BackParhayi.com
Home

Pakistan Studies (Urdu medium) Class 10 Chapter 1: پاکستان کی نظریاتی بنیاد

Free chapter

Practice this chapterTake a testPakistan Studies (Urdu medium) page

This is the free study page for Pakistan Studies (Urdu medium) Class 10, Chapter 1: پاکستان کی نظریاتی بنیاد. It follows the Federal Board (FBISE) SSC-II syllabus and takes about 36 minutes to read. After reading, tap Practice this chapter to answer questions with the answers shown at once.

اس سبق میں آپ کیا سیکھیں گے

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ چار کام کر سکیں گے۔

۱۔ نظریہ کیا ہے؟

لفظ نظریہ (آئیڈیالوجی) کا مطلب “خیالات کی سائنس” ہے۔ “خیال” ایک بنیادی تصور ہے جس پر ایک “نظام” بنایا جاتا ہے۔ اور ایسی سوچ جو عملی اقدام اٹھانے پر مجبور کرے دراصل نظریہ کہلاتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟ (کتاب کا خانہ)

  • اصطلاح “نظریہ” سب سے پہلے فرانسیسی فلسفی اطوان دیستو دی تریسی نے وضع کی تھی۔
  • یہ اٹھارویں صدی کے آخر میں وضع کی گئی۔
  • اس نے اسے نظریات اور عقائد کی سائنس کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا۔ خصوصاً اس بات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہ ان نظریات نے انسانی رویے اور معاشرے کو کیسے متاثر کیا۔

مفہوم

نظریہ کیا کرتا ہے

نظریے کی اہمیت

یاد رکھنے کا طریقہ

نظریہ قطب نما، گوند اور ایندھن ہے۔

  • قطب نما - سمت اور نقطۂ نظر دکھاتا ہے
  • گوند - قومی ہم آہنگی کو قائم رکھتا ہے
  • ایندھن - رکاوٹوں کو عبور کرنے کی طاقت دیتا ہے

مختصر دہرائی

  • نظریہ = خیالات کی سائنس۔
  • یہ اصطلاح فرانسیسی فلسفی اطوان دیستو دی تریسی نے اٹھارویں صدی کے آخر میں وضع کی۔
  • یہ نظریات، اقدار اور اہداف کا مجموعہ ہے؛ عمل کے لیے ایک ڈھانچہ ہے۔
  • یہ سمت دیتا ہے، ہم آہنگی قائم رکھتا ہے، طاقت دیتا ہے، مزاحمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور انقلاب کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
  • اس کی اہمیت اس بات سے ہے کہ ماننے والے کتنے پابند ہیں۔

۲۔ نظریہ پاکستان

یاد کرنے کے لیے تعریف

  • نظریہ پاکستان سے مراد ایک علیحدہ مملکت کا قیام ہے۔ اس میں برصغیر کے مسلمان قرآن و سنت کے مطابق اسلامی اقدار اور نظریات کو محفوظ رکھ سکیں اور اپنی زندگیاں اسلام کے شاندار اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔

مختصر دہرائی

  • علیحدہ مملکت + اسلامی اقدار + قرآن و سنت۔
  • شناخت، حقوق، الگ ملک اور قومی فلاح کی جدوجہد کی بنیاد۔
  • پاکستان کا وجود اسی پر منحصر ہے۔ یہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم رکھتا ہے۔
  • پاکستان بنیادی طور پر اسلامی تعلیمات کو عملی شکل دینے کے لیے قائم کیا گیا۔

۳۔ جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کے حالات

اٹھارویں صدی کے وسط سے ۱۹۴۷ء تک برصغیر پاک و ہند برطانوی نو آبادیاتی طاقت کے تابع رہا۔ برطانوی حکومت کے دور میں مسلمانوں کو مذہبی اقلیت کے طور پر بے شمار رکاوٹوں اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں معاشی، سیاسی اور سماجی اختلافات بھی شامل ہیں۔

ملکہ وکٹوریہ (کتاب کی تصویر، صفحہ ۸)
ملکہ وکٹوریہ (کتاب کی تصویر، صفحہ ۸)

الف۔ معاشی تفریق

مشترکہ اقتصادی اہداف بھی کسی ملک کے نظریے کا ماخذ ہوتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کی معاشی حالت خاص طور پر ۱۸۵۷ء کے بعد بگڑ چکی تھی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کو یقین ہو گیا کہ جنگ کی اصل وجہ مسلمان ہیں اور وہ مستقبل میں دوبارہ یہ کوشش کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً انگریز مسلمانوں کے مخالف ہو گئے، اور مسلمان معاشی طور پر نظرانداز ہوتے رہے۔

زمینیں ایک اہم معاشی وسیلہ ہوتی ہیں۔ ان کی ملکیت انگریزوں اور ہندو اشرافیہ میں منتقل ہو گئی، جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان زمینوں سے محروم اور معاشی طور پر بدحال ہو گئے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کی تجارتی سرگرمیاں کم ہوتی گئیں لیکن پھر بھی وہ اپنے نظریے سے دستبردار نہیں ہوئے۔

اضافی سرگرمی (کتاب کا خانہ)

  • ایک اندازے کے مطابق ۱۸۵۷ء میں ہندوستان کی مجموعی ملکی پیداوار برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک سے زیادہ تھی۔
  • کتاب کہتی ہے کہ انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع کی مدد سے معلوم کریں کہ ۱۹۴۷ء میں جب انگریزوں نے ہندوستان چھوڑا تو اس وقت ہندوستان کی مجموعی ملکی پیداوار کیا تھی۔
مثالکیا ہوا
زمینوں کی ملکیتبہت سے مسلمان زمین کے مزدور تھے۔ زمینیں زیادہ تر ہندو اور انگریز جاگیر داروں کی ملکیت تھیں۔ زمینوں کی تقسیم کا یہ فرق معاشی عدم مساوات میں اضافے کا سبب بنا۔
تعلیممسلمانوں، خاص طور پر دیہی علاقوں کے مسلمانوں کو عصری تعلیم تک رسائی سے محروم رکھا گیا۔ وہ ہنرمند پیشوں میں مہارت کی کمی کی وجہ سے مقابلہ نہ کر سکے۔ اس سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوا۔
ملازمت میں امتیازی سلوکبرطانوی ہندوستان میں ملازمت کے پیشے میں امتیازی سلوک عام تھا۔ بہت سے مسلمانوں کو حکومتی اور برطانوی اداروں میں نوکریاں حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ امتیازی روزگار کے طریقوں اور انتظامی اور اقتصادی اداروں میں نمائندگی کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کی معاشی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
فرقہ وارانہ فساداتہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں رک جاتیں۔ ان فسادات میں عام طور پر مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑتا۔ ان کے مکانات، کاروبار اور ذریعۂ معاش کو نشانہ بنایا جاتا۔
قرض اور مالی وسائلمسلمانوں کو قرضوں اور مالی وسائل تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ قرضے دینے کی امتیازی پالیسیوں اور ضروریات کو پورا کرنے والے مالیاتی اداروں کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کو کاروباری اداروں یا زراعت میں مشغول ہونا مشکل محسوس ہوتا تھا۔
زمینداری نظامزمینداری نظام میں ثالث (زمیندار) انگریزوں کی جانب سے کسانوں سے ٹیکس وصول کرتے تھے۔ اکثر دیہی مسلمانوں کا استحصال کیا جاتا تھا۔ ان ثالثوں نے بعض اوقات ضرورت سے زیادہ زمین کے کرائے اور ٹیکس نافذ کیے، جس سے مسلمان کسانوں کی معاشی حالت بدتر ہوتی جا رہی تھی۔

یاد رکھنے کا طریقہ

چھ مثالیں: زمین، تعلیم، ملازمت، فسادات، قرض، زمینداری (ہر لفظ کی ترتیب سے یاد رکھیں)۔

  • ۱ - زمینوں کی ملکیت
  • ۲ - تعلیم
  • ۳ - ملازمت میں امتیازی سلوک
  • ۴ - فرقہ وارانہ فسادات
  • ۵ - قرض
  • ۶ - زمینداری نظام

ان عدم مساواتوں کی بنا پر مسلمانوں کے سماجی و اقتصادی حالات خراب ہوتے چلے گئے، اور انہوں نے سماجی اور اقتصادی انصاف کے مطالبات کے ساتھ ساتھ سیاست میں نمائندگی کا مطالبہ بھی کرنا شروع کر دیا۔

ب۔ سماجی اور سیاسی بے اختیاری

انگریزوں نے ہندوستانی معاشرے میں مذہبی اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے حربے کی تائید کی۔ مسلمانوں کو اکثر سیاسی طور پر نظرانداز کیا جاتا تھا، اور انتظامیہ کے اہم عہدوں پر ان کی نمائندگی میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔

“سائمن گو بیک” کا بینر اٹھائے ہوئے جلوس (کتاب کی تصویر، صفحہ ۹، سائمن کمیشن کے متن کے ساتھ)
“سائمن گو بیک” کا بینر اٹھائے ہوئے جلوس (کتاب کی تصویر، صفحہ ۹، سائمن کمیشن کے متن کے ساتھ)

مختصر یہ کہ: برطانوی ہندوستان میں مسلمان سماجی اور سیاسی طور پر پسماندہ ہو گئے۔ اس کی وجوہات امتیازی قانون سازی، اہم عہدوں پر کم نمائندگی، اور “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی برطانوی پالیسی تھیں۔

یاد رکھنے کا طریقہ

نو مثالیں: ثقافت، شرمندگی، انگریزی، عہدے، فیصلے، قانون ساز ادارے، سائمن، جبر، ہندی اردو (ترتیب سے)۔

  • ۱ - ثقافت کو نظرانداز کرنا
  • ۲ - سماجی شرمندگی
  • ۳ - انگریزی تعلیم کی مخالفت
  • ۴ - ملازمتوں میں ہندوؤں کو ترجیح
  • ۵ - فیصلوں (پہلی جنگ عظیم) میں مسلمانوں کو شامل نہ کرنا
  • ۶ - قانون ساز اداروں میں کمزور آواز
  • ۷ - سائمن کمیشن ۱۹۲۷ء
  • ۸ - تحریک خلافت اور تحریک عدم تعاون میں جبر
  • ۹ - ہندی اردو تنازعہ ۱۸۶۷ء

اس حصے کی اہم تاریخیں

  • اٹھارویں صدی کے وسط سے ۱۹۴۷ء تک: برطانوی نو آبادیاتی کنٹرول۔
  • ۱۸۵۷ء: جنگ آزادی۔ مسلمانوں کی معاشی حالت بگڑ گئی۔
  • ۱۸۶۷ء: بنارس میں اردو کے خلاف مظاہرہ۔
  • ۱۹۲۷ء: آل برٹش سائمن کمیشن۔

مختصر دہرائی

  • مسلمان ایک مذہبی اقلیت تھے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز ان کے مخالف ہو گئے۔
  • معاشی: زمین، تعلیم، ملازمت، فسادات، قرض، زمینداری۔ نتیجہ: انصاف اور نمائندگی کا مطالبہ۔
  • سماجی اور سیاسی: تقسیم کرو اور حکومت کرو، ثقافت کو نظرانداز کرنا، سماجی شرمندگی، انگریزی تعلیم، عہدے، پہلی جنگ عظیم، قانون ساز ادارے، سائمن ۱۹۲۷ء، جبر، ہندی اردو ۱۸۶۷ء۔
  • اس کے باوجود مسلمانوں نے اپنا نظریہ نہیں چھوڑا۔

۴۔ اسلام کی بنیادی اقدار

اسلامی اصولمفہومنو آبادیاتی ہندوستان سے تعلق
داخلی مساواتاسلام نسل، قومیت یا سماجی و اقتصادی حالت سے قطع نظر تمام لوگوں کی اندرونی مساوات کو فروغ دیتا ہے۔اس اصول کی مخالفت نو آبادیاتی ہندوستان میں مسلمانوں کی معاشی اور سماجی خرابیوں کی وجہ سے ہوئی۔
سماجی اور اقتصادی مساواتاسلام سماجی اور معاشی مساوات کو فروغ دیتا ہے۔نو آبادیاتی کنٹرول میں مسلمانوں کی معاشی ناہمواریوں اور سیاسی پسماندگی کو اس اسلامی اصول کے خلاف ورزی تصور کیا جاتا تھا۔
خود ارادیتاسلام خود ارادیت اور مسلمانوں کے اپنے عقائد کے مطابق عمل کرنے اور حکومت کرنے کے حق کو فروغ دیتا ہے۔ایک الگ مسلم ریاست کے مطالبے کے پیچھے خود ارادیت کی تڑپ ایک بڑی محرک تھی۔

سوچیں اور معلوم کریں (کتاب سے)

  • اساتذہ کے لیے نوٹ: طلباء کو اسلام کی ان بنیادی اقدار کے بارے میں مزید جاننے کی ترغیب دیں۔ جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کی منزل تک پہنچنے کے لیے نقشے کا کام کیا۔

یاد رکھنے کا طریقہ

تین اقدار: داخلی مساوات، سماجی و اقتصادی مساوات، خود ارادیت (ترتیب سے)۔

  • ۱ - داخلی مساوات
  • ۲ - سماجی اور اقتصادی مساوات
  • ۳ - خود ارادیت

مختصر دہرائی

  • اسلام اور ہندومت = مختلف ثقافتوں کے ساتھ زندگی کے دو سماجی نظام۔
  • مسلم قومیت = مشترک عقیدہ، نہ کہ علاقہ، نسل یا زبان۔
  • تین اقدار: داخلی مساوات، سماجی اور اقتصادی مساوات، خود ارادیت۔

۵۔ نظریہ پاکستان اور قائداعظم

کسی بھی قوم کے لیے قائد کی رہنمائی نظریے کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے۔ علم، شعور، محرک، سمت اور دشمنوں کے خلاف دفاع کی خصوصیات اچھی قیادت میں شامل ہیں۔ مسلمانوں کو ایسی ہی اچھی قیادت نصیب ہوئی، جن میں سب سے اہم رہنما قائداعظم محمد علی جناح تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان کے لیے وژن بہت سے بنیادی عقائد اور تاثرات میں جھلکتا ہے، جو پاکستانی نظریے کی بنیاد کے طور پر کام کرتے ہیں۔ قائداعظم کے قول و فعل نے نظریہ پاکستان کے اصل فلسفے پر روشنی ڈالی۔

قائداعظم محمد علی جناح (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۰)
قائداعظم محمد علی جناح (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۰)

قائداعظم کے سات عقائد

اہم تاریخیں اور الفاظ

  • فروری ۱۹۳۵ء: قائداعظم نے قانون ساز اسمبلی میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ‘قوم’ کی اصطلاح استعمال کی۔
  • انہوں نے کہا کہ جب مذہب، ثقافت، نسل، فنون، موسیقی اور دیگر عوامل کو یکجا کیا جائے تو اقلیت ایک الگ وجود رکھتی ہے۔
  • ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء: پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں انہوں نے اسلامی ریاست کے تصور کی وضاحت کی۔

“آپ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا مسلک سے ہو، لیکن اس کا ریاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

قائداعظم، ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء

“اتحاد، ایمان، تنظیم” (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۱، قائداعظم کے وژن کے نکات کے ساتھ)
“اتحاد، ایمان، تنظیم” (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۱، قائداعظم کے وژن کے نکات کے ساتھ)

اگرچہ قائداعظم کے عصری، جمہوری اور جامع پاکستان کے منصوبے کو وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یہ آج بھی پاکستانی نظریے کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کے حوالے سے ایک اہم نقطہ ہے۔

یاد رکھنے کا طریقہ

سات عقائد: دو قومی نظریہ، اتحاد، جمہوریت، معیشت، اقلیتیں، انصاف، تعلقات (ترتیب سے)۔

  • ۱ - دو قومی نظریہ
  • ۲ - پاکستانی اتحاد
  • ۳ - جمہوریت
  • ۴ - معاشی ترقی
  • ۵ - اقلیتیں اور مذہبی رواداری
  • ۶ - سماجی انصاف اور مساوات
  • ۷ - دیگر اقوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات

مختصر دہرائی

  • قیادت = علم، شعور، محرک، سمت، دشمنوں کے خلاف دفاع۔
  • سات عقائد: دو قومی نظریہ، اتحاد، جمہوریت، معیشت، اقلیتیں، انصاف، خوشگوار تعلقات۔
  • فروری ۱۹۳۵ء: ‘قوم’۔ ۱۱ اگست ۱۹۴۷ء: اسلامی ریاست پر تقریر۔
  • ان کا وژن آج بھی ایک اہم نقطۂ حوالہ ہے۔

۶۔ نظریہ پاکستان اور علامہ محمد اقبال

علامہ محمد اقبال (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۲)
علامہ محمد اقبال (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۲)

علامہ اقبال کا شمار تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری نے غالب سماجی روایات کو چیلنج کیا۔ انہوں نے یورپ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ مغربی معاشرے کی تمام خرابیوں سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے معاشرے میں مادیت پرستی، سرمایہ داری اور روحانیت کی عدم موجودگی کی مذمت کی۔ علامہ اقبال نے پاکستان کے تصور کے فلسفے کی نشوونما میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے سیاسی اور فلسفیانہ خیالات کا پاکستان بننے کے نظریات پر خاصا اثر رہا۔

اقبال کا خیالانہوں نے کیا کہاپاکستان سے تعلق
اسلامی تشخص اور اتحادعلامہ اقبال نے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور اسے آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اسلامی اتحاد کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ لسانی، نسلی اور جغرافیائی رکاوٹوں کے باوجود مسلمانوں کو اپنے مشترکہ مذہب کے نام پر اکٹھا ہونا چاہیے۔ان کے کاموں اور نظموں نے مسلمانوں کو مشترکہ شناخت بنانے کی ترغیب دی۔
خودشناسی اور ذاتی ترقیاقبال نے مسلمانوں کو اپنی صلاحیتوں کا ادراک اور ذاتی ترقی پر کام کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مسلمان انفرادی اور گروہی خود آگاہی کو فروغ دے کر سماجی، اقتصادی اور سیاسی رکاوٹوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ان کے نزدیک ذاتی نشوونما بھی اتنی ہی ضروری تھی جتنی پاکستان کی ترقی۔
خود ارادیت اور سیاسی خود مختاریعلامہ اقبال نے مسلمانوں کی خود مختاری اور سیاسی خود مختاری کی حمایت کی۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان اپنے سیاسی مستقبل کا خود تعین کر سکتے ہیں۔یہ خیال پاکستان کے مطالبے کے مطابق تھا، ایک علیحدہ مسلم ریاست جہاں مسلمان سیاسی اقتدار پر فائز ہو سکتے ہوں۔
انصاف اور سماجی انصافاقبال مسلمانوں میں سماجی اور معاشی عدم مساوات کے بارے میں فکر مند تھے۔ انہوں نے سماجی اور اقتصادی انصاف کا مطالبہ کیا۔سماجی اقتصادی مساوات پر توجہ پاکستان کے عالمی نقطۂ نظر سے مطابقت رکھتی ہے، جس کا مقصد ایک منصفانہ معاشرہ تشکیل دینا ہے۔
اجتہاداقبال نے اجتہاد کی حمایت کی۔ یہ مسلمانوں سے آزادانہ سوچنے اور اسلامی تعلیمات کی جدید دور کی روشنی میں نئی تشریح کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔یہ اس خیال کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ پاکستان ایک متحرک اور ترقی پذیر قوم ہو جو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔
اسلامی معاشی ڈھانچہاقبال نے اسلامی اصولوں پر مبنی معاشی ڈھانچے کے حق میں استدلال کیا: معاشی آزادی، دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سود (ربا) پر پابندی۔پاکستان کی اقتصادی پالیسیاں اور اسلامی معاشی نظام کی خواہش ان تصورات سے متاثر ہیں۔
روحانی تجدیداقبال نے مسلمانوں میں روحانی تجدید پر زور دیا۔ ان کا خیال تھا کہ کسی بھی مسلم ملک، بالخصوص پاکستان کو ترقی اور کامیابی کے لیے ایک مضبوط روحانی بنیاد کی ضرورت ہے۔پاکستان کی ثقافتی اور مذہبی جماعتیں آج بھی روحانیت سے متاثر ہیں۔

علامہ اقبال کے ارشادات نے نظریہ پاکستان پر خاصا گہرا اثر ڈالا۔

یاد رکھنے کا طریقہ

سات خیالات: تشخص، خودشناسی، خود ارادیت، انصاف، اجتہاد، معیشت، روحانی تجدید (ترتیب سے)۔

  • ۱ - اسلامی تشخص اور اتحاد
  • ۲ - خودشناسی
  • ۳ - خود ارادیت (خود مختاری)
  • ۴ - انصاف اور سماجی انصاف
  • ۵ - اجتہاد
  • ۶ - معاشی ڈھانچہ (اسلامی، سود کے بغیر)
  • ۷ - روحانی تجدید

قائداعظم اور اقبال ساتھ ساتھ (سمجھنے کی مدد)

موضوعقائداعظمعلامہ اقبال
اتحادپاکستانی قومی اتحادرکاوٹوں کے باوجود اسلام کا اتحاد
انصافسب کے لیے سماجی انصاف اور مساواتدولت کی منصفانہ تقسیم، سماجی انصاف
معیشتمضبوط معاشی ترقیاسلامی اصولوں پر مبنی معاشی ڈھانچہ
الگ ریاستدو قومی نظریہ، پاکستان کے مطالبے کی بنیادخود ارادیت اور سیاسی خود مختاری

مختصر دہرائی

  • اقبال: شاعر، یورپ میں تعلیم یافتہ، مادیت پرستی، سرمایہ داری اور روحانیت کی عدم موجودگی کے ناقد۔
  • سات خیالات: تشخص اور اتحاد، خودشناسی، خود ارادیت، سماجی انصاف، اجتہاد، اسلامی معیشت (سود کے بغیر)، روحانی تجدید۔
  • ہر خیال پاکستان کے ایک ہدف سے ہم آہنگ ہے۔

۷۔ استعمار اور برطانوی استعمار

تعریف: استعمار

  • استعمار سے مراد ہے کہ جب ایک قوم اپنے مفاد کے لیے دوسرے ملک یا علاقے پر قبضہ کرے۔
  • نو آبادیاتی قوم اپنے لوگوں کو نو آبادیاتی ملک میں رہنے کے لیے بھیجتی ہے اور وہاں کے وسائل اور معیشت سے منافع کماتی ہے۔
  • وہاں کے باشندوں کی زبان، ثقافت اور طرز حکمرانی میں بھی ترمیم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ استعمار کے نو آبادیاتی علاقے پر اچھے اور برے دونوں نتائج ہو سکتے ہیں، تاہم، زیادہ تر نو آبادیاتی ریاستوں پر اس کے منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں۔

سوچیں اور معلوم کریں (کتاب سے)

  • اساتذہ کے لیے نوٹ: طلباء کو ان ممالک کے بارے میں مزید جاننے کی ترغیب دیں جو مختلف یورپی طاقتوں کے استعمار کے تحت رہے۔
ہندوستان پر برطانوی فتح (کتاب کا نقشہ، صفحہ ۱۳)۔ نقشے کی وضاحت میں برطانوی الحاق کے چار ادوار دکھائے گئے ہیں: ۱۷۵۳ء تا ۱۷۷۵ء، ۱۷۹۲ء تا ۱۸۰۵ء، ۱۸۱۵ء تا ۱۸۵۸ء اور ۱۸۵۸ء کے بعد۔
ہندوستان پر برطانوی فتح (کتاب کا نقشہ، صفحہ ۱۳)۔ نقشے کی وضاحت میں برطانوی الحاق کے چار ادوار دکھائے گئے ہیں: ۱۷۵۳ء تا ۱۷۷۵ء، ۱۷۹۲ء تا ۱۸۰۵ء، ۱۸۱۵ء تا ۱۸۵۸ء اور ۱۸۵۸ء کے بعد۔

تعریف: برطانوی استعمار

  • برصغیر پاک و ہند میں برطانوی راہ راست حکمرانی کا دور، جو ۱۸۵۸ء سے ۱۹۴۷ء تک، ہندوستان اور پاکستان کی آزادی تک جاری رہا۔
  • برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے بعد برصغیر کا کنٹرول سنبھالنے والے ادارے نے کمپنی کے اثاثوں پر قبضہ کر لیا اور براہ راست حکمرانی قائم کی۔
  • برطانوی منظوری کے بغیر ہندوستانی عوام اپنے مستقبل کے فیصلے نہیں کر سکتے تھے، جس کی وجہ سے قومی آزادی کی تحریک کو ہوا ملی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ تحریک مزید پختہ ہوتی گئی۔

برطانوی استعمار کے اثرات

شعبہاثرات
۱۔ معیشتاچھے اثرات: برطانوی سلطنت نے جدید نقل و حمل (ٹرانسپورٹیشن) کے طریقے اور مواصلاتی نظام متعارف کرایا، بڑے بڑے صنعتی ڈھانچے قائم کیے، اور نئی منڈیاں لگائیں۔
برے اثرات: ان کی اقتصادی پالیسیاں بنیادی طور پر برطانوی سلطنت کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر، ہندوستان کو کپاس، جوٹ اور چائے جیسے خام مال برآمد کرنے اور برطانیہ سے تیار شدہ سامان درآمد کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس معاشی پالیسی نے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو بری طرح متاثر کیا، جس سے زراعت اور صنعت جمود کا شکار ہو گئی۔
۲۔ سماجی ڈھانچہبرطانوی استعمار کے سماجی اثرات دور تک پھیل رہے تھے۔ انہوں نے انگریزی زبان کو نو آبادیاتی انتظامیہ، اعلیٰ تعلیم اور قانون کی زبان کے طور پر متعارف کرایا۔ پھر بھی، یہ آبادی کے ایک چھوٹے حصے تک محدود تھی، جس کی وجہ سے تعلیم اور ملازمتوں تک رسائی بھی محدود تھی۔ اور اس کے نتیجے میں دیہی اور شہری علاقوں میں نمایاں سماجی عدم مساوات اور تفاوت پیدا ہوا۔ نو آبادیاتی انتظامیہ نے ہندوستان کے کچھ حصوں میں ذات پات کے نظام کو ختم کیا اور خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف سے متعلق اصلاحات متعارف کروائیں۔ دوسری طرف، ان کی پالیسیوں نے معاشی استحصال، زمینوں پر قبضے اور مزدوروں کے استحصال کا باعث بھی بنی۔
۳۔ سیاسی نظامبرصغیر کے سیاسی ڈھانچے پر برطانوی نو آبادیاتی دور کا نمایاں اثر پڑا۔ ان کا بنیادی مقصد ہندوستان کے وسائل کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا تھا، جس کی وجہ سے غیر مساوی سیاسی، سماجی اور اقتصادی پالیسیاں سامنے آئیں۔ انہوں نے “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کا نظریہ متعارف کروایا جس کا مقصد ہندوستانی آبادی کے اندر تقسیم پیدا کرنا اور اس طرح سلطنت کو مضبوط بنانا تھا۔ انگریزوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو بھی الگ کر دیا جس کے نتیجے میں مختلف سیاسی تحریکیں ابھریں۔ اس سے مسلم لیگ اور دیگر تنظیمیں وجود میں آئیں جنہوں نے ہندوؤں کے خلاف تحریک چلائی۔ اور آخر کار، ۱۹۴۷ء میں ہندوستان اور پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنی۔

سوچیں اور معلوم کریں (کتاب سے)

  • اساتذہ کے لیے نوٹ: طلباء کو انٹرنیٹ اور مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے برطانوی استعمار کے اثرات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے کہیں۔

یاد رکھنے کا طریقہ

تین شعبے: معیشت، سماجی ڈھانچہ، سیاسی نظام (ترتیب سے)۔

  • ۱ - معیشت
  • ۲ - سماجی ڈھانچہ
  • ۳ - سیاسی نظام

مختصر دہرائی

  • استعمار = ایک قوم اپنے مفاد کے لیے دوسرے ملک پر قبضہ کرے۔
  • برطانوی استعمار = ایسٹ انڈیا کمپنی کے بعد ۱۸۵۸ء سے ۱۹۴۷ء تک براہ راست حکمرانی۔
  • معیشت: اچھے اثرات (نقل و حمل، صنعت) اور برے اثرات (خام مال باہر، تیار سامان اندر، جمود)۔
  • سماجی: انگریزی، محدود ملازمتیں، عدم مساوات؛ کچھ حصوں میں ذات پات ختم؛ استحصال۔
  • سیاسی: تقسیم کرو اور حکومت کرو، مسلم لیگ، ۱۹۴۷ء۔

۸۔ سر سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک

سر سید احمد خان (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۵)
سر سید احمد خان (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۵)

سر سید احمد خان کی زندگی

  • ۱۷ اکتوبر ۱۸۱۷ء کو ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے، اور ان کا انتقال ۲۷ مارچ ۱۸۹۸ء کو علی گڑھ میں ہوا۔
  • سر سید احمد خان ۱۹ویں صدی کے ایک مشہور ہندوستانی مسلم رہنما، فلسفی اور ماہر تعلیم تھے۔
  • ایک مصلح کے طور پر، سر سید نے ایک ترقی پسند معاشرہ بنانے کے لیے کام کیا جو دنیا کی دیگر اقوام کا مقابلہ کر سکے۔
  • وہ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں وہ مختلف ثقافتی تجربوں سے گزرے۔ تاہم، وہ مغربی خیالات سے بھی متعارف ہوئے، جس نے ان کے سوچنے کے انداز پر گہرا اثر ڈالا۔
  • سر سید نے سائنٹیفک سوسائٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کی تاکہ مسلمانوں کو مزید تعلیم یافتہ بنایا جا سکے اور نئی سوچ کی طرف اجاگر کیا جا سکے۔
  • انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور ان کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی۔
  • ایک علیحدہ مسلم ملک کے ان کے تصور اور دو قومی نظریے کے لیے ان کی حمایت نے علامہ اقبال کو متاثر کیا اور بالآخر نظریہ پاکستان کے قیام کا باعث بنا۔

ان کا نمایاں کردار

سوچیں اور معلوم کریں (کتاب سے)

  • اضافی سرگرمی: علی گڑھ یونیورسٹی کی علمی فضیلت کی ایک بھرپور تاریخ ہے اور اس نے متعدد ممتاز سابق طلباء پیدا کیے ہیں جنہوں نے سیاست، ادب، سائنس اور فنون سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اس یونیورسٹی کے کچھ ایسے ہی مشہور سابق طلباء کے نام تلاش کریں۔
علی گڑھ یونیورسٹی (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۶)
علی گڑھ یونیورسٹی (کتاب کی تصویر، صفحہ ۱۶)

سائنٹیفک سوسائٹی اور اخبار

علی گڑھ تحریک

تحریک پاکستان سے تعلق

سالواقعہ
۱۸۱۷سر سید دہلی میں پیدا ہوئے (۱۷ اکتوبر)
۱۸۶۴علی گڑھ میں سائنٹیفک سوسائٹی قائم ہوئی
۱۸۷۷علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کھولا گیا
۱۸۹۸سر سید کا علی گڑھ میں انتقال (۲۷ مارچ)
۱۹۰۶آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی؛ علی گڑھ تحریک نے اس کی بنیاد رکھی تھی
۱۹۲۰کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گیا

یاد رکھنے کا طریقہ

علی گڑھ کے چار سنگ میل ترتیب سے: سوسائٹی، کالج، لیگ، یونیورسٹی۔ سال صرف بڑھتے جاتے ہیں: ۱۸۶۴ء، ۱۸۷۷ء، ۱۹۰۶ء، ۱۹۲۰ء۔

  • ۱۸۶۴ء - سائنٹیفک سوسائٹی
  • ۱۸۷۷ء - کالج (محمڈن اینگلو اورینٹل کالج)
  • ۱۹۰۶ء - لیگ (آل انڈیا مسلم لیگ)
  • ۱۹۲۰ء - یونیورسٹی (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

مختصر دہرائی

  • سر سید: دہلی میں ۱۸۱۷ء میں پیدا ہوئے، علی گڑھ میں ۱۸۹۸ء میں انتقال ہوا؛ رہنما، فلسفی، ماہر تعلیم۔
  • سائنٹیفک سوسائٹی ۱۸۶۴ء؛ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج ۱۸۷۷ء؛ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ۱۹۲۰ء؛ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ۔
  • انہوں نے انگریزی اور سائنسی سوچ پر زور دیا۔
  • علی گڑھ تحریک: تعلیم یافتہ مسلمان، شناخت، مسلم لیگ (۱۹۰۶ء) اور پاکستان (۱۹۴۷ء) کا پیش خیمہ۔
  • اس نے انجمن حمایت اسلام، تحریک خلافت اور آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو متاثر کیا۔

۹۔ وقت کی ترتیب اور آخری دہرائی

تاریخواقعہ (جیسا کہ سبق ۱ میں دیا گیا ہے)
اٹھارویں صدی کے آخراطوان دیستو دی تریسی نے اصطلاح “نظریہ” وضع کی
اٹھارویں صدی کے وسطبرصغیر پر برطانوی نو آبادیاتی کنٹرول کا آغاز (۱۹۴۷ء تک)
۱۸۱۷ءسر سید احمد خان پیدا ہوئے (۱۷ اکتوبر)
۱۸۵۷ءجنگ آزادی؛ مسلمانوں کی معاشی حالت بگڑ گئی
۱۸۵۸ءبراہ راست برطانوی حکمرانی (برطانوی استعمار) کا آغاز
۱۸۶۴ءعلی گڑھ میں سائنٹیفک سوسائٹی قائم ہوئی
۱۸۶۷ءبنارس میں اردو کے خلاف ہندو مظاہرے سے ہندی اردو تنازعے کا آغاز
۱۸۷۷ءعلی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کھولا گیا
۱۸۹۸ءسر سید کا انتقال (۲۷ مارچ)
۱۹۰۶ءآل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی
۱۹۲۰ءکالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گیا
۱۹۲۷ءآل برٹش سائمن کمیشن بنایا گیا
فروری ۱۹۳۵ءقائداعظم نے قانون ساز اسمبلی میں مسلمانوں کے لیے ‘قوم’ کی اصطلاح استعمال کی
۱۱ اگست ۱۹۴۷ءدستور ساز اسمبلی میں قائداعظم کی اسلامی ریاست پر تقریر
۱۹۴۷ءہندوستان اور پاکستان کی آزادی

میں نے کیا سیکھا (کتاب کا اپنا خلاصہ)

فرہنگ

نظریہ
کسی گروہ یا ملک کے نظریات، اقدار اور اہداف کا مجموعہ (“خیالات کی سائنس”)۔
ہم آہنگی (یکجہتی)
متحد رہنا اور ایک ہو کر جڑے رہنا۔
ماننے والے
پیروکار؛ وہ لوگ جو کسی خیال یا عقیدے کی حمایت کرتے ہیں۔
تفریق (عدم مساوات)
گروہوں کے درمیان بڑا اور غیر منصفانہ فرق۔
محروم
ضروری چیزوں سے دور رکھا گیا۔
زمیندار
ثالث جو انگریزوں کی جانب سے کسانوں سے ٹیکس وصول کرتا تھا۔
پسماندہ (بے اختیار)
کنارے پر دھکیل دیا گیا اور بہت کم اہمیت یا اختیار دیا گیا۔
جابرانہ
لوگوں پر قابو پانے کے لیے سخت طاقت استعمال کرنے والا۔
تنازعہ
کسی بات پر لمبی بحث۔
خود ارادیت
لوگوں کا یہ حق کہ وہ طے کریں کہ کیسے زندگی گزاریں گے اور کیسے حکمرانی کی جائے گی۔
خود مختاری
اپنے آپ پر حکومت کرنے کا مکمل اختیار۔
داخلی (اندرونی)
کسی چیز میں اس کی اپنی فطرت کے مطابق موجود۔
ظلم و ستم
لوگوں کے عقائد کی وجہ سے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک۔
اجتہاد
جدید دور کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کی نئی تشریح کے لیے آزادانہ سوچ۔
سود (ربا)
اضافی رقم جو قرض پر لی جائے؛ اقبال نے اس پر پابندی کی حمایت کی۔
استعمار
ایک قوم کا اپنے مفاد کے لیے دوسرے ملک یا علاقے پر قبضہ کرنا۔
پیش خیمہ
وہ چیز جو پہلے آئے اور دوسری چیز کے لیے راستہ ہموار کرے۔
احیائی
کسی پرانے مذہب یا ثقافت کو واپس لانے اور مضبوط کرنے کا خواہاں۔
جمود
رکا رہنا اور کوئی ترقی نہ ہونا۔
سابق طلباء
کسی اسکول یا یونیورسٹی کے پرانے طالب علم۔

Chapter 1 is free

You are reading a free chapter. The other chapters of this subject are Premium. Rs 3000 now, Rs 4000 from 15 Dec.

All chaptersPakistan Studies (Urdu medium)Next chapterپاکستان کا قیام