نزول
- مکہ مکرمہ کے مشرکین بتوں کو جانوروں میں حصہ دار ٹھہراتے تھے۔
- وہ جانور حلال و حرام کرتے، انبیاء کو جادوگر کہتے اور فرشتے اتارنے کا مطالبہ کرتے تھے۔
- سورت میں توحید، رسالت اور آخرت کے دلائل سے تردید کی گئی۔
تفصیلی سوال 2۔ سورۃ الانعام کا مرکزی موضوع اور بنیادی مضامین بیان کریں۔
مرکزی موضوع
- توحید، رسالت، آخرت اور معاشرتی زندگی کے احکام۔
عقائد اور دلائل
- اسلام کے بنیادی عقائد کی تفصیل۔
- توحید کے دلائل، اللہ تعالیٰ کی صفات اور قدرت۔
رسالت و آخرت
- وحی اور رسالت کا اثبات۔
- قیامت، جزا اور سزا کی تفصیلات۔
اعتراضات کے جوابات
- کفار کے اعتراضات ذکر کر کے احسن جوابات۔
- مشرکین کو تخلیقِ انسانی و کائنات میں غور کی دعوت۔
تفصیلی سوال 3۔ سورۃ الانعام کے آغاز (آیات ۱ تا ۱۱) سے ملنے والے اسباق تفصیل سے لکھیں۔
اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے
- تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے آسمان، زمین، اندھیرے اور روشنی بنائی (آیت ۱)۔
- کافر پھر بھی دوسروں کو اپنے ربّ کے برابر ٹھہراتے ہیں (آیت ۱)۔
- اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور زندگی کی مدت مقرر کی (آیت ۲)۔
- وہ پوشیدہ اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے (آیت ۳)۔
نشانیوں سے منہ موڑنا اور حق کو جھٹلانا برا انجام لاتا ہے
- مشرکین ہر نشانی سے منہ موڑ لیتے تھے (آیت ۴)۔
- انھوں نے حق کو جھٹلایا تو جس کا مذاق اڑاتے تھے اس کی خبر آ جائے گی (آیت ۵)۔
- رسولوں کا مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے گھیر لیا (آیت ۱۰)۔
پچھلی قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنا
- پہلی قوموں کو زمین میں اقتدار، بارشیں اور نہریں ملیں مگر گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دی گئیں (آیت ۶)۔
- زمین میں چل پھر کر جھٹلانے والوں کا انجام دیکھنے کا حکم ہے (آیت ۱۱)۔
- ظلم کرنے والوں کی جڑ کاٹ دی گئی (آیت ۴۵)۔
ایمان نہ لانے والوں کو کوئی معجزہ فائدہ نہیں دیتا
- کاغذ پر لکھی کتاب چھو بھی لیتے تو کہتے یہ کھلا جادو ہے (آیت ۷)۔
- فرشتہ اتارنے کا مطالبہ ہوا؛ فرشتہ آتا تو فیصلہ ہو چکا ہوتا (آیت ۸)۔
- فرشتے اتر آئیں اور مردے بات کریں تب بھی ایمان نہ لاتے الا یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہے (آیت ۱۱۱)۔
تفصیلی سوال 4۔ قیامت کے دن مشرکین اور منکرین کی کیفیت بیان کریں۔
قیامت کے دن جھوٹے عذر کام نہ آئیں گے
- مشرکوں سے پوچھا جائے گا: تمھارے شریک کہاں ہیں (آیت ۲۲)۔
- وہ جھوٹی قسم کھا کر کہیں گے ہم مشرک نہ تھے مگر ان کے جھوٹے شریک گم ہو جائیں گے (آیات ۲۳، ۲۴)۔
- آگ کے کنارے کھڑے ہو کر واپسی کی تمنا کریں گے مگر واپس ہوں تو پھر وہی کریں گے (آیات ۲۷، ۲۸)۔
- اللہ تعالیٰ کی ملاقات جھٹلانے والے خسارے میں ہیں اور اپنے بوجھ پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے (آیت ۳۱)۔
دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے اور آخرت بہتر ہے
- کافر کہتے ہیں ہماری تو بس دنیا کی زندگی ہے اور دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے (آیت ۲۹)۔
- وہ اپنے ربّ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور عذاب چکھیں گے (آیت ۳۰)۔
- دنیا کی زندگی کھیل اور تماشا ہے اور آخرت کا گھر ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے (آیت ۳۲)۔
اللہ تعالیٰ نے رحمت کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا
- سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے (آیت ۱۲)۔
- اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی اور قیامت کے دن سب کو جمع کرے گا (آیت ۱۲)۔
- نادانی سے برائی کر کے توبہ اور اصلاح کرنے والے کے لیے وہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے (آیت ۵۴)۔
تفصیلی سوال 5۔ ہدایت سے محروم لوگوں کے اوصاف اور ان کا انجام بیان کریں۔
ہدایت سے محروم لوگوں کا حال
- کچھ لوگ کان لگاتے ہیں مگر دلوں پر پردے اور کانوں میں بوجھ ہے (آیت ۲۵)۔
- وہ دوسروں کو روکتے اور خود بھی دور بھاگتے ہیں؛ اس طرح خود کو ہلاک کرتے ہیں (آیت ۲۶)۔
- آیات کو جھٹلانے والے بہرے اور گونگے ہیں اور اندھیروں میں ہیں (آیت ۳۹)۔
- کان، آنکھیں اور دل اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں؛ وہ چھین لے تو کوئی دوسرا معبود واپس نہیں لا سکتا (آیت ۴۶)۔
حق وہی قبول کرتا ہے جو سنتا ہے
- حق کو سننے والے ہی قبول کرتے ہیں (آیت ۳۶)۔
- اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے اٹھائے گا اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے (آیت ۳۶)۔
- اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے پر قادر ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (آیت ۳۷)۔
مصیبت میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا جاتا ہے
- عذاب یا قیامت آ جائے تو انسان اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے (آیات ۴۰، ۴۱)۔
- اس وقت شریکوں کو بھول جاتے ہیں (آیت ۴۱)۔
- خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے نجات اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے مگر پھر لوگ شرک کرتے ہیں (آیات ۶۳، ۶۴)۔
آزمائش، ڈھیل اور اچانک پکڑ
- پہلی امتوں کو سختیوں اور تکلیفوں سے پکڑا تاکہ عاجزی کریں (آیت ۴۲)۔
- انھوں نے عاجزی نہ کی، دل سخت ہو گئے اور شیطان نے برے کام خوش نما بنا دیے (آیت ۴۳)۔
- نصیحت بھولے تو ہر چیز کے دروازے کھول دیے، پھر اچانک پکڑ لیا (آیت ۴۴)۔
تفصیلی سوال 6۔ نبی کریم ﷺ کی بشری حیثیت اور رسولوں کے کام بیان کریں۔
رسولوں کا کام خوش خبری دینا اور ڈرانا ہے
- رسول خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے (آیت ۴۸)۔
- جو ایمان لائے اور اصلاح کرے اس پر نہ خوف ہے نہ غم (آیت ۴۸)۔
- آیات کو جھٹلانے والوں کو نافرمانی کی وجہ سے عذاب ہوگا (آیت ۴۹)۔
نبی کریم ﷺ کا اعلان: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور رسول ہوں
- میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں، میں از خود غیب نہیں جانتا اور میں فرشتہ نہیں ہوں (آیت ۵۰)۔
- میں صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں؛ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں (آیت ۵۰)۔
- مجھے مشرکوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا اور میں ان کی خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا (آیت ۵۶)۔
- میں اپنے ربّ کی واضح دلیل پر ہوں اور فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے (آیت ۵۷)۔
غریب ایمان والوں کی قدر اور ایمان والوں کو سلام
- قرآن مجید سے ان کو ڈرائیں جو اپنے ربّ کے سامنے جمع ہونے سے ڈرتے ہیں (آیت ۵۱)۔
- صبح و شام اپنے ربّ کو پکارنے والوں کو اپنے سے دور نہ کریں (آیت ۵۲)۔
- ایمان والے آئیں تو ان سے کہیں: تم پر سلام ہو (آیت ۵۴)۔
صبر اور رسولوں کی پیروی
- کفار نبی کریم ﷺ کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں (آیت ۳۳)۔
- پہلے رسولوں نے جھٹلائے جانے اور ایذاؤں پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ کی مدد آ پہنچی (آیت ۳۴)۔
- نادانوں میں سے نہ ہونا؛ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا (آیت ۳۵)۔
تفصیلی سوال 7۔ اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کے دلائل بیان کریں۔
اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
- غیب کی چابیاں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں (آیت ۵۹)۔
- کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ جانتا ہے (آیت ۵۹)۔
- رات کو روحیں قبض کرتا اور دن میں اٹھاتا ہے (آیت ۶۰)۔
- نگہبان فرشتے بھیجتا ہے اور موت کے وقت فرشتے روح قبض کرتے ہیں (آیت ۶۱)۔
- سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (آیت ۶۲)۔
اللہ تعالیٰ ہر عذاب پر قادر ہے اور ہر خبر کا وقت مقرر ہے
- اللہ تعالیٰ اوپر یا پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیج سکتا ہے یا گروہوں میں بانٹ کر لڑا سکتا ہے (آیت ۶۵)۔
- نبی کریم ﷺ لوگوں پر نگہبان نہیں ہیں (آیت ۶۶)۔
- ہر خبر کے واقع ہونے کا ایک وقت مقرر ہے (آیت ۶۷)۔
کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں
- اللہ تعالیٰ دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا اور مردہ سے زندہ نکالتا ہے (آیت ۹۵)۔
- رات کی تاریکی چاک کر کے صبح لاتا، رات کو آرام اور سورج چاند کو حساب کے لیے بنایا (آیت ۹۶)۔
- ستارے خشکی اور سمندر میں راستے معلوم کرنے کے لیے ہیں (آیت ۹۷)۔
- ایک جان سے انسان پیدا کیے (آیت ۹۸)۔
- آسمان سے پانی اتار کر ہر قسم کی نباتات، کھجور، انگور، زیتون اور انار اگائے (آیت ۹۹)۔
تفصیلی سوال 8۔ آیات کا مذاق اڑانے والوں سے کنارہ کشی اور ہدایت کے بارے میں تعلیمات لکھیں۔
آیات کا مذاق اڑانے والوں سے کنارہ کرنا
- جو آیات میں فضول بحث کریں ان سے منہ پھیر لیں یہاں تک کہ وہ دوسری بات میں لگ جائیں (آیت ۶۸)۔
- شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھیں (آیت ۶۸)۔
- پرہیز گاروں پر ان کا حساب نہیں؛ ان کے ذمہ نصیحت کرنا ہے (آیت ۶۹)۔
- دین کو کھیل تماشا بنانے والوں کو چھوڑ دیں (آیت ۷۰)۔
ہدایت اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے اور نماز کی تاکید
- اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو نہ پکاریں جو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے (آیت ۷۱)۔
- اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے (آیت ۷۱)۔
- نماز قائم کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو؛ سب اسی کی طرف جمع ہوں گے (آیت ۷۲)۔
- آسمان و زمین برحق پیدا کیے اور صور پھونکنے کے دن بادشاہی اسی کی ہوگی (آیت ۷۳)۔
وحی کی پیروی اور دوسروں کے معبودوں کو برا نہ کہنا
- واضح دلیلیں آ چکی ہیں؛ جس نے دیکھا اپنے فائدے کے لیے اور جو اندھا بنا اپنا نقصان کیا (آیت ۱۰۴)۔
- نبی کریم ﷺ وحی کی پیروی کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیں (آیت ۱۰۶)۔
- مشرکوں کے معبودوں کو برا نہ کہو ورنہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کو برا کہیں گے (آیت ۱۰۸)۔
تفصیلی سوال 9۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ اور اس کے اسباق بیان کریں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا استدلال: غروب ہونے والا ربّ نہیں ہو سکتا
- انھوں نے آزر سے کہا: کیا بتوں کو معبود بناتے ہو (آیت ۷۴)۔
- ستارے، چاند اور سورج غروب ہوئے تو فرمایا میں غروب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا (آیات ۷۶ تا ۷۸)۔
- انھوں نے سب سے الگ ہو کر آسمان و زمین کے خالق کی طرف رخ کر لیا اور مشرک نہ رہے (آیت ۷۹)۔
- اللہ تعالیٰ سے جھگڑنے والوں سے نہ ڈرے، ہدایت اللہ تعالیٰ سے ملی (آیت ۸۰)۔
- جو ایمان لائے اور ایمان کو ظلم سے نہ ملایا، امن اور ہدایت انھی کے لیے ہے (آیت ۸۲)۔
انبیائے کرام کی ہدایت اور شرک سے اعمال کی بربادی
- اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام عطا کیے اور سب انبیاء کو ہدایت دی (آیات ۸۴ تا ۸۶)۔
- سب کو اپنے زمانے کے لوگوں پر فضیلت دی (آیت ۸۶)۔
- اگر وہ شرک کرتے تو ان کے اعمال برباد ہو جاتے (آیت ۸۸)۔
- نبی کریم ﷺ کو انبیاء کے طریقے پر چلنے اور تبلیغ پر اجر نہ مانگنے کا حکم ہے (آیت ۹۰)۔
تفصیلی سوال 10۔ اللہ تعالیٰ کی توحید اور ذات کے متعلق باطل عقائد کی تردید لکھیں۔
اللہ تعالیٰ کی ذات: شریک اور اولاد سے پاک
- جنّات کو شریک بنانا اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں گھڑنا باطل ہے (آیت ۱۰۰)۔
- اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا ایجاد کرنے والا ہے، اس کی بیوی نہیں تو بیٹا کیسے (آیت ۱۰۱)۔
- وہ ہر چیز کا خالق ہے اس لیے اسی کی عبادت کرو (آیت ۱۰۲)۔
- نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں مگر وہ سب نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے (آیت ۱۰۳)۔
اللہ تعالیٰ کی قدر کرنا اور قرآن مجید کی پیروی
- جنھوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے انسان پر کچھ نہیں اتارا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی (آیت ۹۱)۔
- موسیٰ علیہ السلام کی کتاب نور اور ہدایت تھی (آیت ۹۱)۔
- قرآن مجید بابرکت کتاب ہے اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے (آیت ۹۲)۔
- آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں (آیت ۹۲)۔
- اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے موت کی سختیوں میں ذلت کے عذاب میں ہوں گے (آیت ۹۳)۔
ہر نبی کے دشمن اور فریب سے بچنا
- ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیطان دشمن بنائے گئے جو بناوٹی باتوں کی سرگوشی کرتے ہیں (آیت ۱۱۲)۔
- آخرت پر یقین نہ رکھنے والوں کے دل اس فریب کی طرف مائل ہوتے ہیں (آیت ۱۱۳)۔
تفصیلی سوال 11۔ اکثریت کی پیروی، وحی کی پیروی اور ذبیحہ کے احکام بیان کریں۔
اکثریت کی پیروی نہ کرنا اور اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرنے والا ہے
- اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی فیصلہ کرنے والا تلاش نہیں کرنا چاہیے (آیت ۱۱۴)۔
- اللہ تعالیٰ کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے پوری ہے، کوئی اسے بدلنے والا نہیں (آیت ۱۱۵)۔
- زمین کے اکثر لوگوں کی بات ماننے سے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بھٹک جاؤ گے (آیت ۱۱۶)۔
ذبیحہ کے احکام: اللہ تعالیٰ کا نام لینا
- جس جانور پر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ (آیت ۱۱۸)۔
- اللہ تعالیٰ نے حرام چیزیں تفصیل سے بتا دی ہیں سوائے مجبوری کے (آیت ۱۱۹)۔
- جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ، یہ گناہ ہے (آیت ۱۲۱)۔
- ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دو (آیت ۱۲۰)۔
مومن اور کافر کی مثال اور ہدایت کا ذریعہ
- مومن مردہ تھا پھر اسے زندہ کر کے روشنی دی گئی؛ وہ اندھیروں والے کے برابر نہیں (آیت ۱۲۲)۔
- ہر بستی میں مجرم سردار فریب کرتے ہیں مگر خود اپنے ساتھ (آیت ۱۲۳)۔
- اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہے تو سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے (آیت ۱۲۵)۔
- نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے سلامتی کا گھر ہے (آیت ۱۲۷)۔
تفصیلی سوال 12۔ جنات و انسان کے حساب اور اللہ تعالیٰ کے عدل کی تفصیل لکھیں۔
جنات اور انسانوں کا حساب اور اللہ تعالیٰ کا عدل
- اللہ تعالیٰ جنّات اور انسانوں سے حساب لے گا (آیات ۱۲۸، ۱۳۰)۔
- اللہ تعالیٰ کبھی بستیوں کو ظلم کی وجہ سے ہلاک نہیں کرتا جب تک بے خبر ہوں (آیت ۱۳۱)۔
- ہر ایک کے اعمال کے مطابق درجے ہیں (آیت ۱۳۲)۔
- اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، چاہے تو تمھیں لے جائے اور دوسروں کو لے آئے (آیت ۱۳۳)۔
- جس چیز کا وعدہ ہے وہ ضرور آئے گی (آیت ۱۳۴)۔
مومن اور کافر کی مثال اور ہدایت کا ذریعہ
- مومن مردہ تھا پھر اسے زندہ کر کے روشنی دی گئی؛ وہ اندھیروں والے کے برابر نہیں (آیت ۱۲۲)۔
- ہر بستی میں مجرم سردار فریب کرتے ہیں مگر خود اپنے ساتھ (آیت ۱۲۳)۔
- اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہے تو سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے (آیت ۱۲۵)۔
- نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے سلامتی کا گھر ہے (آیت ۱۲۷)۔
تفصیلی سوال 13۔ مشرکین کی جاہلانہ رسموں کی تردید بیان کریں۔
جاہلی رسموں کی تردید
- کھیتی اور مویشیوں میں اللہ تعالیٰ اور شریکوں کا حصہ مقرر کرنا غلط فیصلہ ہے (آیت ۱۳۶)۔
- شریکوں نے اولاد کا قتل خوش نما بنا دیا (آیت ۱۳۷)۔
- مویشی اور کھیتی کو اپنے خیال سے ممنوع قرار دینا، سواری حرام کرنا اور ذبح پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لینا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ ہے (آیت ۱۳۸)۔
- اولاد کو قتل کرنے والے خسارے میں ہیں (آیت ۱۴۰)۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حق ادا کرنا اور اسراف سے بچنا
- اللہ تعالیٰ نے باغات، کھجور، کھیتی، زیتون اور انار پیدا کیے (آیت ۱۴۱)۔
- پھل کھاؤ اور فصل کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو (آیت ۱۴۱)۔
- بے جا خرچ نہ کرو، اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (آیت ۱۴۱)۔
- شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، وہ کھلا دشمن ہے (آیت ۱۴۲)۔
حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے
- اللہ تعالیٰ نے بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے کے جوڑے پیدا کیے؛ نر یا مادہ کو حرام کہنے کی علمی دلیل مانگی گئی (آیات ۱۴۳، ۱۴۴)۔
- حرام صرف مردار، بہتا خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور ہے جس پر غیر اللہ تعالیٰ کا نام پکارا جائے (آیت ۱۴۵)۔
- مجبوری میں سرکشی اور حد سے بڑھے بغیر کھانے پر اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے (آیت ۱۴۵)۔
- یہودیوں پر ناخن والے جانور اور چربی ان کی سرکشی کی سزا میں حرام کی گئی (آیت ۱۴۶)۔
تفصیلی سوال 14۔ حلال و حرام کے بارے میں سورت کی تعلیمات تفصیل سے لکھیں۔
ذبیحہ کے احکام: اللہ تعالیٰ کا نام لینا
- جس جانور پر ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ (آیت ۱۱۸)۔
- اللہ تعالیٰ نے حرام چیزیں تفصیل سے بتا دی ہیں سوائے مجبوری کے (آیت ۱۱۹)۔
- جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ، یہ گناہ ہے (آیت ۱۲۱)۔
- ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دو (آیت ۱۲۰)۔
حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے
- اللہ تعالیٰ نے بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے کے جوڑے پیدا کیے؛ نر یا مادہ کو حرام کہنے کی علمی دلیل مانگی گئی (آیات ۱۴۳، ۱۴۴)۔
- حرام صرف مردار، بہتا خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور ہے جس پر غیر اللہ تعالیٰ کا نام پکارا جائے (آیت ۱۴۵)۔
- مجبوری میں سرکشی اور حد سے بڑھے بغیر کھانے پر اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے (آیت ۱۴۵)۔
- یہودیوں پر ناخن والے جانور اور چربی ان کی سرکشی کی سزا میں حرام کی گئی (آیت ۱۴۶)۔
بہانوں کی تردید اور دلیل اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
- مشرک کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے؛ یہ صرف گمان ہے (آیت ۱۴۸)۔
- کامل دلیل اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے اور وہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا (آیت ۱۴۹)۔
- جھوٹی گواہی دینے والوں کے ساتھ گواہی نہ دیں اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں (آیت ۱۵۰)۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حق ادا کرنا اور اسراف سے بچنا
- اللہ تعالیٰ نے باغات، کھجور، کھیتی، زیتون اور انار پیدا کیے (آیت ۱۴۱)۔
- پھل کھاؤ اور فصل کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو (آیت ۱۴۱)۔
- بے جا خرچ نہ کرو، اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (آیت ۱۴۱)۔
- شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، وہ کھلا دشمن ہے (آیت ۱۴۲)۔
تفصیلی سوال 15۔ آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳ میں مذکور دس احکام تفصیل سے لکھیں۔
سورت کے دس بنیادی احکام
- اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
- والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
- اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔
- ظاہری اور پوشیدہ بے حیائی کے قریب نہ جاؤ۔
- ناحق کسی جان کو قتل نہ کرو۔
- یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقے سے جب تک وہ جوانی کو پہنچے۔
- ناپ تول انصاف سے پورا کرو۔
- بات کرو تو عدل کرو چاہے رشتہ دار ہو۔
- اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرو۔
- یہ میرا سیدھا راستہ ہے، اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو۔
تفصیلی سوال 16۔ قرآن مجید کی پیروی کے بارے میں سورت کی تعلیمات لکھیں۔
قرآن مجید کی پیروی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا
- موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ملی جو تفصیل، ہدایت اور رحمت تھی (آیت ۱۵۴)۔
- قرآن مجید بابرکت کتاب ہے؛ اس کی پیروی کرو اور ڈرتے رہو تاکہ رحم کیا جائے (آیت ۱۵۵)۔
- اب یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو پہلے دو گروہوں پر اتری تھی (آیت ۱۵۶)۔
- ایمان لانا اس دن فائدہ نہ دے گا جب اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی آ جائے (آیت ۱۵۸)۔
اللہ تعالیٰ کی قدر کرنا اور قرآن مجید کی پیروی
- جنھوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے انسان پر کچھ نہیں اتارا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی (آیت ۹۱)۔
- موسیٰ علیہ السلام کی کتاب نور اور ہدایت تھی (آیت ۹۱)۔
- قرآن مجید بابرکت کتاب ہے اور پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے (آیت ۹۲)۔
- آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں (آیت ۹۲)۔
- اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے موت کی سختیوں میں ذلت کے عذاب میں ہوں گے (آیت ۹۳)۔
حق وہی قبول کرتا ہے جو سنتا ہے
- حق کو سننے والے ہی قبول کرتے ہیں (آیت ۳۶)۔
- اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے اٹھائے گا اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے (آیت ۳۶)۔
- اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے پر قادر ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (آیت ۳۷)۔
تفصیلی سوال 17۔ دین میں تفرقہ سے بچنا اور نیکی بدی کے بدلے کی تعلیمات لکھیں۔
دین میں تفرقہ سے بچنا اور نیکی کا بدلہ
- جو دین میں تفرقہ ڈال کر گروہ گروہ ہو گئے نبی کریم ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں (آیت ۱۵۹)۔
- ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے اور ایک برائی کی سزا صرف اتنی ہی ہے (آیت ۱۶۰)۔
نماز، قربانی، جینا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے اور ہر کوئی اپنا بوجھ اٹھائے گا
- اللہ تعالیٰ نے مجھے ملتِ ابراہیم علیہ السلام کی طرف ہدایت دی جو یک سو تھے (آیت ۱۶۱)۔
- میری نماز، قربانی، جینا اور مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں (آیات ۱۶۲، ۱۶۳)۔
- کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (آیت ۱۶۴)۔
- اللہ تعالیٰ نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا اور درجوں میں بلند کیا تاکہ آزمائے (آیت ۱۶۵)۔
تفصیلی سوال 18۔ آیات ۱۶۱ تا ۱۶۵ میں بیان کردہ تعلیمات تفصیل سے لکھیں۔
نماز، قربانی، جینا مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے اور ہر کوئی اپنا بوجھ اٹھائے گا
- اللہ تعالیٰ نے مجھے ملتِ ابراہیم علیہ السلام کی طرف ہدایت دی جو یک سو تھے (آیت ۱۶۱)۔
- میری نماز، قربانی، جینا اور مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں (آیات ۱۶۲، ۱۶۳)۔
- کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا (آیت ۱۶۴)۔
- اللہ تعالیٰ نے تمھیں زمین میں جانشین بنایا اور درجوں میں بلند کیا تاکہ آزمائے (آیت ۱۶۵)۔
دین میں تفرقہ سے بچنا اور نیکی کا بدلہ
- جو دین میں تفرقہ ڈال کر گروہ گروہ ہو گئے نبی کریم ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں (آیت ۱۵۹)۔
- ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے اور ایک برائی کی سزا صرف اتنی ہی ہے (آیت ۱۶۰)۔
قرآن مجید کی پیروی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا
- موسیٰ علیہ السلام کو کتاب ملی جو تفصیل، ہدایت اور رحمت تھی (آیت ۱۵۴)۔
- قرآن مجید بابرکت کتاب ہے؛ اس کی پیروی کرو اور ڈرتے رہو تاکہ رحم کیا جائے (آیت ۱۵۵)۔
- اب یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو پہلے دو گروہوں پر اتری تھی (آیت ۱۵۶)۔
- ایمان لانا اس دن فائدہ نہ دے گا جب اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی آ جائے (آیت ۱۵۸)۔
تفصیلی سوال 19۔ شرک کی مختلف صورتوں کی تردید سورۃ الانعام کی روشنی میں لکھیں۔
سب سے بڑی گواہی اللہ تعالیٰ کی ہے اور شرک سب سے بڑا ظلم
- اللہ تعالیٰ میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے (آیت ۱۹)۔
- قرآن مجید ڈرانے کے لیے وحی کیا گیا؛ معبود صرف ایک ہے اور مشرکوں سے بیزاری کا اعلان ہے (آیت ۱۹)۔
- اہلِ کتاب نبی کریم ﷺ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں (آیت ۲۰)۔
- اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور اس کی آیات کو جھٹلانے والے سے بڑا ظالم کوئی نہیں (آیت ۲۱)۔
مصیبت میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا جاتا ہے
- عذاب یا قیامت آ جائے تو انسان اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے (آیات ۴۰، ۴۱)۔
- اس وقت شریکوں کو بھول جاتے ہیں (آیت ۴۱)۔
- خشکی اور سمندر کے اندھیروں سے نجات اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے مگر پھر لوگ شرک کرتے ہیں (آیات ۶۳، ۶۴)۔
اللہ تعالیٰ کی ذات: شریک اور اولاد سے پاک
- جنّات کو شریک بنانا اور اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں گھڑنا باطل ہے (آیت ۱۰۰)۔
- اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا ایجاد کرنے والا ہے، اس کی بیوی نہیں تو بیٹا کیسے (آیت ۱۰۱)۔
- وہ ہر چیز کا خالق ہے اس لیے اسی کی عبادت کرو (آیت ۱۰۲)۔
- نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں مگر وہ سب نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے (آیت ۱۰۳)۔
بہانوں کی تردید اور دلیل اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
- مشرک کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے؛ یہ صرف گمان ہے (آیت ۱۴۸)۔
- کامل دلیل اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے اور وہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا (آیت ۱۴۹)۔
- جھوٹی گواہی دینے والوں کے ساتھ گواہی نہ دیں اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں (آیت ۱۵۰)۔
تفصیلی سوال 20۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر اور اسراف سے بچنے کی تعلیمات بیان کریں۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حق ادا کرنا اور اسراف سے بچنا
- اللہ تعالیٰ نے باغات، کھجور، کھیتی، زیتون اور انار پیدا کیے (آیت ۱۴۱)۔
- پھل کھاؤ اور فصل کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو (آیت ۱۴۱)۔
- بے جا خرچ نہ کرو، اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (آیت ۱۴۱)۔
- شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو، وہ کھلا دشمن ہے (آیت ۱۴۲)۔
کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں
- اللہ تعالیٰ دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا اور مردہ سے زندہ نکالتا ہے (آیت ۹۵)۔
- رات کی تاریکی چاک کر کے صبح لاتا، رات کو آرام اور سورج چاند کو حساب کے لیے بنایا (آیت ۹۶)۔
- ستارے خشکی اور سمندر میں راستے معلوم کرنے کے لیے ہیں (آیت ۹۷)۔
- ایک جان سے انسان پیدا کیے (آیت ۹۸)۔
- آسمان سے پانی اتار کر ہر قسم کی نباتات، کھجور، انگور، زیتون اور انار اگائے (آیت ۹۹)۔
پچھلی قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنا
- پہلی قوموں کو زمین میں اقتدار، بارشیں اور نہریں ملیں مگر گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دی گئیں (آیت ۶)۔
- زمین میں چل پھر کر جھٹلانے والوں کا انجام دیکھنے کا حکم ہے (آیت ۱۱)۔
- ظلم کرنے والوں کی جڑ کاٹ دی گئی (آیت ۴۵)۔
تفصیلی سوال 21۔ رسولوں کا صبر اور نبی کریم ﷺ کو دی گئی ہدایات بیان کریں۔
صبر اور رسولوں کی پیروی
- کفار نبی کریم ﷺ کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں (آیت ۳۳)۔
- پہلے رسولوں نے جھٹلائے جانے اور ایذاؤں پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ کی مدد آ پہنچی (آیت ۳۴)۔
- نادانوں میں سے نہ ہونا؛ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا (آیت ۳۵)۔
وحی کی پیروی اور دوسروں کے معبودوں کو برا نہ کہنا
- واضح دلیلیں آ چکی ہیں؛ جس نے دیکھا اپنے فائدے کے لیے اور جو اندھا بنا اپنا نقصان کیا (آیت ۱۰۴)۔
- نبی کریم ﷺ وحی کی پیروی کریں اور مشرکوں سے منہ پھیر لیں (آیت ۱۰۶)۔
- مشرکوں کے معبودوں کو برا نہ کہو ورنہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کو برا کہیں گے (آیت ۱۰۸)۔
نبی کریم ﷺ کا اعلان: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور رسول ہوں
- میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں، میں از خود غیب نہیں جانتا اور میں فرشتہ نہیں ہوں (آیت ۵۰)۔
- میں صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں؛ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں (آیت ۵۰)۔
- مجھے مشرکوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا اور میں ان کی خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا (آیت ۵۶)۔
- میں اپنے ربّ کی واضح دلیل پر ہوں اور فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے (آیت ۵۷)۔
تفصیلی سوال 22۔ سورۃ الانعام سے توحید، رسالت اور آخرت کے دلائل کا خلاصہ لکھیں۔
اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے اور تمام تعریفوں کا مستحق ہے
- تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے آسمان، زمین، اندھیرے اور روشنی بنائی (آیت ۱)۔
- کافر پھر بھی دوسروں کو اپنے ربّ کے برابر ٹھہراتے ہیں (آیت ۱)۔
- اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور زندگی کی مدت مقرر کی (آیت ۲)۔
- وہ پوشیدہ اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے (آیت ۳)۔
کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اور سب سے پہلے فرماں بردار بننا
- اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کو کارساز نہ بنایا جائے، وہ کھلاتا ہے اسے کھلایا نہیں جاتا (آیت ۱۴)۔
- نبی کریم ﷺ کو حکم ہوا کہ سب سے پہلے فرماں بردار بنیں اور مشرکوں میں سے نہ ہوں (آیت ۱۴)۔
- نافرمانی پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے اور عذاب سے بچ جانا کھلی کامیابی ہے (آیات ۱۵، ۱۶)۔
- تکلیف اور بھلائی دونوں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے (آیات ۱۷، ۱۸)۔
اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
- غیب کی چابیاں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں (آیت ۵۹)۔
- کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ جانتا ہے (آیت ۵۹)۔
- رات کو روحیں قبض کرتا اور دن میں اٹھاتا ہے (آیت ۶۰)۔
- نگہبان فرشتے بھیجتا ہے اور موت کے وقت فرشتے روح قبض کرتے ہیں (آیت ۶۱)۔
- سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (آیت ۶۲)۔
دنیا کی زندگی کھیل تماشا ہے اور آخرت بہتر ہے
- کافر کہتے ہیں ہماری تو بس دنیا کی زندگی ہے اور دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے (آیت ۲۹)۔
- وہ اپنے ربّ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور عذاب چکھیں گے (آیت ۳۰)۔
- دنیا کی زندگی کھیل اور تماشا ہے اور آخرت کا گھر ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے (آیت ۳۲)۔
قیامت کے دن جھوٹے عذر کام نہ آئیں گے
- مشرکوں سے پوچھا جائے گا: تمھارے شریک کہاں ہیں (آیت ۲۲)۔
- وہ جھوٹی قسم کھا کر کہیں گے ہم مشرک نہ تھے مگر ان کے جھوٹے شریک گم ہو جائیں گے (آیات ۲۳، ۲۴)۔
- آگ کے کنارے کھڑے ہو کر واپسی کی تمنا کریں گے مگر واپس ہوں تو پھر وہی کریں گے (آیات ۲۷، ۲۸)۔
- اللہ تعالیٰ کی ملاقات جھٹلانے والے خسارے میں ہیں اور اپنے بوجھ پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے (آیت ۳۱)۔
تفصیلی سوال 23۔ سورۃ الانعام کے منتخب الفاظ کے معنی، آیت نمبر اور استعمال بیان کریں۔
حَاقَ (آیت ۱۰)
- معنی: اس نے گھیر لیا۔
- جن کا مذاق اڑاتے تھے وہی عذاب انھیں گھیر لیتا ہے۔
يُجَادِلُونَ (آیت ۲۵)
- معنی: وہ جھگڑا / بحث کرتے ہیں۔
بَغۡتَةٗ (آیت ۳۱)
- معنی: اچانک۔
قَرۡنٖ (آیت ۶)
- معنی: ایک زمانہ / ایک قوم (نسل)۔
تَسۡتَعۡجِلُونَ (آیت ۵۸)
- معنی: تم جلدی کرتے ہو۔
صُمّٞ وَبُكۡمٞ (آیت ۳۹)
- معنی: بہرے اور گونگے۔
فرہنگ
- حَاقَ
- اس نے گھیر لیا
- يُجَادِلُونَ
- وہ جھگڑا / بحث کرتے ہیں
- بَغۡتَةٗ
- اچانک
- قَرۡنٖ
- ایک زمانہ / ایک قوم (نسل)
- تَسۡتَعۡجِلُونَ
- تم جلدی کرتے ہو
- صُمّٞ وَبُكۡمٞ
- بہرے اور گونگے
Chapter 1 is free
You are reading a free chapter. The other chapters of this subject are Premium. Rs 3000 now, Rs 4000 from 15 Dec.