Islamiyat Class 9 Chapter 1: قرآن مجید اور حدیثِ نبوی
Free chapter
This is the free study page for Islamiyat Class 9, Chapter 1: قرآن مجید اور حدیثِ نبوی. It follows the Federal Board (FBISE) SSC-I syllabus and takes about 45 minutes to read. After reading, tap Practice this chapter to answer questions with the answers shown at once.
یہ نوٹس کیسے پڑھیں؟ (فریم ورک کے مطابق نقشہ)
یہ ایک ہی پرچہ (جماعت نہم کا اسلامیات پرچہ) ہے جس میں جماعت نہم اور جماعت دہم دونوں کتابوں کا مواد آتا ہے۔ دائرہ ۱ (قرآن مجید اور حدیثِ نبوی) سے معروضی، مختصر اور تفصیلی سوالات کے ساتھ حصہ ۴ کا سوال ۶ بھی آتا ہے جس میں دو احادیث مبارکہ ہوتی ہیں اور ہر حدیث مبارکہ کے ۲+۳+۲ نمبر ہوتے ہیں (ترجمہ، مفہوم، اطلاق)۔
| موضوع | کتاب میں | نوٹس کا حصہ |
|---|---|---|
| تعارفِ قرآن مجید: معنی، نام، موضوع | جماعت نہم ص۷؛ جماعت دہم ص۹-۱۲ | ۱ |
| فضائل، خصوصیات، عالمگیریت | جماعت نہم ص۷-۸، ۱۱؛ جماعت دہم ص۷-۹ | ۲ |
| اعجاز اور تحریف سے حفاظت | جماعت نہم ص۸-۹؛ جماعت دہم ص۷-۸ | ۳ |
| جمع و تدوینِ قرآن مجید | جماعت نہم ص۹-۱۱ | ۴ |
| مکی اور مدنی سورتیں | جماعت دہم ص۱۰-۱۲ | ۵ |
| حدیث مبارکہ: تعریف اور اقسام | جماعت نہم ص۱۳؛ جماعت دہم ص۱۴ | ۶ |
| حجیت، حفاظت اور جمع و تدوینِ حدیث مبارکہ | جماعت نہم ص۱۳-۱۴؛ جماعت دہم ص۱۴-۱۷ | ۷ |
| احادیثِ مبارکہ (۲۵ + ماڈل پیپر کی ۲) | جماعت نہم ص۱۴-۲۳؛ جماعت دہم ص۱۸-۲۱ | ۸ |
فریم ورک کی بات
- ماڈل پیپر کا مختصر سوال: قرآن مجید کی عالمگیریت سے کیا مراد ہے؟ (۳ نکات)۔ حصہ ۴ کے سوال ۶ میں ماڈل پیپر کی احادیث: «مَنْ أُفْتِيَ…» یا «الْحَيَاءُ…»؛ اور «إن الله يرفع بهذا الكتاب…» یا «ما أمرتكم به…»۔ یہ دو آخری احادیث کتاب کی فہرست میں نہیں ہیں، اس لیے ان کا حوالہ نہیں لکھا گیا۔
اس یونٹ میں شامل نہیں
- ترجمۂ قرآن مجید (جماعت نہم اور جماعت دہم کا پہلا سبق) الگ پرچے کا حصہ ہے۔ اسمائے حسنیٰ الگ یونٹ میں ہیں۔
فوری دہرائی
- آٹھ حصے: تعارف، فضائل، اعجاز و حفاظت، جمع و تدوین، مکی مدنی، حدیث مبارکہ کی تعریف، حدیث مبارکہ کی حجیت و تدوین، احادیث۔
- ہر حصے کے آخر میں مختصر اور تفصیلی سوالات جوابات سمیت دیے گئے ہیں۔
۱۔ تعارفِ قرآن مجید: معنی، نام اور موضوع
حاصلاتِ تعلم
- قرآن مجید کا لغوی و اصطلاحی معنی بتا سکیں۔
- ذاتی اور صفاتی ناموں میں فرق کر سکیں۔
معنی
- لغوی: لفظ قرآن مجید “قرأ-یقرأ” سے ہے؛ اس کے معنی پڑھنے اور جمع کرنے کے ہیں؛ یعنی بہت پڑھی جانے والی کتاب۔
- اصطلاحی: اللہ تعالیٰ کا معجزاتی کلام جو حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم پر عربی زبان میں نازل ہوا اور تحریری صورت میں تواتر سے ہم تک پہنچا؛ اس کی تلاوت عبادت ہے۔
- ابتدا سورۃ الفاتحہ سے اور اختتام سورۃ الناس پر ہوتا ہے۔
- قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل ہوا (البقرہ ۱۸۵)۔
قرآن مجید کے نام
ذاتی نام وہ ہے جو مستقل طور پر اسمِ علم کی حیثیت سے بیان ہو؛ صفاتی نام میں صفت اور خوبی ذکر ہوتی ہے۔
| ذاتی نام (۵) | معنی |
|---|---|
| القرآن | بار بار پڑھی جانے والی |
| الفرقان | حق و باطل میں فرق کرنے والی |
| الکتاب | تحریر شدہ |
| الذکر | نصیحت کرنے والی |
| التنزیل | نازل کی گئی |
| صفاتی نام | معنی | حوالہ |
|---|---|---|
| المبارک | برکت والی | الانعام ۹۲ |
| الحکیم | حکمت والی | یٰسٓ ۲ |
| المبین | کھلی ہوئی | یوسف ۱ |
| عربیاً | عربی زبان میں | یوسف ۲ |
| شفاء | شفا دینے والی | بنی اسرائیل ۸۲ |
| بیان | ہدایت کی راہ کو واضح کرنا | آل عمران ۱۳۸ |
| الکریم | عزت والا، محترم، شرف والا | الواقعہ ۷۷ |
هَٰذَا بَيَانٞ لِّلنَّاسِ وَهُدٗى وَمَوۡعِظَةٞ لِّلۡمُتَّقِينَ
ترجمہ: یہ لوگوں کے لیے واضح بیان ہے اور پرہیز گاروں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔سورۃ آل عمران، آیت ۱۳۸
جماعت دہم ص۹ میں مزید صفاتی نام بھی درج ہیں: احسن الحدیث (بہترین کلام)، برہان (مضبوط اور روشن دلیل)، بلاغ (پیغام اور اعلان)، تبیان وغیرہ۔
وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدًا عَلَيۡهِم مِّنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِۚ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ
ترجمہ: اور ہم نے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور خوش خبری ہے مسلمانوں کے لیے۔سورۃ النحل، آیت ۸۹
موضوع
قرآن مجید کا بنیادی موضوع انسان ہے۔ آغاز ہی میں تین قسم کے انسان بیان ہوئے: (۱) جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں؛ (۲) جو ضد، ہٹ دھرمی، تعصب، تکبر یا حسد کی وجہ سے کفر پر اڑ گئے؛ (۳) منافقین، جن کے دلوں میں روگ ہے۔
ذاتی نام یاد کرنے کا طریقہ
پانچ ذاتی نام: ق ف ک ذ ت
- ق - القرآن
- ف - الفرقان
- ک - الکتاب
- ذ - الذکر
- ت - التنزیل
فوری دہرائی
- قرآن مجید = پڑھنا اور جمع کرنا؛ عربی میں نازل؛ موضوع انسان۔
- ذاتی نام ۵: القرآن، الفرقان، الکتاب، الذکر، التنزیل۔
- انسانوں کی تین قسمیں: مستفید، کافر، منافق۔
ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)
ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔
۱۔ لفظ قرآن مجید کا مادہ اور لغوی معنی بیان کریں۔
- لفظ قرآن مجید “قرأ-یقرأ” سے ماخوذ ہے۔
- اس کے لفظی معنی پڑھنے کے بھی ہیں اور ایک چیز کو دوسری کے ساتھ ملا کر جمع کرنے کے بھی۔
- قرآن مجید “مقروء” (اسم مفعول) کے معنی میں بھی ہے، یعنی بہت پڑھی جانے والی کتاب۔
۲۔ قرآن مجید کی اصطلاحی تعریف تین نکات میں لکھیں۔
- قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا معجزاتی کلام ہے جو حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم پر عربی زبان میں نازل ہوا۔
- یہ تحریری صورت میں تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔
- اس کی تلاوت عبادت کا درجہ رکھتی ہے؛ اس کی ابتدا سورۃ الفاتحہ سے اور اختتام سورۃ الناس پر ہوتا ہے۔
۳۔ قرآن مجید کے پانچ ذاتی نام لکھیں۔
- القرآن (بار بار پڑھی جانے والی) اور الفرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والی)۔
- الکتاب (تحریر شدہ) اور الذکر (نصیحت کرنے والی)۔
- التنزیل (نازل کی گئی)۔
۴۔ ذاتی نام اور صفاتی نام میں کیا فرق ہے؟
- ذاتی نام وہ ہے جسے مستقل طور پر اسمِ علم کی حیثیت سے بیان کیا جائے۔
- صفاتی نام وہ ہے جس میں نام کی صفت اور خوبی ذکر کی جائے۔
- مثال: القرآن ذاتی نام ہے جب کہ المبارک، الحکیم اور شفاء صفاتی نام ہیں۔
۵۔ قرآن مجید کے کوئی تین صفاتی نام مع حوالہ لکھیں۔
- المبارک (برکت والی): الانعام ۹۲۔
- الحکیم (حکمت والی): یٰسٓ ۲۔
- المبین (کھلی ہوئی): یوسف ۱ (اور شفاء: بنی اسرائیل ۸۲)۔
۶۔ قرآن مجید کے کوئی پانچ اسماء تحریر کریں۔
- القرآن اور الفرقان۔
- الکتاب اور الذکر۔
- التنزیل (یا کوئی صفاتی نام، مثلاً شفاء)۔
۷۔ قرآن مجید کا بنیادی موضوع کیا ہے؟ اور آغاز میں کتنی قسم کے انسانوں کا ذکر ہے؟
- قرآن مجید کا بنیادی موضوع انسان ہے۔
- آغاز میں تین قسم کے انسان بیان ہوئے: ایک وہ جو صحیح طور پر ہدایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
- دوسرے وہ جو ضد، ہٹ دھرمی، تعصب، تکبر یا حسد کی وجہ سے کفر پر اڑ گئے، اور تیسرے منافقین جن کے دلوں میں روگ ہے۔
۸۔ منافقین کی کیا پہچان قرآن مجید کے آغاز میں بیان ہوئی ہے؟
- وہ بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔
- ان کے دلوں میں مرض (روگ) ہوتا ہے۔
- یہ روگ انھیں ایمان کی طرف یکسو نہیں ہونے دیتا۔
۹۔ قرآن مجید کے پانچ صفاتی ناموں میں سے ہر ایک کا مطلب لکھیں۔
- المبارک = برکت والی اور الحکیم = حکمت والی۔
- المبین = کھلی ہوئی اور عربیاً = عربی زبان میں۔
- شفاء = شفا دینے والی۔
۱۰۔ “احسن الحدیث”، “برہان” اور “بلاغ” کا مطلب لکھیں۔
- احسن الحدیث کا مطلب بہترین کلام اور عمدہ بات ہے۔
- برہان کا مطلب مضبوط اور روشن دلیل ہے۔
- بلاغ کا مطلب پیغام اور اعلان ہے۔
۱۱۔ “بیان” اور “الکریم” کے مفہوم آیات کے حوالے سے لکھیں۔
- بیان کا مطلب ہدایت کی راہ کو واضح کرنا ہے۔
- آل عمران ۱۳۸: یہ لوگوں کے لیے واضح بیان ہے اور پرہیز گاروں کے لیے ہدایت اور نصیحت۔
- الکریم کا مطلب عزت والا ہے؛ الواقعہ ۷۷: بے شک یہ بہت عظمت والا قرآن مجید ہے۔
ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)
لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
۱۔ قرآن مجید کا تعارف لکھیں: لغوی و اصطلاحی معنی، ذاتی اور صفاتی نام۔
لغوی معنی
- لفظ قرآن مجید “قرأ-یقرأ” سے ہے۔
- اس کے معنی پڑھنے اور ایک چیز کو دوسری سے ملا کر جمع کرنے کے ہیں۔
- “مقروء” کے معنی میں بہت پڑھی جانے والی کتاب۔
اصطلاحی معنی
- اللہ تعالیٰ کا معجزاتی کلام جو حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم پر عربی میں نازل ہوا۔
- تواتر کے ساتھ تحریری صورت میں ہم تک پہنچا۔
- تلاوت عبادت ہے؛ ابتدا الفاتحہ اور اختتام الناس۔
ذاتی نام
- القرآن، الفرقان، الکتاب، الذکر اور التنزیل۔
صفاتی نام
- المبارک (الانعام ۹۲)، الحکیم (یٰسٓ ۲)، المبین (یوسف ۱)، عربیاً (یوسف ۲)، شفاء (بنی اسرائیل ۸۲)۔
۲۔ اسماء القرآن کو قرآنی آیات کے حوالے سے بیان کریں۔
ذاتی نام
- القرآن، الفرقان، الکتاب، الذکر اور التنزیل ذاتی نام ہیں۔
صفاتی نام آیات کے ساتھ
- المبارک: الانعام ۹۲۔ الحکیم: یٰسٓ ۲۔
- المبین: یوسف ۱۔ عربیاً: یوسف ۲۔ شفاء: بنی اسرائیل ۸۲۔
- بیان: آل عمران ۱۳۸ (یہ لوگوں کے لیے واضح بیان ہے)۔
- الکریم: الواقعہ ۷۷ (بے شک یہ بہت عظمت والا قرآن مجید ہے)۔
- تبیان: النحل ۸۹ (ہر چیز کا واضح بیان)۔
دیگر صفاتی نام
- احسن الحدیث، امر، برہان، بشریٰ، بصائر، بلاغ، حق، حکمت، روح، شفا، صدق، عزیز، عظیم، کتاب، مبین، مجید۔
۲۔ فضائل، خصوصیات اور عالمگیریت
حاصلاتِ تعلم
- فضائل، عالمگیریت، ابدیت، جامعیت اور کاملیت بیان کر سکیں۔
قرآن مجید کی نو خصوصیات (جماعت دہم)
| خصوصیت | مطلب | آیت |
|---|---|---|
| کلامِ الٰہی | اللہ تعالیٰ کا کلام ہے | التوبہ ۶ |
| محفوظ کلام | اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی ذمہ داری لی | الحجر ۹ |
| معجزاتی کلام | زبان، نظم، فصاحت اور اثر انگیزی سب معجزہ | البقرہ ۲۳ |
| کامل ہدایت | تمام انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ | البقرہ ۱۸۵ |
| عالمگیر کتاب | تمام جہانوں کے لیے نصیحت | القلم ۵۲ |
| تضاد سے پاک | شک اور اختلاف سے پاک | النساء ۸۲ |
| پُرتاثیر | سننے والے کے دل پر اثر کرتا ہے | یونس ۵۷ |
| ابدی کتاب | ہمیشہ رہنے والی، آخری کتاب | — |
| جامع کتاب | زندگی کے تمام شعبوں کی رہنمائی | المائدہ ۳ |
وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
ترجمہ: حالاں کہ وہ (قرآن مجید) تو تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔سورۃ القلم، آیت ۵۲
تَبَارَكَ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَٰلَمِينَ نَذِيرًا
ترجمہ: بہت ہی بابرکت ہے وہ (اللہ تعالیٰ) جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن مجید) نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے ڈرانے والے ہو جائیں۔سورۃ الفرقان، آیت ۱
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ
ترجمہ: اور ہم نے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔سورۃ الانبیاء، آیت ۱۰۷
أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ
ترجمہ: میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔سورۃ المائدہ، آیت ۳ (جامعیت)
عالمگیریت
- پہلے کی الہامی کتابیں کسی خاص قوم، علاقے یا نسل کے لیے اتاری گئیں؛ قرآن مجید تمام انسانیت کے لیے رہتی دنیا تک ہدایت ہے۔
- اس کی تعلیمات زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے حتمی اور مؤثر رہنمائی دیتی ہیں۔
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کو سارے جہانوں کے لیے نبی اور رسول بنا کر بھیجا گیا۔
عظمت و فضیلت
- قرآن مجید دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔
- اس کی حکمت میں عقل مندی اور دانائی کے خزانے ہیں اور مومنوں کے لیے یہ شفاء اور رحمت ہے۔
- ہر حرف پڑھنے پر نیکی ملتی ہے اور حفظ کر کے سینے میں محفوظ رکھنا سعادت مندی ہے۔
- مسلمانوں کی ترقی اور تنزلی قرآن مجید پر عمل سے مشروط ہے۔
- قرآن مجید کی تعلیمات کی عملی تصویر نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی حیاتِ طیبہ ہے۔
دو احادیث مبارکہ (جماعت نہم ص۷-۸)
- «تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے» (صحیح بخاری ۵۰۲۷)۔
- «قرآن مجید پڑھا کرو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا» (صحیح مسلم ۸۰۴)۔
خصوصیات یاد رکھنے کا طریقہ
نو خصوصیات: کلام، محفوظ، معجزہ، ہدایت، عالمگیر، تضاد، تاثیر، ابدی، جامع
- ۱ - کلامِ الٰہی
- ۲ - محفوظ
- ۳ - معجزاتی
- ۴ - کامل ہدایت
- ۵ - عالمگیر
- ۶ - تضاد سے پاک
- ۷ - پُرتاثیر
- ۸ - ابدی
- ۹ - جامع
فوری دہرائی
- عالمگیریت = تمام انسانیت اور تمام جہانوں کے لیے، رہتی دنیا تک (القلم ۵۲)۔
- ابدی = ہمیشہ رہنے والی آخری کتاب؛ جامع = زندگی کے تمام شعبے۔
ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)
ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔
۱۔ قرآن مجید کی عالمگیریت سے کیا مراد ہے؟
- قرآن مجید کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے، کسی خاص قوم، علاقے یا نسل کے لیے نہیں۔
- یہ قیامت تک آنے والی نسلِ انسانی کے لیے ہدایت اور رہنمائی ہے۔
- اس سے پہلے کی کتابیں کسی خاص قوم یا علاقے کے لیے آئیں، قرآن مجید رہتی دنیا تک سب کے لیے ہے (الفرقان ۱؛ القلم ۵۲)۔
۲۔ قرآن مجید کو عالمگیر کتاب کیوں کہا جاتا ہے؟ تین وجوہات لکھیں۔
- یہ تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے (القلم ۵۲)۔
- اس کا لانے والا نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں (الانبیاء ۱۰۷)۔
- یہ ہر دور اور زندگی کے تمام پہلوؤں کے متعلق حتمی اور مؤثر رہنمائی دیتی ہے۔
۳۔ عالمگیریت کی تائید میں قرآن مجید کی دو آیات کا حوالہ دیں۔
- سورۃ الفرقان آیت ۱: بہت بابرکت ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے ڈرانے والے ہوں۔
- سورۃ القلم آیت ۵۲: وہ (قرآن مجید) تو تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔
- سورۃ الانبیاء آیت ۱۰۷: ہم نے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
۴۔ قرآن مجید کی فضیلت میں دو احادیث لکھیں۔
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے (بخاری ۵۰۲۷)۔
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: قرآن مجید پڑھا کرو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا (مسلم ۸۰۴)۔
- قرآن مجید کا ہر حرف پڑھنا نیکی ہے اور حفظ کر کے سینے میں محفوظ رکھنا سعادت مندی ہے۔
۵۔ قرآن مجید کی تین فضیلتیں بیان کریں۔
- یہ بہت عظمت والی کتاب اور تمام انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔
- اس میں انسان کو پیش آنے والے تمام مسائل کا حل تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
- اس کی حکمت میں عقل مندی اور دانائی کے خزانے ہیں اور یہ مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔
۶۔ قرآن مجید کے کوئی تین فضائل و خصوصیات (جماعت دہم کے مطابق) لکھیں۔
- یہ کلامِ الٰہی اور محفوظ کلام ہے (التوبہ ۶؛ الحجر ۹)۔
- یہ معجزاتی کلام اور کامل ہدایت ہے (البقرہ ۲۳؛ البقرہ ۱۸۵)۔
- یہ ابدی، جامع اور تضاد سے پاک کتاب ہے (النساء ۸۲؛ المائدہ ۳)۔
۷۔ قرآن مجید کے تضاد سے پاک ہونے پر دلیل دیں۔
- اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو کیا وہ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے؟ (النساء ۸۲)۔
- اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت اختلاف پاتے۔
- قرآن مجید کے مضامین میں شک و شبہ اور تضاد نہیں بلکہ مکمل ہم آہنگی اور ربط ہے۔
۸۔ قرآن مجید کے ابدی ہونے کا مطلب لکھیں۔
- یہ کامل اور ہمیشہ رہنے والی کتاب ہے۔
- اس کا پیغام ہر دور کے لیے ہے اور اس کی تعلیمات کی اثر انگیزی اور برکات کا سلسلہ ہمیشہ جاری ہے۔
- یہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جس کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں ہو گی اور سابقہ شریعتیں منسوخ ہو گئیں۔
۹۔ قرآن مجید کو جامع کتاب کیوں کہا گیا ہے؟
- اس میں زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق ہدایت اور مکمل رہنمائی ہے۔
- انفرادی، اجتماعی، خاندانی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی معاملات کی رہنمائی اس میں موجود ہے۔
- المائدہ ۳: آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔
۱۰۔ قرآن مجید کے پرتاثیر ہونے پر نوٹ لکھیں۔
- قرآن مجید سننے والے کے دل پر اثر کرتا ہے۔
- جب کوئی قاری پڑھتا ہے تو سننے والا خواہ سمجھے یا نہ سمجھے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
- یونس ۵۷: یہ دلوں کی بیماریوں کی شفا اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
۱۱۔ قرآن مجید کے رمضان المبارک میں نازل ہونے اور ہدایت ہونے کی آیت لکھیں۔
- سورۃ البقرہ ۱۸۵: رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔
- یہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔
- اس میں ہدایت کی روشن نشانیاں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی باتیں ہیں (البقرہ ۱۸۵)۔
ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)
لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
۱۔ قرآن مجید کے فضائل اور خصوصیات بیان کریں۔
کلامِ الٰہی اور محفوظ کتاب
- قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے (التوبہ ۶) اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہے (الحجر ۹)۔
معجزاتی اور کامل ہدایت
- زبان، نظم، فصاحت اور اثر انگیزی سب معجزہ ہیں (البقرہ ۲۳)۔
- یہ تمام انسانیت کے لیے ہدایت ہے اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے (البقرہ ۱۸۵)۔
عالمگیر اور ابدی
- پہلی کتابیں خاص قوم یا علاقے کے لیے تھیں؛ قرآن مجید تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے (القلم ۵۲)۔
- یہ آخری کتاب ہے، ہر دور کے مسائل کا حل ہے اور سابقہ شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
تضاد سے پاک، پرتاثیر اور جامع
- اس میں اختلاف نہیں (النساء ۸۲)؛ یہ دلوں کے لیے شفا ہے (یونس ۵۷)۔
- زندگی کے ہر شعبے کی رہنمائی ہے؛ دین مکمل کر دیا گیا (المائدہ ۳)۔
۲۔ قرآن مجید کی عالمگیریت پر نوٹ لکھیں۔
مفہوم
- قرآن مجید کا پیغام پوری انسانیت کے لیے آفاقی ہے، کسی خاص قوم یا علاقے کے لیے نہیں۔
قرآنی دلائل
- الفرقان ۱: تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے ڈرانے والے ہوں۔
- القلم ۵۲: وہ تو تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔
- الانبیاء ۱۰۷: ہم نے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
پہلی کتابوں سے فرق
- پہلی الہامی کتابیں خاص قوم، علاقے اور نسل کی ہدایت کے لیے اتاری گئیں۔
- قرآن مجید رہتی دنیا تک رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
عملی پہلو
- قرآن مجید زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق حتمی اور مؤثر رہنمائی دیتا ہے۔
- اسی لیے نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کو سارے جہانوں کے لیے نبی اور رسول بنا کر بھیجا گیا۔
۳۔ قرآن مجید کی عظمت و فضیلت بیان کریں۔
قرآن مجید اور اس کے ماننے والے
- یہ کتاب جس سرزمین پر نازل ہوئی اس نے وہاں کے لوگوں کو فرشِ خاک سے اوجِ ثریا تک پہنچا دیا۔
- مسلمانوں کی ترقی و تنزلی قرآن مجید پر عمل کے ساتھ مشروط ہے؛ اقبال: وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر / اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر۔
احادیث میں فضیلت
- بہترین شخص وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے (بخاری ۵۰۲۷)۔
- قرآن مجید قیامت کے دن پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا (مسلم ۸۰۴)۔
- ہر حرف پڑھنے پر نیکی ہے؛ حفظ سعادت مندی ہے۔
خصوصیات
- دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب اور رشد و ہدایت کا ذریعہ۔
- تمام علوم کا منبع و ماخذ۔
- اس کی عملی تصویر نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی حیاتِ طیبہ ہے؛ ہمیں قرآن مجید کے ساتھ نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اسوۂ حسنہ پر چلنا چاہیے۔
۳۔ اعجازِ قرآن مجید اور تحریف سے حفاظت
حاصلاتِ تعلم
- اعجاز اور حفاظت کے بارے میں جان کر ایمان پختہ کر سکیں۔
اعجاز
- قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام، آخری کتاب اور ایک معجزہ ہے؛ سب مخلوق مل کر بھی اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔
- چیلنج: اس جیسا کلام، کم از کم ایک سورت، بنا لاؤ؛ کوئی بھی جواب نہ دے سکا اور نہ قیامت تک دے سکے گا۔
- زبان و بیان، تاثیر اور تعلیمات کے لحاظ سے بھی معجزہ ہے؛ سننے والا خواہ سمجھے یا نہ سمجھے، متاثر ہوتا ہے۔
قُل لَّئِنِ ٱجۡتَمَعَتِ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِمِثۡلِ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لَا يَأۡتُونَ بِمِثۡلِهِۦ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٖ ظَهِيرٗا
ترجمہ: آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم فرما دیجیے اگر تمام انسان اور جنات جمع ہو جائیں اس بات پر کہ وہ اس قرآن مجید جیسا بنا لائیں تو وہ اس جیسا نہیں لا سکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔سورۃ بنی اسرائیل، آیت ۸۸
وَإِن كُنتُمۡ فِي رَيۡبٖ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا فَأۡتُواْ بِسُورَةٖ مِّن مِّثۡلِهِۦ وَٱدۡعُواْ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
ترجمہ: اور اگر تم شک میں ہو اس (کلام) کے بارے میں جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس طرح کی ایک سورت لے آؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔سورۃ البقرہ، آیت ۲۳
تحریف سے حفاظت
تحریف: متن میں ایسی تبدیلی جس سے معنی و مفہوم بدل جائیں۔
- پہلی کتابوں میں تحریف ہو چکی اور وہ اصلی صورت میں موجود نہیں۔
- قرآن مجید پہلے دن سے آج تک اصلی صورت میں محفوظ ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک رہے گا۔
- حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے؛ یہ سینوں میں اور مصاحف میں سوا چودہ سو برس سے زائد عرصے سے محفوظ ہے۔
إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
ترجمہ: بے شک ہم ہی نے (اس) ذکر (قرآن مجید) کو نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی ضرور حفاظت فرمانے والے ہیں۔سورۃ الحجر، آیت ۹
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَيۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخۡتِلَٰفٗا كَثِيرٗا
ترجمہ: تو کیا وہ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے؟ اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت اختلاف پاتے۔سورۃ النساء، آیت ۸۲ (تضاد سے پاک)
فوری دہرائی
- اعجاز: چیلنج بنی اسرائیل ۸۸ اور البقرہ ۲۳۔
- حفاظت: الحجر ۹، ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی۔
ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)
ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔
۱۔ قرآن مجید کے معجزاتی کتاب ہونے پر ایک آیت کا حوالہ دیں۔
- سورۃ البقرہ ۲۳ میں چیلنج ہے کہ اگر تمھیں شک ہے تو اس جیسی ایک سورت لے آؤ۔
- اور اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔
- (جماعت نہم) بنی اسرائیل ۸۸: تمام انسان اور جنات جمع ہو جائیں تب بھی اس جیسا قرآن مجید نہیں لا سکتے۔
۲۔ اعجازِ قرآن مجید کے تین پہلو لکھیں۔
- اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے کی وجہ سے تمام مخلوقات اس جیسا کلام لانے سے قاصر ہیں۔
- زبان و بیان، نظم، تاثیر اور تعلیمات کے لحاظ سے بھی یہ معجزہ ہے۔
- چیلنج کا کوئی جواب نہ آج تک دیا جا سکا ہے اور نہ قیامت تک دیا جا سکے گا۔
۳۔ قرآن مجید کو تحریف سے پاک کیوں کہا جاتا ہے؟ تین نکات لکھیں۔
- پچھلی کتابوں میں تحریف ہو چکی اور وہ اصلی صورت میں موجود نہیں، جب کہ قرآن مجید اول روز سے آج تک اپنی اصلی صورت میں محفوظ ہے۔
- اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے (الحجر ۹)۔
- یہ اہلِ ایمان کے سینوں میں اور مصاحف کی شکل میں سوا چودہ سو برس سے زائد مدت سے محفوظ ہے۔
۴۔ تحریف کیا ہے؟ اور قرآن مجید کی حفاظت پر کون سی آیت دلیل ہے؟
- تحریف متن میں ایسی کسی بھی تبدیلی کو کہتے ہیں جس سے معنی و مفہوم بدل جائے۔
- سورۃ الحجر ۹: بے شک ہم ہی نے ذکر (قرآن مجید) نازل فرمایا ہے۔
- اور بے شک ہم ہی اس کی ضرور حفاظت فرمانے والے ہیں۔
۵۔ قرآن مجید کی حفاظت کے طریقے لکھیں۔
- اہلِ ایمان نے اسے اپنے سینوں میں حفظ کر کے محفوظ رکھا۔
- اسے تحریری طور پر لکھ کر مصاحف کی شکل میں محفوظ کیا گیا۔
- حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود لی (الحجر ۹)؛ اس کے متن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)
لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
۱۔ قرآن مجید کے اعجاز اور تحریف سے محفوظ ہونے پر تفصیل سے لکھیں۔
اعجاز
- قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور آخری کتاب ہے جس کی مثال لانے سے تمام مخلوق قاصر ہے۔
- البقرہ ۲۳: اگر شک ہے تو اس جیسی ایک سورت لے آؤ۔ بنی اسرائیل ۸۸: انسان اور جن مل کر بھی اس جیسا نہیں لا سکتے۔
- زبان و بیان، اثر اور تعلیمات کے لحاظ سے بھی معجزہ ہے۔
تحریف کا مفہوم
- متن میں ایسی تبدیلی جس سے معنی و مفہوم بدل جائے۔
- پہلی کتابوں میں تحریف ہو چکی، اصلی صورت میں موجود نہیں۔
قرآن مجید کی حفاظت
- اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی ذمہ داری خود لی (الحجر ۹)۔
- سینوں میں حفظ اور مصاحف میں تحریری حفاظت؛ سوا چودہ سو برس سے زائد مدت سے کوئی تبدیلی نہیں۔
۴۔ جمع و تدوینِ قرآن مجید
حاصلاتِ تعلم
- عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں جمع و تدوین کے مراحل بیان کر سکیں۔
جمع کے دو معنی: (۱) حفاظت کرنا اور سینے میں جگہ دینا؛ (۲) لکھنا۔
إِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهُۥ وَقُرۡءَانَهُۥ
ترجمہ: بے شک (آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے سینے میں) اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔سورۃ القیامہ، آیت ۱۷
پہلا مرحلہ: عہدِ رسالت
- حفظ: نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سید الحفاظ تھے؛ نازل شدہ حصہ صحابہ کو سناتے اور صحابہ یاد کر لیتے۔
- حفاظ صحابہ میں حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
- کتابت: کاتبینِ وحی مقرر تھے، تعداد چالیس تک شمار کی گئی۔
- لکھنے کے ذرائع: لکڑی کے تختے، پتھر کی سلیں، چمڑے کے غلاف، کھجور کے چوڑے پتے، درخت کے پتے، اونٹ کے شانے کی چوڑی ہڈیاں، کبھی کاغذ کے ٹکڑے۔
- قرآن مجید ایک مصحف میں جمع نہیں تھا بلکہ مختلف اشیاء پر لکھا ہوا تھا۔
بَلۡ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ فِي صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّـٰلِمُونَ
ترجمہ: بل کہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں (محفوظ) جنھیں علم عطا کیا گیا ہے۔سورۃ العنکبوت، آیت ۴۹
دوسرا مرحلہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عہد
- سبب: جھوٹے نبیوں اور منکرینِ زکوٰۃ کے خلاف کارروائیوں میں کئی حفاظ و قراء صحابہ شہید ہو گئے؛ خدشہ ہوا کہ قرآن مجید محفوظ نہ رہے۔
- حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مشورے پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو ایک مصحف میں جمع کرنے کا حکم دیا۔
- حضرت زید رضی اللہ عنہ نے لکھے ہوئے سب نسخے اکٹھے کیے اور تقریباً ایک سال میں کام مکمل کیا؛ تمام صحابہ نے اسے قبول کیا۔
| حضرت زید رضی اللہ عنہ کے چار طریقے |
|---|
| ۱۔ اپنی یادداشت سے نسخوں کی توثیق |
| ۲۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اپنے حافظے سے توثیق کرتے |
| ۳۔ دو قابلِ اعتماد گواہ کہ آیت نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے سامنے لکھی گئی |
| ۴۔ صحابہ کے تیار کردہ مجموعوں سے موازنہ |
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے قرآن مجید کو کتابی صورت میں جمع کیا۔
تیسرا مرحلہ: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا عہد
- اسلام روم، ایران اور دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا؛ نئے مسلمانوں کے ذریعے قراءتوں کا اختلاف پھیلنے لگا۔
- حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے مشورہ کر کے قرآن مجید کو قریش کی لغت پر جمع کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ قرآن مجید انھی کے لہجے میں نازل ہوا۔
- کمیٹی کے سربراہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے اور تین قریشی صحابہ: حضرت عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص اور عبدالرحمن بن حارث رضی اللہ عنہم۔
- کام: سورتیں ترتیب وار ایک مصحف میں لکھیں؛ مصحفِ امّ سامنے رکھ کر نقول تیار کیں؛ اختلافِ قراءت میں صرف متواتر صورت رکھی۔
- کل سات نسخے تیار ہوئے: مکہ مکرمہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ، کوفہ اور مدینہ منورہ میں محفوظ کیے گئے؛ اسی لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو “جامع القرآن” کہتے ہیں۔
مصحفِ امّ
- حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا مرتب کردہ پہلا نسخہ۔
| مرحلہ | شخصیت | کام |
|---|---|---|
| پہلا | نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا عہد | حفظ اور کتابت، مختلف اشیاء پر |
| دوسرا | حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ | ایک مصحف میں جمع (زید بن ثابت) |
| تیسرا | حضرت عثمان رضی اللہ عنہ | قریش کی لغت پر سات نسخے |
کتاب کی ایک بات
- جماعت نہم ص۱۰ میں نزولِ قرآن مجید کی مدت “تیس سال” لکھی ہے جبکہ جماعت دہم ص۱۰ میں تقریباً ۲۳ سال ہے۔ امتحان میں دونوں کتابوں کے الفاظ کے مطابق لکھیں اور سوال کے حوالے کو دیکھیں۔
فوری دہرائی
- تین مرحلے: عہدِ رسالت، عہدِ ابوبکر، عہدِ عثمان۔
- ابوبکر: زید بن ثابت، ایک سال، چار طریقے؛ عثمان: قریش کی لغت، سات نسخے، جامع القرآن۔
ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)
ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔
۱۔ جمعِ قرآن مجید کے دو معنی لکھیں۔
- جمع کا پہلا معنی حفاظت کرنا اور سینے میں جگہ دینا ہے (القیامہ ۱۷)۔
- دوسرا معنی لکھنا ہے۔
- لکھنے کی تین قسمیں ہیں: آیات و سورتیں الگ الگ لکھنا، ایک سورت کی آیات کو ترتیب سے ایک صحیفے میں لکھنا، اور تمام سورتوں کو ترتیب سے کتابی صورت میں ایک جگہ جمع کرنا۔
۲۔ عہدِ رسالت میں قرآن مجید کی حفاظت کن دو طریقوں سے ہوئی؟
- حفظ کے ذریعے: نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سید الحفاظ تھے، صحابہ کرام آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے سن کر زبانی یاد کرتے تھے۔
- کتابت کے ذریعے: آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نازل ہونے والی وحی کاتبینِ وحی سے لکھوا لیتے تھے۔
- اس کے ساتھ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم ترتیب بھی بتاتے کہ فلاں سورت میں فلاں جگہ یہ آیات لکھی جائیں۔
۳۔ عہدِ رسالت میں کن چیزوں پر قرآن مجید لکھا جاتا تھا؟
- لکڑی کے تختوں اور پتھر کی سلوں پر۔
- چمڑے کے غلافوں اور کھجور کے چوڑے پتوں پر۔
- درخت کے پتوں اور اونٹ کے شانے کی چوڑی ہڈیوں پر (کبھی کاغذ کے ٹکڑوں پر بھی)۔
۴۔ عہدِ رسالت کے پانچ حافظ صحابہ کرام کے نام لکھیں۔
- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔
- حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ۔
- حضرت طلحہ، عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم میں سے کوئی۔
۵۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کو یک جا کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے عہد میں قرآن مجید ایک مصحف میں نہیں بلکہ مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا۔
- جھوٹے نبیوں اور منکرینِ زکوٰۃ کے خلاف جنگی اقدامات میں کئی حفاظ و قرائے صحابہ شہید ہو گئے۔
- خدشہ ہوا کہ حفاظ کی کثرتِ شہادت سے قرآن مجید کا کوئی حصہ محفوظ نہ رہ سکے۔
۶۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں قرآن مجید جمع کرنے کی ذمہ داری کس کو دی گئی؟ اس نے کیا کیا؟
- حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مشورے پر حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو ذمہ داری دی گئی۔
- انھوں نے صحابہ کے پاس موجود تمام لکھے ہوئے نسخے اکٹھے کیے۔
- سخت محنت کے بعد ایک سال کی مدت میں قرآن مجید جمع کیا جسے تمام صحابہ نے قبول کیا۔
۷۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ جمعِ قرآن مجید میں کون سے چار طریقے اپناتے تھے؟
- اپنی یادداشت سے لکھے ہوئے نسخوں کی توثیق کرتے۔
- کمیٹی کے رکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی اپنے حافظے سے توثیق کرتے۔
- کوئی آیت اس وقت تک قبول نہ ہوتی جب تک دو قابلِ اعتماد گواہ گواہی نہ دیتے کہ وہ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے سامنے لکھی گئی تھی؛ نیز لکھی آیات کا صحابہ کے مجموعوں سے موازنہ کیا جاتا۔
۸۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں جمعِ قرآن مجید کی بابت کیا فرمایا؟
- فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے۔
- وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے اپنے عہد میں قرآن مجید کو کتابی صورت میں جمع کیا۔
- یوں قرآن مجید کو ایک ہی جگہ جمع کرنے کا کارنامہ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوا۔
۹۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن کیوں کہتے ہیں؟
- انھوں نے عہدِ نبوی اور عہدِ صدیقی کی جمع و تدوین کی کاوشوں کو یک جا کیا۔
- قرآن مجید کو ایک ہی لغت (قریش کی لغت) اور لہجے میں جمع کر دیا۔
- اس سے قراءت کے اختلافات ختم ہو گئے۔
۱۰۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن مجید کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
- اسلام عرب سے نکل کر روم، ایران اور دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا اور نئے مسلمانوں نے عربی نہ جاننے کی وجہ سے مجاہدین سے قرآن مجید سیکھا۔
- ہر صحابی نے اپنے شاگردوں کو اسی طرح سکھایا جیسے اس نے نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے سیکھا تھا، یوں قراتوں کا اختلاف دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔
- حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خطرہ محسوس کر کے صحابہ سے مشورہ کیا اور قرآن مجید کو قریش کی لغت پر جمع کرنے کا فیصلہ ہوا۔
۱۱۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کمیٹی کے ارکان کے نام لکھیں۔
- کمیٹی کے سربراہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے۔
- تین قریشی صحابہ: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ۔
- اور حضرت عبدالرحمن بن حارث رضی اللہ عنہ؛ یہ صحیح قریشی لہجے میں قراءت کے ماہر تھے۔
۱۲۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن مجید کے اقدامات لکھیں۔
- تمام سورتوں کو ترتیب وار ایک ہی مصحف میں لکھا۔
- مصحفِ امّ (حضرت زید رضی اللہ عنہ کا مرتب کردہ پہلا نسخہ) کو سامنے رکھ کر نقول تیار کیں اور کتابت و خط کا خصوصی خیال رکھا۔
- اختلافِ قراءت میں صرف متواتر قراءت پر اکتفا کیا اور کل سات نسخے تیار کیے۔
۱۳۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ سات نسخے کہاں کہاں بھیجے گئے؟
- مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور شام۔
- یمن اور بحرین۔
- بصرہ اور کوفہ۔
۱۴۔ مصحفِ امّ کیا ہے؟
- یہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا مرتب کردہ قرآن مجید کا پہلا نسخہ ہے۔
- یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں تیار ہوا۔
- حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کمیٹی نے نسخے تیار کرتے وقت اسے سامنے رکھا۔
۱۵۔ قرآن مجید کی جمع و تدوین کے تین مراحل بتائیں۔
- پہلا مرحلہ عہدِ رسالت: حفظ اور کتابت کے ذریعے۔
- دوسرا مرحلہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عہد: ایک مصحف میں جمع۔
- تیسرا مرحلہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا عہد: قریش کی لغت پر جمع اور سات نسخوں کی تیاری۔
ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)
لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
۱۔ عہدِ رسالت میں قرآن مجید کی جمع و تدوین کے اقدامات بیان کریں۔
جمع کے معنی
- حفاظت کرنا اور سینے میں جگہ دینا (القیامہ ۱۷)؛ لکھنا اور مرتب کرنا۔
بذریعہ حفظ
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سید الحفاظ تھے؛ نازل شدہ حصہ صحابہ کو سناتے اور وہ زبانی یاد کر لیتے۔
- حفاظ صحابہ میں حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم شامل ہیں (العنکبوت ۴۹)۔
بذریعہ کتابت
- کاتبین وحی مقرر تھے اور آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم ترتیب بھی بتاتے تھے۔
- لکڑی کے تختوں، پتھر کی سلوں، چمڑے، کھجور اور درخت کے پتوں اور اونٹ کے شانے کی ہڈیوں پر لکھا جاتا۔
۲۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن مجید کا طریقۂ کار بیان کریں۔
پس منظر
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے عہد میں قرآن مجید ایک مصحف میں نہیں بلکہ مختلف اشیاء پر لکھا تھا۔
- جھوٹے نبیوں اور منکرینِ زکوٰۃ کے خلاف جنگوں میں کئی حفاظ شہید ہوئے اور خدشہ پیدا ہوا۔
تقرر
- حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مشورے سے حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو ذمہ داری ملی۔
طریقۂ کار
- صحابہ کے پاس موجود تمام لکھے نسخے اکٹھے کیے گئے۔
- اپنی یادداشت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حافظے سے توثیق کی جاتی۔
- دو قابلِ اعتماد گواہوں کی گواہی کہ آیت نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے سامنے لکھی گئی تھی۔
- صحابہ کے مجموعوں سے موازنہ کیا جاتا۔
نتیجہ
- ایک سال میں جمع و تدوین مکمل ہوئی، تمام صحابہ اور امت نے قبول کیا۔
- حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے، وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے قرآن مجید کو کتابی صورت میں جمع کیا۔
۳۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن مجید کے اقدامات کا جائزہ لیں۔
پس منظر
- اسلام عرب سے نکل کر روم، ایران اور دور دراز علاقوں تک پہنچا۔
- نئے مسلمانوں نے مجاہدین سے قرآن مجید سیکھا اور قراتوں کا اختلاف پھیل گیا۔
فیصلہ
- صحابہ کے مشورے سے قرآن مجید کو قریش کی لغت و لہجے پر جمع کرنے کا فیصلہ ہوا کیونکہ قرآن مجید انھی کی زبان میں نازل ہوا۔
کمیٹی
- حضرت زید بن ثابت کی سربراہی میں تین قریشی صحابہ: عبداللہ بن زبیر، سعید بن العاص اور عبدالرحمن بن حارث رضی اللہ عنہم۔
اقدامات
- تمام سورتوں کو ترتیب وار ایک مصحف میں لکھا۔
- مصحفِ امّ کو سامنے رکھ کر نقول تیار کیں اور کتابت کا خاص خیال رکھا۔
- متواتر قراءت پر اکتفا کیا۔
- کل سات نسخے: مکہ مکرمہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ، کوفہ اور مدینہ منورہ میں محفوظ کیے گئے۔
نتیجہ
- قراءت کے اختلاف ختم ہو گئے؛ اسی بنا پر آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن کہا جاتا ہے۔
۴۔ قرآن مجید کی جمع و تدوین کے تینوں مراحل کا تقابل کریں۔
عہدِ رسالت
- حفظ اور کتابت؛ مختلف اشیاء پر لکھا ہوا اور سینوں میں محفوظ۔
عہدِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
- حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری میں ایک مصحف میں جمع (مصحفِ امّ)؛ سبب حفاظ کی شہادت۔
عہدِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ
- قریش کی لغت پر جمع؛ سات نسخے؛ قراءتوں کے اختلاف کا خاتمہ؛ جامع القرآن۔
۵۔ مکی اور مدنی سورتیں
حاصلاتِ تعلم
- مکی و مدنی سورتوں کی تعریف اور خصوصیات بیان کر سکیں۔
- قرآن مجید تقریباً ۲۳ سال میں بتدریج نازل ہوا۔
- مکی: جو ہجرتِ مدینہ منورہ سے پہلے نازل ہوئیں، چاہے مکہ مکرمہ میں یا کہیں اور۔
- مدنی: جو ہجرتِ مدینہ منورہ کے بعد نازل ہوئیں۔
| مکی سورتوں کی خصوصیات (۹) | مثال |
|---|---|
| بنیادی عقائد کی تعلیم | الاخلاص (توحید)، القارعہ (آخرت) |
| کفار و مشرکین کا رد | دلائل اور دردناک عذاب سے ڈرانا |
| اخلاق و آداب کی تعلیم | بنی اسرائیل |
| مختصر اور جامع آیات | العصر، الکوثر، التکاثر |
| حروفِ مقطعات اور سجدے | اکثر مکی سورتوں میں |
| پوری انسانیت سے خطاب | يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ |
| پیش گوئیاں اور قسمیں | اہلِ روم کی فتح؛ وَٱلۡعَصۡرِ، ٱلۡفَجۡرِۖ، ٱلۡأٓيَٰتِۖ إِن |
| لفظ “کلا” | اہم بات پر تنبیہ یا تردید |
| رعب دار اور پُرجلال آہنگ | المزمل |
| مدنی سورتوں کی خصوصیات (۹) | مثال |
|---|---|
| عبادات کی تعلیم | نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، جہاد |
| اہلِ ایمان کو خطاب | يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ |
| بڑی اور طویل آیات | کتاب نے الانعام، الاعراف لکھی ہیں |
| اہلِ کتاب و منافقین کی خصلتیں | البقرہ، آل عمران |
| معاشرتی، معاشی، سیاسی تعلیمات | النساء، المائدہ |
| آیاتِ احکام | زکوٰۃ، وضو، وراثت؛ تقریباً ۵۰۰ |
| غزوات کا بیان | الانفال، التوبہ |
| قوانین کی تنفیذ | حدود، قصاص |
| جہاد میں صبر و ثابت قدمی | آل عمران، الانفال |
کتاب کی دو باتیں
- کتاب (جماعت دہم ص۱۱) میں طویل مدنی آیات کی مثال الانعام اور الاعراف لکھی ہے؛ اور مکی خصوصیت میں البقرہ کا حوالہ بھی چھپا ہے۔ نوٹس میں کتاب کے مطابق لکھا ہے؛ امتحان میں کتاب کے الفاظ استعمال کریں۔
فوری دہرائی
- مکی = ہجرت سے پہلے؛ مدنی = ہجرت کے بعد۔
- مکی: عقائد، مختصر آیات؛ مدنی: احکام، غزوات، حدود۔
ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)
ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔
۱۔ مکی اور مدنی سورتوں میں کیا فرق ہے؟
- جو سورتیں اور آیات ہجرتِ مدینہ منورہ سے پہلے نازل ہوئیں، چاہے مکہ مکرمہ میں یا کسی اور جگہ، وہ مکی کہلاتی ہیں۔
- جو ہجرتِ مدینہ منورہ کے بعد نازل ہوئیں وہ مدنی کہلاتی ہیں۔
- قرآن مجید تقریباً ۲۳ سال میں بتدریج نازل ہوا۔
۲۔ مکی سورتوں کی کوئی تین خصوصیات لکھیں۔
- بنیادی عقائد (توحید، آخرت) کی تعلیم؛ مثلاً الاخلاص میں توحید اور القارعہ میں آخرت۔
- کفار و مشرکین کا رد اور دردناک عذاب سے ڈرانا۔
- مختصر اور جامع آیات؛ مثلاً العصر، الکوثر، التکاثر۔
۳۔ مکی سورتوں کی تین مزید خصوصیات لکھیں۔
- اخلاق و آداب کی تعلیم؛ حروفِ مقطعات اور سجدوں کا ذکر۔
- پوری انسانیت سے خطاب: يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ۔
- پیش گوئیاں اور قسمیں (مثال: وَٱلۡعَصۡرِ، ٱلۡأٓيَٰتِۖ إِن)، لفظ “کلا” اور رعب دار صوتی آہنگ (مثلاً سورۃ المزمل)۔
۴۔ “کلا” کا لفظ کس بات کی نشاندہی کرتا ہے؟
- یہ لفظ مکی سورتوں کی خصوصیت ہے۔
- یہ کسی اہم بات پر تنبیہ کرتا ہے۔
- اور کسی بات کی تردید کے لیے بھی آتا ہے۔
۵۔ مدنی سورتوں کی کوئی تین خصوصیات لکھیں۔
- عبادات (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، جہاد) کی تعلیم اور ان کے اثرات و ثمرات کا ذکر۔
- اہلِ ایمان کو خطاب: يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ۔
- معاشرتی، معاشی اور سیاسی تعلیمات؛ مثلاً سورۃ النساء اور سورۃ المائدہ۔
۶۔ مدنی سورتوں کی تین مزید خصوصیات لکھیں۔
- اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) اور منافقین کی خصلتوں کا بیان؛ مثلاً سورۃ البقرہ اور آل عمران۔
- آیاتِ احکام: زکوٰۃ کے مسائل، وضو کا طریقہ، وراثت؛ قرآن مجید میں تقریباً ۵۰۰ آیاتِ احکام ہیں۔
- غزوات کا ذکر (الانفال، التوبہ)، قوانین کی تنفیذ (حدود، قصاص) اور جہاد میں صبر و ثابت قدمی (آل عمران، الانفال)۔
۷۔ آیاتِ احکام سے کیا مراد ہے؟
- ایسی آیات جن میں صراحت کے ساتھ کسی شرعی حکم کا ذکر آیا ہو یا اس سے کوئی حکم اخذ کیا جا سکے۔
- مثلاً زکوٰۃ کے مسائل، وضو کا طریقہ اور وراثت کے احکام والی آیات۔
- قرآن مجید میں تقریباً ۵۰۰ آیاتِ احکام موجود ہیں۔
۸۔ حروفِ مقطعات سے کیا مراد ہے؟
- حروفِ مقطعات سورتوں کے شروع میں آنے والے الگ الگ حروف ہیں (مثال: الٓمٓ)۔
- کتاب کے مطابق یہ حروف مکی سورتوں کی خصوصیات میں ذکر ہوئے ہیں۔
- ان حروف کے ساتھ ہی بہت سی سورتوں کا آغاز ہوتا ہے۔
۹۔ مدنی سورتوں میں غزوات اور قوانین کی تنفیذ کا ذکر کیوں ہے؟
- ہجرتِ مدینہ منورہ کے بعد ہی غزوات کا سلسلہ شروع ہوا، اس لیے ان کا ذکر مدنی سورتوں میں ہے۔
- مدنی دور میں اسلامی ریاست قائم ہوئی جس میں احکام عملی طور پر نافذ کیے گئے۔
- مثلاً حدود اور قصاص کی تفصیلات انھی سورتوں میں بیان ہوئیں۔
ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)
لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
۱۔ قرآن مجید کی مکی سورتوں کی خصوصیات بیان کریں اور مثالیں دیں۔
تعریف
- جو سورتیں اور آیات ہجرتِ مدینہ منورہ سے پہلے نازل ہوئیں وہ مکی کہلاتی ہیں۔
عقائد اور رد
- بنیادی عقائد کی تعلیم: توحید (الاخلاص)، آخرت (القارعہ)۔
- کفار و مشرکین کا رد دلائل کے ساتھ اور عذاب سے ڈرانا۔
اخلاق اور انداز
- اخلاق و آداب کی تعلیم (بنی اسرائیل)؛ آیات مختصر و جامع (العصر، الکوثر، التکاثر)۔
- حروفِ مقطعات اور سجدوں کا ذکر؛ پوری انسانیت سے خطاب: يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ۔
پیش گوئی اور آہنگ
- اہلِ روم کی فتح کی پیش گوئی؛ قسمیں: وَٱلۡعَصۡرِ، ٱلۡفَجۡرِۖ، ٱلۡأٓيَٰتِۖ إِن۔
- لفظ “کلا” اور رعب دار، پر جلال صوتی آہنگ (مثلاً سورۃ المزمل)۔
۲۔ قرآن مجید کی مدنی سورتوں کی خصوصیات مثالوں سمیت بیان کریں۔
تعریف
- جو سورتیں ہجرتِ مدینہ منورہ کے بعد نازل ہوئیں مدنی کہلاتی ہیں۔
عبادات اور خطاب
- نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور جہاد کے مسائل اور ان کے اثرات و ثمرات کا ذکر۔
- اہلِ ایمان کو خطاب: يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ۔
اہلِ کتاب، منافقین اور معاشرت
- یہود و نصاریٰ اور منافقین کی خصلتوں کی تفصیل (البقرہ، آل عمران)۔
- معاشرتی، معاشی اور سیاسی احکام (النساء، المائدہ)۔
- آیاتِ احکام: تقریباً ۵۰۰۔
غزوات، قوانین اور جہاد
- غزوات کا ذکر (الانفال، التوبہ)؛ حدود و قصاص جیسے قوانین کی تنفیذ۔
- جہاد فی سبیل اللہ تعالیٰ میں صبر اور ثابت قدمی کی تلقین (آل عمران، الانفال)۔
۳۔ مکی اور مدنی سورتوں میں فرق واضح کریں۔
تعریف کا فرق
- مکی: ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں؛ مدنی: ہجرت کے بعد۔
موضوعات کا فرق
- مکی: عقائد (توحید، آخرت)، اخلاق، کفار کا رد۔
- مدنی: عبادات، معاشرتی و سیاسی احکام، اہلِ کتاب و منافقین، غزوات اور قوانین۔
اسلوب کا فرق
- مکی: مختصر آیات، قسمیں، رعب دار آہنگ، خطاب يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ۔
- مدنی: بڑی اور طویل آیات، خطاب يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ۔
۶۔ حدیث مبارکہ: تعریف اور اقسام
حاصلاتِ تعلم
- حدیث مبارکہ کی تعریف، اقسام اور حدیث مبارکہ و سنت کا فرق بیان کر سکیں۔
- لغوی معنی: بیان، بات چیت، گفتگو۔
- شرعی اصطلاح: نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اقوال، اعمال اور احوال۔
| قسم | مطلب |
|---|---|
| قولی | رسول کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا قول یا فرمان درج ہو |
| فعلی (عملی) | رسول اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے عمل کا بیان ہو |
| تقریری | صحابہ کا ایسا عمل درج ہو جو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے علم میں آیا اور آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے منع نہ فرمایا |
حدیث مبارکہ اور سنت میں فرق
- حدیث مبارکہ عام ہے، اس کا اطلاق سنت سمیت قول اور فعل پر ہوتا ہے۔
- سنت خاص ہے، اس سے مراد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا طریقۂ زندگی ہے۔
فوری دہرائی
- حدیث مبارکہ کی تین قسمیں: قولی، فعلی، تقریری۔
ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)
ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔
۱۔ حدیث مبارکہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کریں۔
- حدیث مبارکہ کے لغوی معنی بیان، بات چیت، گفتگو یا نئی چیز کے ہیں۔
- شرعی اصطلاح میں نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اقوال، اعمال اور احوال کا نام حدیث مبارکہ ہے۔
- (جماعت نہم) حدیث مبارکہ رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اقوال و افعال کو کہتے ہیں۔
۲۔ حدیث مبارکہ کی کتنی اقسام ہیں؟ بیان کریں۔
- قولی حدیث مبارکہ: ایسی روایت جس میں رسول کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا قول یا فرمان درج ہو۔
- عملی یا فعلی حدیث مبارکہ: ایسی روایت جس میں رسول اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے عمل کا بیان ہو۔
- تقریری حدیث مبارکہ: ایسی روایت جس میں صحابہ کا وہ عمل درج ہو جس کی آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کو خبر ہو اور آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے منع نہ فرمایا ہو، بلکہ خاموشی اختیار کی ہو۔
۳۔ حدیث مبارکہ اور سنت میں فرق لکھیں۔
- حدیث مبارکہ عام ہے؛ اس کا اطلاق سنت سمیت قول اور فعل پر کیا جاتا ہے۔
- سنت خاص ہے اور اس سے مراد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا طریقۂ زندگی ہے۔
- حدیث مبارکہ میں خاص طور پر حضور اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اقوال شامل ہوتے ہیں۔
ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)
لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
۱۔ حدیث مبارکہ کی تعریف اور اقسام بیان کریں۔
لغوی معنی
- بیان، بات چیت، گفتگو یا کوئی نئی چیز/خبر۔
اصطلاحی معنی
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اقوال، اعمال اور احوال کا نام حدیث مبارکہ ہے۔
اقسام
- قولی: آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا قول یا فرمان۔
- فعلی (عملی): آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے عمل کا بیان۔
- تقریری: صحابہ کا وہ عمل جو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے علم میں آیا اور آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے منع نہ فرمایا (خاموشی اختیار کی)۔
حدیث مبارکہ اور سنت
- حدیث مبارکہ عام ہے (قول، فعل اور سنت سب پر)؛ سنت خاص ہے یعنی رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا طریقۂ زندگی۔
۷۔ حجیت، حفاظت اور جمع و تدوینِ حدیث مبارکہ
حاصلاتِ تعلم
- حدیث مبارکہ کی حجیت، اہمیت اور تدوین کے ادوار بیان کر سکیں۔
حجیت اور اہمیت
- جس طرح قرآن مجید حجت ہے اسی طرح حدیث مبارکہ بھی حجت ہے۔
- قرآن مجید اصولی کتاب ہے؛ جزئیات حدیث مبارکہ سے ملتی ہیں: نماز کے اوقات، رکعات اور طریقہ؛ زکوٰۃ اور حج کی تفصیل۔
- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا اخلاق قرآن مجید تھا (مسند احمد ۲۰۱۲)۔
- حدیث مبارکہ کا انکار حکمِ الٰہی سے روگردانی ہے۔
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار والوں کی۔سورۃ النساء، آیت ۵۹
لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا
ترجمہ: یقینا تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔سورۃ الاحزاب، آیت ۲۱
قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِيِّ ٱلۡأُمِّيِّ ٱلَّذِي يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
ترجمہ: تو ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر جو نبی اُمّی ہیں … اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔سورۃ الاعراف، آیت ۱۵۸
مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ كَيۡ لَا يَكُونَ دُولَةَۢ بَيۡنَ ٱلۡأَغۡنِيَآءِ مِنكُمۡۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
ترجمہ: اور جو کچھ رسول تمھیں عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے رک جاؤ۔سورۃ الحشر، آیت ۷
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِۗ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ
ترجمہ: اور ہم نے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا۔سورۃ النحل، آیت ۴۴
حفاظت اور جمع و تدوین (جماعت دہم)
| دور | کیا ہوا |
|---|---|
| پہلا (زمانۂ رسالت، صحابہ، تابعین) | حفظ، کتابت اور تعاملِ امت سے حفاظت |
| دوسرا (پہلی صدی کے آخر) | حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے سرکاری حکم سے باضابطہ تدوین |
| تیسرا (تیسری صدی ہجری) | دور دراز سفر، جانچ کے اصول، اسماء الرجال کا فن، صحاحِ ستہ |
- امام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ نے مدینہ منورہ کی ہر گلی میں جا کر احادیث جمع کیں۔
- تابعین کے دور کی کتابیں: کتاب الآثار (امام ابو حنیفہ)، الموطا (امام مالک)، الجامع (امام سفیان ثوری)، کتاب الحج (امام محمد) رحمۃ اللہ علیہم۔
| صحاحِ ستہ | مؤلف | وفات (ہجری) |
|---|---|---|
| صحیح بخاری | امام محمد بن اسماعیل البخاری | ۲۵۶ |
| صحیح مسلم | امام مسلم بن حجاج القشیری | ۲۶۱ |
| جامع ترمذی | امام محمد بن عیسیٰ الترمذی | ۲۷۹ |
| سنن ابو داود | امام سلیمان بن اشعث السجستانی | ۲۷۵ |
| سنن نسائی | امام احمد بن علی النسائی | ۳۰۳ |
| سنن ابن ماجہ | امام محمد بن یزید ابن ماجہ القزوینی | ۲۷۳ |
اصولِ اربعہ (کتاب کے مطابق، فقہ جعفریہ)
- الکافی (الکلینی، ف ۳۲۹)؛ من لا یحضرہ الفقیہ (ابن بابویہ قمی، ف ۳۸۱)؛ الاستبصار اور تہذیب الاحکام (الطوسی، ف ۴۶۰)۔
صحاحِ ستہ کا ترتیب وار نام
بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ
- ۱ - بخاری
- ۲ - مسلم
- ۳ - ترمذی
- ۴ - ابو داود
- ۵ - نسائی
- ۶ - ابن ماجہ
فوری دہرائی
- تین ادوار: رسالت و صحابہ و تابعین، پہلی صدی کا آخر (عمر بن عبدالعزیز)، تیسری صدی (صحاحِ ستہ)۔
- حجیت کی آیات: النساء ۵۹، الاحزاب ۲۱، الاعراف ۱۵۸، الحشر ۷، النحل ۴۴۔
ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)
ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔
۱۔ حدیث مبارکہ کی حجیت سے کیا مراد ہے؟ تین نکات لکھیں۔
- جس طرح قرآن مجید ہمارے لیے حجت ہے اسی طرح حدیث مبارکہ بھی حجت ہے۔
- قرآن مجید کی رو سے رسول اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی اطاعت فرض ہے (النساء ۵۹)۔
- حدیث مبارکہ میں جو تعلیمات بیان ہوئی ہیں ان کی پیروی اور ان پر عمل کرنا لازمی ہے (سنن ابی داود ۴۶۰۴)۔
۲۔ حدیث مبارکہ کی دینی حیثیت اور اہمیت تین نکات میں لکھیں۔
- قرآن مجید اور حدیثِ نبوی اسلام کی تعلیمات کی بنیاد ہیں۔
- قرآن مجید ایک اصولی کتاب ہے جس کی وضاحت احادیثِ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے ہوتی ہے۔
- نماز، زکوٰۃ اور حج کی تفصیلات (اوقات، رکعات، طریقہ) ہمیں حدیث مبارکہ سے ملتی ہیں۔
۳۔ حدیث مبارکہ کی ضرورت کے لیے قرآن مجید سے تین حوالے دیں۔
- النساء ۵۹: اللہ تعالیٰ اور رسول ( خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم) کی اطاعت کرو۔
- الاحزاب ۲۱: رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم میں بہترین نمونہ ہے۔
- الحشر ۷: جو کچھ رسول تمھیں عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے رک جاؤ۔
۴۔ حدیث مبارکہ کی اہمیت کے بارے میں اتباعِ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے متعلق کتاب کیا کہتی ہے؟
- اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں کو نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی اتباع کا حکم دیا (الاعراف ۱۵۸)۔
- ایمان کی تکمیل رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی سنت کی اتباع سے ہوتی ہے۔
- رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی نافرمانی در حقیقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔
۵۔ جمع و تدوینِ حدیث مبارکہ کے تین ادوار کے نام لکھیں۔
- پہلا دور: زمانۂ رسالت اور صحابہ کرام کا دور، پھر تابعین کا دور (حفظ، کتابت اور تعامل امت سے حفاظت)۔
- دوسرا دور: پہلی صدی ہجری کے آخر میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے باضابطہ تدوین۔
- تیسرا دور: تیسری صدی ہجری، جس میں صحاحِ ستہ لکھی گئیں۔
۶۔ حدیث مبارکہ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرام نے کون سے تین ذرائع اختیار کیے؟
- حفظ: احادیث کو یاد کرنا۔
- کتابت: احادیث کو لکھنا۔
- تعاملِ امت: فرمانِ نبوی اور سنت کی عملی پیروی کرنا۔
۷۔ دورِ تابعین میں حدیث مبارکہ کی کوئی تین کتابیں اور ان کے مرتبین لکھیں۔
- کتاب الآثار: امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مرتب کی۔
- الموطا: امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ نے مرتب کی۔
- الجامع: امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ؛ کتاب الحج: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ۔
۸۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث مبارکہ کے بارے میں کیا کارنامہ سرانجام دیا؟
- پہلی صدی ہجری کے آخر تک کئی صحابہ کرام وفات پا گئے تھے۔
- حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے سرکاری سطح پر حکم دیا کہ احادیثِ نبویہ کو جمع کیا جائے اور کتابی شکل میں مدون کیا جائے۔
- اس حکم کی تعمیل میں احادیث کی باضابطہ تدوین ہوئی۔
۹۔ امام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث مبارکہ کی خدمت لکھیں۔
- وہ دورِ تابعین کے امام تھے۔
- انھوں نے مدینہ منورہ کی ہر گلی میں جا کر لوگوں سے احادیث اکٹھی کیں۔
- اور انھیں تحریر کیا۔
۱۰۔ تیسری صدی ہجری میں محدثین نے حدیث مبارکہ کی خدمت کیسے کی؟
- احادیث کی جمع و تدوین کے لیے دور دراز علاقوں کے سفر کیے۔
- حدیث مبارکہ کی جانچ پرکھ کے اصول وضع کیے۔
- اسماء الرجال کا فن وجود میں آیا اور بے شمار معتبر کتبِ حدیث مبارکہ لکھی گئیں جن میں چھ کو صحاحِ ستہ کہتے ہیں۔
۱۱۔ صحاحِ ستہ کی چھ کتابوں کے نام لکھیں۔
- صحیح بخاری اور صحیح مسلم۔
- جامع ترمذی اور سنن ابو داود۔
- سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ۔
۱۲۔ صحاحِ ستہ کے مؤلفین کے نام لکھیں۔
- امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری اور امام مسلم بن حجاج القشیری۔
- امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی اور امام ابو داود سلیمان بن اشعث السجستانی۔
- امام ابو عبدالرحمن احمد بن علی النسائی اور امام ابو عبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ القزوینی۔
۱۳۔ صحاحِ ستہ کے مؤلفین کے سنہ وفات (ہجری) لکھیں۔
- امام بخاری ۲۵۶ ہجری اور امام مسلم ۲۶۱ ہجری۔
- امام ترمذی ۲۷۹ ہجری اور امام ابو داود ۲۷۵ ہجری۔
- امام نسائی ۳۰۳ ہجری اور امام ابن ماجہ ۲۷۳ ہجری۔
۱۴۔ قرآن مجید اور حدیث مبارکہ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
- قرآن مجید اصول و کلیات بیان کرتا ہے اور اس کی جزئیات و وضاحت حدیث مبارکہ سے ملتی ہے۔
- حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ‘‘آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اخلاق قرآن مجید (کی عملی تصویر) تھے۔’’ (مسند احمد ۲۰۱۲)
- اللہ تعالیٰ نے نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے فرمایا کہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا (النحل ۴۴)۔
۱۵۔ اصولِ اربعہ سے کیا مراد ہے؟ (کتاب کے مطابق)
- اصولِ اربعہ چار کتابیں ہیں جنھیں کتاب میں فقہ جعفریہ کے مستند ترین ذخائرِ حدیث مبارکہ کہا گیا ہے۔
- ان کے نام: الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، الاستبصار فیما اختلف من الاخبار اور تہذیب الاحکام۔
- ان کے مؤلفین کے نام کتاب میں درج ہیں: الکلینی (ف ۳۲۹)، ابن بابویہ قمی (ف ۳۸۱)، اور الطوسی (ف ۴۶۰) دو کتابوں کے مؤلف۔
ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)
لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
۱۔ حدیث مبارکہ کی حجیت اور اہمیت کو تفصیل سے بیان کریں۔
بنیادی حیثیت
- قرآن مجید اور حدیثِ نبوی اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہیں؛ حدیث مبارکہ بھی قرآن مجید کی طرح حجت ہے۔
- قرآن مجید اصولی کتاب ہے، اس کی وضاحت و جزئیات حدیث مبارکہ سے ملتی ہیں۔
قرآن مجید سے دلائل
- النحل ۴۴: ہم نے ذکر نازل کیا تاکہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا۔
- النساء ۵۹ / محمد ۳۳: اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو۔
- الاحزاب ۲۱: رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم میں بہترین نمونہ ہے۔
- الاعراف ۱۵۸: ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔
- الحشر ۷: جو رسول دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ۔
حدیث مبارکہ سے دلیل
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: مجھے قرآن مجید دیا گیا اور اس کے ساتھ اس جیسا بھی (یعنی سنت) (سنن ابی داود ۴۶۰۴)۔
- اس سے معلوم ہوا کہ حدیث مبارکہ بھی من جانب اللہ تعالیٰ ہے اور اس پر عمل لازم ہے۔
مثالیں
- قرآن مجید نے نماز کا حکم دیا، اوقات، رکعات اور طریقہ حدیث مبارکہ سے ملتا ہے؛ زکوٰۃ اور حج کی تفصیل بھی حدیث مبارکہ سے۔
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا: آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اخلاق قرآن مجید (کی عملی تصویر) تھے۔
۲۔ حدیث مبارکہ کی دینی حیثیت اور اہمیت بیان کریں۔ (جماعت نہم کے مطابق)
اطاعتِ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم فرض
- قرآن مجید کی رو سے رسول اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی اطاعت فرض ہے؛ حدیث مبارکہ کا انکار حکمِ الٰہی سے روگردانی ہے (النساء ۵۹)۔
اسوۂ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم
- قرآن مجید کی عملی تفسیر سیرتِ مصطفیٰ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم میں ہے؛ ہر معاملے میں رہنمائی اسوۂ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے ملتی ہے (الاحزاب ۲۱)۔
اتباع ایمان کی نشانی
- ایمان کی تکمیل رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی سنت کی اتباع سے ہوتی ہے (الاعراف ۱۵۸)۔
نافرمانی
- رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی نافرمانی حکمِ الٰہی کی خلاف ورزی ہے؛ جو دیں لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ (الحشر ۷)۔
۳۔ جمع و تدوینِ حدیث مبارکہ کے بارے میں دورِ ثانی اور ثالث کے حوالے سے تفصیل بیان کریں۔
دورِ اوّل کا خلاصہ
- زمانۂ رسالت سے حفظ، کتابت اور تعامل امت سے حفاظت؛ صحابہ کے بعد تابعین نے سیکھا اور اگلی نسلوں تک پہنچایا۔
- پہلی صدی کے آخر تک حدیث مبارکہ کی بہت سی کتابیں وجود میں آ گئیں۔
دورِ ثانی
- پہلی صدی ہجری کے آخر تک کئی صحابہ وفات پا چکے تھے۔
- حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے سرکاری سطح پر حدیث مبارکہ کو کتابی شکل میں جمع کرنے کا حکم دیا۔
- امام ابن شہاب زہری نے مدینہ منورہ میں احادیث جمع کیں؛ امام ابوحنیفہ (کتاب الآثار)، امام مالک (الموطا)، امام سفیان ثوری (الجامع)، امام محمد (کتاب الحج)۔
دورِ ثالث
- تیسری صدی ہجری میں محدثین نے دور دراز سفر کیے، جانچ کے اصول وضع کیے اور اسماء الرجال کا فن وجود میں آیا۔
- چھ معتبر کتبِ حدیث مبارکہ (صحاحِ ستہ) لکھی گئیں۔
۴۔ اصولِ اربعہ اور صحاحِ ستہ کے نام اور ان کے مؤلفین کے نام لکھیں۔
صحاحِ ستہ
- صحیح بخاری: امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری (ف ۲۵۶ ہجری)۔
- صحیح مسلم: امام مسلم بن حجاج القشیری (ف ۲۶۱ ہجری)۔
- جامع ترمذی: امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی (ف ۲۷۹ ہجری)۔
- سنن ابو داود: امام ابو داود سلیمان بن اشعث السجستانی (ف ۲۷۵ ہجری)۔
- سنن نسائی: امام ابو عبدالرحمن احمد بن علی النسائی (ف ۳۰۳ ہجری)۔
- سنن ابن ماجہ: امام ابو عبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ القزوینی (ف ۲۷۳ ہجری)۔
اصولِ اربعہ (کتاب کے مطابق)
- الکافی: ابو جعفر محمد بن یعقوب الکلینی (ف ۳۲۹ ہجری)۔
- من لا یحضرہ الفقیہ: ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی (ف ۳۸۱ ہجری)۔
- الاستبصار فیما اختلف من الاخبار: ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی (ف ۴۶۰ ہجری)۔
- تہذیب الاحکام: ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی (ف ۴۶۰ ہجری)۔
۸۔ احادیثِ مبارکہ
حاصلاتِ تعلم
- ہر حدیث مبارکہ کا ترجمہ، مفہوم اور عملی زندگی میں اطلاق بیان کر سکیں۔
نیچے ۲۵ احادیث ہیں (جماعت نہم کی ۱۰ اور جماعت دہم کی ۱۵)، اس کے بعد ماڈل پیپر کی دو احادیث۔ ہر حدیث مبارکہ کے تین حصے ہیں: ترجمہ، مفہوم کے تین نکات، اطلاق کے دو نکات۔ حدیثِ مبارکہ کا عربی متن کتاب کے صفحے سے دو بار ملایا گیا ہے۔
أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ
ترجمہ: مومنوں میں ایمان کے لحاظ سے کامل ترین وہ لوگ ہیں جن کا اخلاق اچھا ہو اور ان میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ بہتر ہیں۔حدیث مبارکہ ۱: اخلاق (مسند احمد: ۵۱۹۳)
مفہوم
- اخلاق، خُلق کی جمع ہے، یعنی انسان کی عادات و اطوار اور زندگی گزارنے کے طور طریقے۔ انسان کی اصل پہچان اس کے اخلاق سے ہوتی ہے۔
- اس حدیث مبارکہ میں نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے بہترین اعمال و اخلاق کو ایمانِ کامل قرار دیا ہے۔
- عورتوں (ماں، بہن، بیٹی اور بیوی) کے ساتھ بہترین برتاؤ کو خاص طور پر موضوع بنایا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بھی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ہے (النساء ۱۹)۔
اطلاق
- ہم سچائی، امانت داری، صبر، ایثار، عفو و درگزر اور بڑوں کے ادب جیسے اخلاقِ حسنہ اپنائیں۔
- گھر کی خواتین کے ساتھ احترام، شفقت، خیر خواہی اور نرمی سے پیش آئیں، ان کے حقوق ادا کریں اور انھیں حقیر نہ سمجھیں۔
مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا
ترجمہ: نبی اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: “جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانے (اس کا ادب و احترام نہ کرے) تو وہ ہم میں سے نہیں۔”حدیث مبارکہ ۲: حقوق (سنن ابی داود: ۴۹۴۳)
مفہوم
- دینِ اسلام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے، چاہے ان کی معاشرتی حیثیت کچھ بھی ہو۔
- اس حدیث مبارکہ میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو بچوں پر رحم اور بڑوں کا ادب نہیں کرتے۔ رحم کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم رحمۃ للعالمین ہیں۔
- بڑے عمر، عہدے اور علم کے لحاظ سے شمار ہوتے ہیں (والدین، بڑے رشتہ دار، بہن بھائی، اساتذہ)۔ ان کی تعظیم، نصیحت سننا اور خدمت کرنا ان کے حق میں شامل ہے۔
اطلاق
- بچوں کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آئیں اور غلطی ہو جائے تو عفو و درگزر سے کام لیں۔
- والدین، اساتذہ اور بڑوں کا ادب و احترام کریں؛ جو معاشرہ چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام کرتا ہے وہ فلاحی معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔
أَيُّهَا النَّاسُ: اتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا فَاتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرُمَ
ترجمہ: اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے (اعتدال کے ساتھ) روزی طلب کرو کیونکہ کوئی انسان اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرے گا اگرچہ اس (رزق کے حصول) میں دیر ہو جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے روزی طلب کرو، جو حلال ہے وہ لے لو، جو حرام ہے وہ چھوڑ دو۔حدیث مبارکہ ۳: رزق (سنن ابن ماجہ: ۲۱۴۴)
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں چار باتیں ہیں: تقویٰ، روزی کی طلب میں اعتدال، رازق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اور حلال کو لینا اور حرام کو چھوڑنا۔
- تقویٰ کا مطلب پرہیز گاری اور خشیتِ الٰہی ہے، یعنی جن کاموں کا حکم ہے انھیں اپنانا اور جن سے منع کیا ہے ان سے رک جانا۔ رزق کی تقسیم اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھی ہے (سبا ۳۹)۔
- کچھ لوگ توکل کی کمی یا لالچ کی وجہ سے ناجائز ذرائع اختیار کر کے حلال رزق بھی حرام کر لیتے ہیں؛ اسلام نے حلال و حرام کو واضح کر دیا ہے (البقرہ ۱۶۸)۔
اطلاق
- رزق کی محنت اعتدال سے کریں، لالچ میں نہ پڑیں اور یقین رکھیں کہ جو رزق لکھا ہے وہ ضرور ملے گا۔
- صرف حلال اور پاکیزہ ذرائع سے کمائیں اور رشوت، دھوکے اور ناجائز طریقوں سے بچیں۔
مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
ترجمہ: جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے۔حدیث مبارکہ ۴: صلہ رحمی (صحیح مسلم: ۲۵۵۷)
مفہوم
- صلہ رحمی کا مطلب رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم رکھنا ہے؛ اس کے برعکس قطع رحمی ہے، یعنی رشتے توڑ دینا۔
- اس حدیث مبارکہ میں صلہ رحمی کا حکم ہے اور وعدہ ہے کہ ایسے شخص کے رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت ہو گی۔
- ایک شخص نے نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے جنت میں داخل کرنے والا عمل پوچھا تو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، شرک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور صلہ رحمی کرو (بخاری ۵۹۸۳)؛ قطع رحمی کرنے والا جنت سے محروم رہے گا۔
اطلاق
- رشتہ داروں سے ملتے رہیں، ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوں اور ان کے حقوق ادا کریں۔
- رشتہ دار برا سلوک کریں تب بھی رشتہ نہ توڑیں؛ اس سے رزق، عمر اور رشتہ داروں کی دعاؤں میں برکت ملتی ہے۔
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَبَائِرِ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ
ترجمہ: رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کی جان لینا اور جھوٹی گواہی دینا۔”حدیث مبارکہ ۵: کبائر (صحیح مسلم: ۸۸)
مفہوم
- کبائر، کبیرہ کی جمع ہے یعنی بڑے گناہ؛ اس حدیث مبارکہ میں چار بڑے گناہ بیان ہوئے ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہیں (النساء ۳۱)۔
- (۱) شرک: اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات یا افعال میں کسی کو شریک کرنا؛ توبہ کے بغیر مشرک کی بخشش نہیں (النساء ۴۸)۔ (۲) والدین کی نافرمانی: ان سے حسنِ سلوک کا حکم ہے (بنی اسرائیل ۲۳)۔
- (۳) ناحق قتل: انسانی جان بہت محترم ہے (الانعام ۱۵۱)۔ (۴) جھوٹی گواہی: لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں اور یہ ظلم ہے؛ رحمٰن کے بندے جھوٹی گواہی نہیں دیتے (الفرقان ۷۲)۔
اطلاق
- ہم ان چاروں کبیرہ گناہوں سے بچیں: شرک نہ کریں، والدین کے فرماں بردار رہیں، کسی کی جان نہ لیں اور جھوٹی گواہی نہ دیں۔
- ہمیشہ سچی گواہی دیں تاکہ کسی کا حق ضائع نہ ہو؛ اس سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی ملتی ہے۔
إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ
ترجمہ: تمھارے غلام بھی تمھارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں تمھارے ماتحت رکھا ہے، اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے ماتحت ہو، اسے چاہیے کہ جو وہ خود کھاتا ہے وہی اسے کھلائے اور جو خود پہنتا ہے وہی پہنائے اور ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے، لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو۔حدیث مبارکہ ۶: ماتحت (صحیح بخاری: ۲۵۴۵)
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں غلاموں، خادموں اور ماتحتوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں؛ ان سے اخوت و بھائی چارے کا سلوک کرنے کا حکم ہے۔
- ماتحت کو وہی کھلایا اور پہنایا جائے جو انسان خود کھاتا اور پہنتا ہے (صحیح مسلم ۱۶۶۳)؛ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا (النساء ۳۶)۔
- ماتحت پر اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ ڈالا جائے اور ڈالنا پڑے تو مالک خود اس کی مدد کرے۔
اطلاق
- گھریلو ملازمین اور ماتحتوں سے نرمی، ہمدردی اور حسنِ سلوک سے پیش آئیں، ان کے کھانے پینے اور لباس کا خیال رکھیں۔
- ان سے طاقت سے زیادہ کام نہ لیں اور ضرورت پڑے تو ان کی مدد کریں؛ اس سے بھائی چارہ اور انسانی عظمت بڑھتی ہے۔
مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ خَانَهُ
ترجمہ: جس کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا اور جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔حدیث مبارکہ ۷: فتویٰ (سنن ابی داود: ۳۶۵۷)
مفہوم
- فتویٰ سے مراد کسی شرعی یا قانونی مشکل مسئلے میں جواب دینا ہے؛ جواب دینے والے کو مفتی کہتے ہیں جو اپنے علم و اجتہاد کی بنیاد پر مسئلے میں شریعت کی تعلیمات بتاتا ہے۔
- فتویٰ دینا بھاری ذمہ داری ہے، اس لیے مفتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن مجید حکیم اور اس کے علوم، سنت اور علوم الحدیث سے اچھی طرح واقف ہو اور تقویٰ و کردار میں بھی نمایاں ہو۔
- مشورہ ایک امانت ہے (آل عمران ۱۵۹)؛ غلط مشورہ دینا، جان بوجھ کر کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے، خیانت ہے۔
اطلاق
- بغیر علم کے دین کے مسئلے میں فتویٰ نہ دیں بلکہ اہلِ علم سے پوچھیں۔
- جب کوئی مشورہ مانگے تو اخلاص اور دیانت داری سے وہی مشورہ دیں جس میں اس کی بھلائی ہو۔
الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ
ترجمہ: حیا خیر کے علاوہ کچھ اور نہیں لاتی۔حدیث مبارکہ ۸: حیا (صحیح مسلم: ۳۷)
مفہوم
- حیا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فطری صفات میں سے ہے؛ یہ شرم اور خوبی کی صفت ہے جس کی وجہ سے انسان برے اور ناپسندیدہ کاموں سے باز رہتا ہے۔ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: “بے شک حیا ایمان کا جزو ہے” (بخاری ۶۱۱۸)۔
- حیا کے تین درجے ہیں: (۱) بندے کو اپنے خدا سے حیا کہ اس کی نافرمانی سے باز رہے؛ (۲) انسانوں سے حیا کہ ایسا غلط کام نہ کرے جس پر شرمندہ ہونا پڑے؛ (۳) اپنی خواہشات اور منکرات پر قابو پانا۔
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: “جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو” (بخاری ۳۴۸۳)۔ حیا اور ایمان ساتھ رہتے ہیں، ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے۔
اطلاق
- ہم حیا کو اپنائیں اور بے حیائی پھیلانے والے ذرائع (غلط استعمال ہونے والی چیزوں) سے بچیں۔
- حیا سے معاشرے میں سکون، وقار اور رشتوں کا تقدس قائم رہتا ہے اور زندگی پاکیزہ و سادہ گزرتی ہے۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
ترجمہ: اے اللہ تعالیٰ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔حدیث مبارکہ ۹: دعا (سنن ابن ماجہ: ۹۲۵)
مفہوم
- اس دعا میں تین بہترین اعمالِ صالحہ سکھائے گئے ہیں: نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل؛ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہے کیونکہ وہی مالک ہے (غافر ۶۰)۔
- نفع بخش علم وہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی معرفت ملے اور انسانیت کی تعمیر ہو؛ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کو بھی علم میں اضافے کی دعا سکھائی گئی (طه ۱۱۴)۔ پاکیزہ روزی وہ ہے جو حلال ذرائع سے کمائی جائے۔
- مقبول عمل وہ ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی اتباع میں ہو۔ دعا کی قبولیت کی تین صورتیں ہیں: فوراً قبولیت، مصیبت کا ٹل جانا، یا اس کا صلہ قیامت تک محفوظ رکھا جانا۔
اطلاق
- ہم علمِ نافع حاصل کریں، حلال روزی کمائیں اور ایسے عمل کریں جو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہوں۔
- روزانہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کی عادت بنائیں اور کبھی مایوس نہ ہوں۔
كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ
ترجمہ: ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔حدیث مبارکہ ۱۰: حرمت (صحیح مسلم: ۲۵۶۴)
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں تین حرمتیں بیان ہوئی ہیں: مسلمان کی جان کی حرمت، مال کی حرمت اور عزت و آبرو کی حرمت۔
- جان کی حرمت: جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے کی سزا جہنم ہے (النساء ۹۳)؛ مال کی حرمت: چوری، ڈکیتی، غصب اور ناجائز ذرائع سے مال لینا حرام ہے، کسی کی چیز مذاق میں بھی نہ لی جائے (سنن ابی داود ۵۰۰۳)۔
- عزت کی حرمت: مذاق اڑانا، گالی دینا، بہتان لگانا، چغلی اور غیبت جیسے رذائل سے بچنے کا حکم ہے۔
اطلاق
- ہم ہر مسلمان کی جان، مال اور عزت کو اپنی جان، مال اور عزت کی طرح قابلِ احترام سمجھیں اور کسی کو ہاتھ یا زبان سے تکلیف نہ دیں۔
- کسی کی چیز ناجائز طریقے سے نہ لیں اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کرنے والے بنیں۔
مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
ترجمہ: جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔حدیث مبارکہ ۱۱: فقہ (صحیح بخاری: ۷۱)
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں دین کی سمجھ حاصل کرنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلائی کی علامت بتایا گیا ہے۔
- دین کی سمجھ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور وہ جس کے لیے بھلائی چاہتا ہے اسے یہ نعمت دیتا ہے۔
- اس سے دینی علم سیکھنے کی اہمیت اور فضیلت واضح ہوتی ہے۔
اطلاق
- ہم دین کا علم سیکھنے اور اس کی سمجھ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
- جو علم حاصل کریں اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی سکھائیں۔
مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ وَإِنَّ اللهَ لَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ
ترجمہ: قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاقِ حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ بے حیا اور بد زبان سے نفرت کرتا ہے۔حدیث مبارکہ ۱۲: اخلاق (سنن ترمذی: ۲۰۰۲)
مفہوم
- قیامت کے دن اعمال تولے جائیں گے اور مومن کے میزان میں سب سے بھاری چیز اچھا اخلاق ہو گا۔
- اخلاقِ حسنہ کی بڑی قدر و قیمت ہے اور یہ آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
- اللہ تعالیٰ بے حیا اور بد زبان سے نفرت کرتا ہے، یعنی فحش گوئی اور بد کلامی ناپسندیدہ ہے۔
اطلاق
- اپنی گفتگو اور برتاؤ میں نرمی، خوش اخلاقی اور شائستگی اپنائیں۔
- گالی گلوچ، بد زبانی اور بے حیائی سے مکمل پرہیز کریں۔
مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ
ترجمہ: جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔حدیث مبارکہ ۱۳: خیر خواہی (صحیح مسلم: ۲۶۹۹)
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں مسلمان بھائی کی مدد کرنے کے تین کام اور ان کے انعام بیان ہوئے ہیں: تکلیف دور کرنا، تنگ دست کے لیے آسانی کرنا اور پردہ پوشی کرنا۔
- ہر نیکی کا بدلہ اسی جیسا ہے: دنیا میں تکلیف دور کرنے والے کی قیامت کی تکلیف دور ہو گی، آسانی کرنے والے کو دنیا و آخرت میں آسانی ملے گی اور پردہ پوشی کرنے والے کی پردہ پوشی ہو گی۔
- جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا رہتا ہے۔
اطلاق
- ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی پریشانیاں دور کرنے، تنگ دست کو مہلت یا آسانی دینے میں آگے بڑھیں۔
- کسی کا عیب دیکھ کر اسے پھیلانے کے بجائے اس کی پردہ پوشی کریں۔
لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ
ترجمہ: آدمی کے دونوں قدم قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا۔حدیث مبارکہ ۱۴: حساب (سنن ترمذی: ۲۴۱۶)
مفہوم
- قیامت کے دن ہر انسان سے پانچ چیزوں کا حساب لیا جائے گا: عمر، جوانی، مال کمانے کا ذریعہ، مال خرچ کرنے کا مصرف اور علم پر عمل۔
- ان میں سے مال کے بارے میں دو سوال ہیں: کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔
- اس حدیث مبارکہ سے آخرت میں جواب دہی کا یقین پیدا ہوتا ہے۔
اطلاق
- ہم اپنی عمر اور جوانی نیک کاموں میں گزاریں اور وقت ضائع نہ کریں۔
- حلال کمائیں، جائز جگہوں پر خرچ کریں اور جو علم حاصل کریں اس پر عمل کریں۔
اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ
ترجمہ: (لوگو) سات ہلاک کر دینے والی باتوں سے بچو، پوچھا گیا یا رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم! وہ سات ہلاک کرنے والی باتیں کون سی ہیں؟ فرمایا: (۱) کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا۔ (۲) جادو کرنا۔ (۳) اس جان کو مار ڈالنا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے سوائے حق کے۔ (۴) سود کھانا۔ (۵) یتیم کا مال کھانا۔ (۶) جہاد کے دن دشمن کو پیٹھ دکھانا۔ (۷) پاک دامن ایمان والی اور بے خبر عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔حدیث مبارکہ ۱۵: کبائر (صحیح بخاری: ۲۷۶۶)
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچنے کا حکم ہے: شرک، جادو، ناحق قتل، سود، یتیم کا مال کھانا، میدانِ جہاد سے پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
- یہ گناہ انسان کو دنیا اور آخرت میں تباہی میں ڈال دیتے ہیں، اسی لیے انھیں “موبقات” (ہلاک کرنے والی باتیں) کہا گیا۔
- ان میں کچھ گناہ اللہ تعالیٰ کے حق سے متعلق ہیں (شرک، جادو) اور کچھ بندوں کے حقوق سے (قتل، سود، یتیم کا مال، تہمت)۔
اطلاق
- ہم عقیدے کی خرابی (شرک اور جادو) سے بچیں اور معاملات میں سود، یتیم کا مال کھانے اور ناحق خون سے بچیں۔
- کسی پاک دامن پر الزام اور تہمت لگانے سے ہمیشہ پرہیز کریں اور دینی فرض کے وقت ثابت قدم رہیں۔
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
ترجمہ: تم میں سے جو شخص منکر (ناقابلِ قبول کام) دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ (کی قوت) سے بدل دے اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے اپنی زبان (کی وعظ و نصیحت) سے بدل دے، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے اسے برا سمجھے (اور اس کے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔حدیث مبارکہ ۱۶: نیکی کا حکم (صحیح مسلم: ۴۹)
مفہوم
- برائی کو روکنے کے تین درجے ہیں: ہاتھ (قوت) سے، زبان (وعظ و نصیحت) سے اور دل سے برا جاننا۔
- ہر شخص پر اپنی طاقت اور اختیار کے مطابق برائی کو بدلنا لازم ہے۔
- دل سے برا سمجھنا سب سے کمزور ایمان ہے، یعنی اس سے کم درجہ کوئی نہیں۔
اطلاق
- اگر ہم برائی ہوتی دیکھیں تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے روکنے کی کوشش کریں؛ کم از کم نرمی سے سمجھائیں۔
- ہر حال میں برائی کو دل سے برا جانیں اور اس میں شریک نہ ہوں۔
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ
ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے (یعنی) “تندرستی” اور “فراغت”۔حدیث مبارکہ ۱۷: وقت (صحیح بخاری: ۶۴۱۲)
مفہوم
- صحت اور فراغت اللہ تعالیٰ کی دو بڑی نعمتیں ہیں جن کی اکثر لوگ قدر نہیں کرتے۔
- ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے انسان وقت اور صحت کو ضائع کر دیتا ہے اور بعد میں پچھتاتا ہے۔
- اس حدیث مبارکہ میں ان کی قدر کرنے اور انھیں نیک کاموں میں لگانے کی تعلیم ہے۔
اطلاق
- ہم صحت کی حفاظت کریں اور اسے نیکی اور علم حاصل کرنے میں لگائیں۔
- خالی وقت کو کھیل کود اور فضول کاموں میں ضائع نہ کریں بلکہ مفید کاموں میں استعمال کریں۔
الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ
ترجمہ: حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، ان کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں جنھیں بہت سے لوگ نہیں جان پاتے (کہ حلال ہے یا حرام)۔ جو ان مشتبہ چیزوں سے بچے، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا، وہ ایک دن حرام میں بھی پڑ جائے گا، جیسا کہ چراگاہ کے قریب جانور چرانے والا اس بات کے قریب ہوتا ہے کہ اس کا جانور اس (چراگاہ) میں بھی چرنے لگ جائے۔ خبردار! ہر بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ممنوعہ علاقہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔حدیث مبارکہ ۱۸: حلال حرام (سنن ابن ماجہ: ۳۹۸۴)
مفہوم
- حلال اور حرام واضح ہیں اور ان کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کا حکم بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا۔
- جو مشتبہ چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنا دین اور عزت بچا لی، اور جو شبہات میں پڑا وہ آخر حرام میں پڑ جائے گا۔
- مثال: چراگاہ کے قریب جانور چرانے والے کا جانور اس میں چرنے لگتا ہے؛ ہر بادشاہ کی ممنوعہ حد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ حد اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔
اطلاق
- ہم مشکوک کمائی، کھانے پینے اور معاملات سے بچیں تاکہ حرام سے دور رہیں۔
- جس چیز کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہو اس کے بارے میں علم رکھنے والوں سے پوچھیں اور احتیاط کریں۔
لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
ترجمہ: رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔حدیث مبارکہ ۱۹: مشابہت (صحیح بخاری: ۵۸۸۵)
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں مردوں کا عورتوں کی مشابہت اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا ناپسندیدہ اور قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے۔
- مرد اور عورت دونوں کی اپنی فطری شناخت ہے جسے قائم رکھنا چاہیے۔
- رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا ایسے لوگوں پر لعنت بھیجنا اس عمل کی سنگینی ظاہر کرتا ہے۔
اطلاق
- ہم اپنے چال چلن، لباس اور انداز میں اپنی فطری شناخت کا خیال رکھیں۔
- دوسروں کی غلط نقالی سے بچیں اور اسلامی شناخت پر قائم رہیں۔
إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: يَسُبُّ الرَّجُلُ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ
ترجمہ: یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم! کوئی شخص اپنے ہی والدین پر کیسے لعنت بھیجے گا؟ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا کہ وہ شخص دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا۔حدیث مبارکہ ۲۰: والدین (صحیح بخاری: ۵۹۷۳)
مفہوم
- والدین کو برا بھلا کہنا یا ان پر لعنت بھیجنا سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔
- اپنے والدین کو براہِ راست برا کہنا ہی نہیں بلکہ ایسی بات کرنا جس سے دوسرا اس کے والدین کو گالی دے، وہ بھی اپنے والدین کو گالی دلوانے کے برابر ہے۔
- اس سے معلوم ہوا کہ گالی گلوچ کا سلسلہ آگے بڑھ کر خود اپنے لیے وبال بن جاتا ہے۔
اطلاق
- ہم والدین کا ادب کریں اور کبھی انھیں برا بھلا نہ کہیں۔
- کسی کے والدین یا بڑوں کو گالی نہ دیں تاکہ جواب میں اپنے والدین کی توہین کا سبب نہ بنیں۔
اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ
ترجمہ: مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (دعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔حدیث مبارکہ ۲۱: مظلوم (صحیح بخاری: ۲۴۴۸)
مفہوم
- مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- مظلوم کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ (پردہ) نہیں ہوتی، یعنی وہ جلد قبول ہوتی ہے۔
- اس میں ظلم سے بچنے اور عدل و انصاف قائم رکھنے کی تعلیم ہے۔
اطلاق
- ہم کسی پر ظلم نہ کریں، نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے اور نہ کسی کا حق مار کر۔
- اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہو گئی ہو تو اس سے معافی مانگیں اور اس کا حق لوٹا دیں۔
يُوشِكُ الرَّجُلُ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِي فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ أَلَا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللهُ
ترجمہ: قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس سے میری کوئی حدیث مبارکہ بیان کی جائے تو وہ کہے: “ہمارے اور تمھارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے، ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور جو چیز حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے”، تو سن لو! جسے رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے حرام قرار دیا ہے وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔حدیث مبارکہ ۲۲: حجیت حدیث مبارکہ (سنن ابن ماجہ: ۱۲)
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو آرام سے بیٹھ کر کہیں گے کہ ہمیں صرف قرآن مجید کافی ہے اور حدیث مبارکہ کی ضرورت نہیں۔
- رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے واضح فرمایا کہ جسے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے حرام قرار دیا وہ بھی ویسا ہی حرام ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا حرام کردہ۔
- اس سے ثابت ہوا کہ حدیث مبارکہ بھی حجت ہے اور اس کی پیروی لازم ہے۔
اطلاق
- ہم قرآن مجید کے ساتھ ساتھ حدیث مبارکہ کو بھی دین کا ماخذ مانیں اور دونوں پر عمل کریں۔
- حدیث مبارکہ کا انکار یا اس کی اہمیت کم کرنے سے بچیں؛ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے ہر حکم پر عمل کریں (الحشر ۷)۔
دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ
ترجمہ: جو چیز تجھے شک میں ڈال دے اسے چھوڑ دے اور شک سے پاک چیز اختیار کر، کیوں کہ سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔حدیث مبارکہ ۲۳: سچ (سنن ترمذی: ۲۵۱۸)
مفہوم
- جس بات یا کام میں شک ہو اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرنا چاہیے جس میں شک نہ ہو۔
- سچائی دل کو اطمینان دیتی ہے۔
- جھوٹ دل میں شک اور بے چینی پیدا کرتا ہے۔
اطلاق
- ہم مشتبہ باتوں اور کاموں سے بچیں اور احتیاط کا راستہ اپنائیں۔
- ہمیشہ سچ بولیں تاکہ دل کو سکون ملے اور جھوٹ سے بچیں۔
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔حدیث مبارکہ ۲۴: محبتِ رسول (صحیح بخاری: ۱۵، صحیح مسلم: ۱۶۹)
مفہوم
- ایمان کی تکمیل کے لیے نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے محبت سب سے بڑھ کر ہونا ضروری ہے۔
- آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی محبت اولاد، والد اور تمام انسانوں کی محبت پر مقدم ہونی چاہیے۔
- محبتِ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا تقاضا ہے کہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی اطاعت اور اتباع کی جائے (النساء ۵۹)۔
اطلاق
- ہم نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی سنت پر عمل کر کے اپنی محبت کا ثبوت دیں۔
- جب کسی رشتے یا خواہش اور رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے حکم میں ٹکراؤ ہو تو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے حکم کو ترجیح دیں۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا عمل؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا عمل؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا۔حدیث مبارکہ ۲۵: افضل اعمال (صحیح بخاری: ۵۲۷، صحیح مسلم: ۲۵۲)
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں تین افضل اعمال بیان ہوئے: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا، والدین سے حسنِ سلوک اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد۔
- پہلا درجہ نماز کا ہے، مگر وقت پر؛ دوسرا والدین کے ساتھ نیکی کا اور تیسرا جہاد فی سبیل اللہ تعالیٰ کا۔
- راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جنھوں نے نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے یہ سوال کیا۔
اطلاق
- ہم نمازیں پابندی سے ان کے وقت پر ادا کریں۔
- والدین کی خدمت اور فرماں برداری کریں اور دین کی سربلندی کے لیے کوشش کرتے رہیں۔
إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن مجید) کے ذریعے کچھ قوموں کو بلند کرتا ہے اور دوسروں کو پست کرتا ہے۔حدیث مبارکہ ۲۶: قرآن مجید کی اہمیت ((حوالہ فریم ورک میں درج نہیں))
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں قرآن مجید کو عزت و ترقی اور ذلت و پستی کا معیار بتایا گیا ہے۔
- جو قوم قرآن مجید پر عمل کرتی ہے اسے بلندی ملتی ہے اور جو اسے چھوڑ دیتی ہے وہ پستی میں گر جاتی ہے۔
- کتاب (جماعت نہم ص۱۱) کے مطابق مسلمانوں کی ترقی اور تنزلی قرآن مجید پر عمل کرنے کے ساتھ مشروط ہے۔
اطلاق
- ہم قرآن مجید کو پڑھیں، سمجھیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔
- قرآن مجید سے جڑ کر انفرادی اور قومی ترقی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
ما أمرتكم به فخذوه وما نهيتكم عنه فانتهوا
ترجمہ: جس بات کا میں تمھیں حکم دوں اسے لے لو اور جس سے منع کروں اس سے رک جاؤ۔حدیث مبارکہ ۲۷: اطاعتِ رسول ((حوالہ فریم ورک میں درج نہیں))
مفہوم
- اس حدیث مبارکہ میں نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے ہر حکم کو ماننے اور ہر ممانعت سے رک جانے کی تعلیم ہے۔
- یہی اصول قرآن مجید میں بھی بیان ہوا ہے: “اور جو کچھ رسول تمھیں عطا فرمائیں تو اسے لے لو اور جس سے منع فرمائیں تو رک جاؤ” (الحشر ۷)۔
- اس سے رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی اطاعت کا لازم ہونا ثابت ہوتا ہے (النساء ۵۹)۔
اطلاق
- ہم رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی سنت اور احکام کی پیروی کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں۔
- جن کاموں سے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے منع فرمایا ان سے مکمل طور پر رک جائیں۔
فوری دہرائی
- حدیث مبارکہ لکھنے کی ترتیب: عربی متن، ترجمہ، مفہوم (۳ نکات)، اطلاق (۲ نکات)۔
ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)
ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔
۱۔ حیا اور ایمان کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
- حیا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فطری صفت ہے جو انسان کو برے کاموں سے روکتی ہے۔
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: “بے شک حیا ایمان کا جزو ہے” (صحیح بخاری ۶۱۱۸)۔
- حیا اور ایمان ساتھ رہتے ہیں؛ ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے۔
۲۔ حدیث مبارکہ کی روشنی میں کن تین چیزوں کی دعا مانگنے کی تلقین کی گئی ہے؟
- نفع بخش علم (علمِ نافع)۔
- پاکیزہ (حلال) روزی۔
- مقبول عمل (جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو)۔
۳۔ اسلامی اصطلاح میں تقویٰ سے کیا مراد ہے؟
- تقویٰ کا مطلب پرہیز گاری اور خشیتِ الٰہی (اللہ تعالیٰ کا خوف) ہے۔
- یعنی جن کاموں کا حکم دیا گیا ہے انھیں اپنانا۔
- اور جن کاموں سے منع کیا گیا ہے ان سے رک جانا۔
۴۔ حدیث مبارکہ کی روشنی میں افضل اعمال کون سے ہیں؟
- نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔
- والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔
- اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا (صحیح بخاری ۵۲۷، صحیح مسلم ۲۵۲)۔
۵۔ شک سے بچنے اور سچائی کو اختیار کرنے کے بارے میں حدیث مبارکہ تحریر کریں۔
- حدیث مبارکہ: جو چیز تجھے شک میں ڈال دے اسے چھوڑ دے اور شک سے پاک چیز اختیار کر (سنن ترمذی ۲۵۱۸)۔
- کیوں کہ سچائی میں اطمینان ہے۔
- اور جھوٹ میں شک (بے چینی) ہے۔
۶۔ قیامت کے دن آدمی سے کن پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا؟
- عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا اور جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا۔
- مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا۔
- علم کے بارے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا (سنن ترمذی ۲۴۱۶)۔
۷۔ سات ہلاک کرنے والی باتیں (الموبقات) لکھیں۔
- اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، جادو کرنا اور ناحق کسی کی جان لینا۔
- سود کھانا، یتیم کا مال کھانا اور جہاد کے دن دشمن کو پیٹھ دکھانا۔
- پاک دامن ایمان والی بے خبر عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا (صحیح بخاری ۲۷۶۶)۔
۸۔ برائی کو روکنے کے تین درجے حدیث مبارکہ کی روشنی میں لکھیں۔
- ہاتھ (قوت) سے بدل دینا۔
- اگر طاقت نہ ہو تو زبان (وعظ و نصیحت) سے بدلنا۔
- اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے برا جاننا اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے (صحیح مسلم ۴۹)۔
۹۔ مسلمان کی تین حرمتیں حدیث مبارکہ کی روشنی میں بیان کریں۔
- مسلمان کی جان کی حرمت (النساء ۹۳)۔
- مسلمان کے مال کی حرمت؛ چوری، ڈکیتی اور غصب حرام ہیں۔
- مسلمان کی عزت و آبرو کی حرمت؛ مذاق، گالی، بہتان، چغلی اور غیبت سے بچنا (صحیح مسلم ۲۵۶۴)۔
۱۰۔ حیا کے تین درجے لکھیں۔
- بندے کو اپنے خدا سے حیا کہ اس کی نافرمانی سے باز رہے۔
- انسانوں سے حیا کہ ایسا غلط کام نہ کرے جس پر شرمندہ ہونا پڑے۔
- اپنی خواہشات اور منکرات پر قابو پانا۔
۱۱۔ دعا کی قبولیت کی کتنی صورتیں کتاب میں بیان ہوئی ہیں؟ لکھیں۔
- پہلی صورت: دعا فوراً قبول ہو جاتی ہے۔
- دوسری صورت: اس کی وجہ سے کوئی مصیبت ٹل جاتی ہے۔
- تیسری صورت: اس کا صلہ قیامت تک محفوظ رکھا جاتا ہے۔
۱۲۔ مشتبہ چیزوں سے بچنے کی حدیث مبارکہ کا مفہوم تین نکات میں لکھیں۔
- حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، ان کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں۔
- جو مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنا دین اور عزت بچا لی۔
- جو شبہات میں پڑا وہ حرام میں بھی پڑ جائے گا، جیسے چراگاہ کے قریب جانور چرانے والا (سنن ابن ماجہ ۳۹۸۴)۔
۱۳۔ مسلمان بھائی کی مدد کے تین کام اور ان کا انعام حدیث مبارکہ کی روشنی میں لکھیں۔
- دنیاوی تکلیف دور کرنے پر قیامت کی تکلیف دور کی جائے گی۔
- تنگ دست کے لیے آسانی کرنے پر دنیا و آخرت میں آسانی ملے گی۔
- پردہ پوشی کرنے پر دنیا و آخرت میں پردہ پوشی ہو گی (صحیح مسلم ۲۶۹۹)۔
۱۴۔ صلہ رحمی کا مفہوم اور فائدے حدیث مبارکہ کی روشنی میں لکھیں۔
- صلہ رحمی کا مطلب رشتہ داروں سے اچھے تعلقات رکھنا ہے، اس کی ضد قطع رحمی ہے۔
- صلہ رحمی کرنے والے کے رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت ہوتی ہے (صحیح مسلم ۲۵۵۷)۔
- قطع رحمی کرنے والا جنت سے محروم رہے گا (صحیح بخاری ۵۹۸۳ کی تشریح کے مطابق)۔
۱۵۔ ماتحتوں کے حقوق حدیث مبارکہ کی روشنی میں لکھیں۔
- ماتحت بھی ہمارے بھائی ہیں۔
- جو خود کھائیں وہی انھیں کھلائیں اور جو خود پہنیں وہی پہنائیں۔
- ان پر طاقت سے زیادہ کام نہ ڈالیں اور ڈالنا پڑے تو خود ان کی مدد کریں (صحیح بخاری ۲۵۴۵)۔
۱۶۔ رزق کے بارے میں حدیث مبارکہ (أَيُّهَا النَّاسُ: اتَّقُوا اللهَ) کی چار باتیں لکھیں۔
- تقویٰ اختیار کرنا۔
- روزی کی طلب میں اعتدال رکھنا۔
- رازق اللہ تعالیٰ ہے اور حلال کو لینا اور حرام کو چھوڑنا (سنن ابن ماجہ ۲۱۴۴)۔
۱۷۔ مظلوم کی بد دعا کے بارے میں حدیث مبارکہ سے کیا سبق ملتا ہے؟
- مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
- مظلوم کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں، یعنی وہ جلد قبول ہوتی ہے۔
- ظلم سے بچنا اور عدل و انصاف قائم رکھنا چاہیے (صحیح بخاری ۲۴۴۸)۔
۱۸۔ والدین کو برا بھلا کہنے کے بارے میں حدیث مبارکہ کی تعلیم لکھیں۔
- اپنے والدین پر لعنت بھیجنا سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔
- جو شخص دوسرے کے باپ کو برا کہتا ہے وہ جواب میں اس کے باپ کو برا کہتا ہے۔
- اس لیے ایسی بات سے بچنا چاہیے جو اپنے والدین کی توہین کا سبب بنے (صحیح بخاری ۵۹۷۳)۔
۱۹۔ صحت اور فراغت کے بارے میں حدیث مبارکہ کا مفہوم لکھیں۔
- صحت اور فراغت اللہ تعالیٰ کی دو بڑی نعمتیں ہیں۔
- اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے اور بعد میں پچھتاتے ہیں۔
- ان کی قدر کر کے انھیں نیک کاموں اور علم میں لگانا چاہیے (صحیح بخاری ۶۴۱۲)۔
۲۰۔ مرد و عورت کی مشابہت کے بارے میں حدیث مبارکہ لکھیں۔
- رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔
- اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔
- اس سے فطری شناخت قائم رکھنے کی تعلیم ملتی ہے (صحیح بخاری ۵۸۸۵)۔
۲۱۔ بغیر علم کے فتویٰ اور مشورے کے بارے میں حدیث مبارکہ کی تعلیمات لکھیں۔
- جس کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہے۔
- غلط مشورہ جان بوجھ کر دینا بھائی کے ساتھ خیانت ہے۔
- فتویٰ دینے کے لیے قرآن، سنت اور علوم الحدیث کا علم اور تقویٰ ضروری ہے (سنن ابی داود ۳۶۵۷)۔
۲۲۔ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے محبت کے بارے میں حدیث مبارکہ سے تین نکات لکھیں۔
- ایمان کی تکمیل کے لیے نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے محبت سب سے بڑھ کر ہونا ضروری ہے۔
- یہ محبت اولاد، والد اور تمام انسانوں کی محبت پر مقدم ہونی چاہیے۔
- محبتِ رسول کا تقاضا آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی اطاعت اور اتباع ہے (صحیح بخاری ۱۵، صحیح مسلم ۱۶۹)۔
۲۳۔ “دین کی سمجھ” والی حدیث مبارکہ کا مفہوم لکھیں۔
- اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔
- دین کی سمجھ اللہ تعالیٰ کی عطا اور بھلائی کی علامت ہے۔
- اس سے دینی علم سیکھنے کی فضیلت واضح ہوتی ہے (صحیح بخاری ۷۱)۔
۲۴۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ
- اخلاق، خُلق کی جمع ہے، یعنی انسان کی عادات و اطوار اور زندگی گزارنے کے طور طریقے۔ انسان کی اصل پہچان اس کے اخلاق سے ہوتی ہے۔
- ہم سچائی، امانت داری، صبر، ایثار، عفو و درگزر اور بڑوں کے ادب جیسے اخلاقِ حسنہ اپنائیں۔
- گھر کی خواتین کے ساتھ احترام، شفقت، خیر خواہی اور نرمی سے پیش آئیں، ان کے حقوق ادا کریں اور انھیں حقیر نہ سمجھیں۔
۲۵۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا
- دینِ اسلام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے، چاہے ان کی معاشرتی حیثیت کچھ بھی ہو۔
- بچوں کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آئیں اور غلطی ہو جائے تو عفو و درگزر سے کام لیں۔
- والدین، اساتذہ اور بڑوں کا ادب و احترام کریں؛ جو معاشرہ چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام کرتا ہے وہ فلاحی معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔
۲۶۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
أَيُّهَا النَّاسُ: اتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا
- اس حدیث مبارکہ میں چار باتیں ہیں: تقویٰ، روزی کی طلب میں اعتدال، رازق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اور حلال کو لینا اور حرام کو چھوڑنا۔
- رزق کی محنت اعتدال سے کریں، لالچ میں نہ پڑیں اور یقین رکھیں کہ جو رزق لکھا ہے وہ ضرور ملے گا۔
- صرف حلال اور پاکیزہ ذرائع سے کمائیں اور رشوت، دھوکے اور ناجائز طریقوں سے بچیں۔
۲۷۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
- صلہ رحمی کا مطلب رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم رکھنا ہے؛ اس کے برعکس قطع رحمی ہے، یعنی رشتے توڑ دینا۔
- رشتہ داروں سے ملتے رہیں، ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوں اور ان کے حقوق ادا کریں۔
- رشتہ دار برا سلوک کریں تب بھی رشتہ نہ توڑیں؛ اس سے رزق، عمر اور رشتہ داروں کی دعاؤں میں برکت ملتی ہے۔
۲۸۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَبَائِرِ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ
- کبائر، کبیرہ کی جمع ہے یعنی بڑے گناہ؛ اس حدیث مبارکہ میں چار بڑے گناہ بیان ہوئے ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہیں (النساء ۳۱)۔
- ہم ان چاروں کبیرہ گناہوں سے بچیں: شرک نہ کریں، والدین کے فرماں بردار رہیں، کسی کی جان نہ لیں اور جھوٹی گواہی نہ دیں۔
- ہمیشہ سچی گواہی دیں تاکہ کسی کا حق ضائع نہ ہو؛ اس سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی ملتی ہے۔
۲۹۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا
- اس حدیث مبارکہ میں غلاموں، خادموں اور ماتحتوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں؛ ان سے اخوت و بھائی چارے کا سلوک کرنے کا حکم ہے۔
- گھریلو ملازمین اور ماتحتوں سے نرمی، ہمدردی اور حسنِ سلوک سے پیش آئیں، ان کے کھانے پینے اور لباس کا خیال رکھیں۔
- ان سے طاقت سے زیادہ کام نہ لیں اور ضرورت پڑے تو ان کی مدد کریں؛ اس سے بھائی چارہ اور انسانی عظمت بڑھتی ہے۔
۳۰۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ
- فتویٰ سے مراد کسی شرعی یا قانونی مشکل مسئلے میں جواب دینا ہے؛ جواب دینے والے کو مفتی کہتے ہیں جو اپنے علم و اجتہاد کی بنیاد پر مسئلے میں شریعت کی تعلیمات بتاتا ہے۔
- بغیر علم کے دین کے مسئلے میں فتویٰ نہ دیں بلکہ اہلِ علم سے پوچھیں۔
- جب کوئی مشورہ مانگے تو اخلاص اور دیانت داری سے وہی مشورہ دیں جس میں اس کی بھلائی ہو۔
۳۱۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ
- حیا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فطری صفات میں سے ہے؛ یہ شرم اور خوبی کی صفت ہے جس کی وجہ سے انسان برے اور ناپسندیدہ کاموں سے باز رہتا ہے۔ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: “بے شک حیا ایمان کا جزو ہے” (بخاری ۶۱۱۸)۔
- ہم حیا کو اپنائیں اور بے حیائی پھیلانے والے ذرائع (غلط استعمال ہونے والی چیزوں) سے بچیں۔
- حیا سے معاشرے میں سکون، وقار اور رشتوں کا تقدس قائم رہتا ہے اور زندگی پاکیزہ و سادہ گزرتی ہے۔
۳۲۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
- اس دعا میں تین بہترین اعمالِ صالحہ سکھائے گئے ہیں: نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل؛ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہے کیونکہ وہی مالک ہے (غافر ۶۰)۔
- ہم علمِ نافع حاصل کریں، حلال روزی کمائیں اور ایسے عمل کریں جو خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہوں۔
- روزانہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کی عادت بنائیں اور کبھی مایوس نہ ہوں۔
۳۳۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ
- اس حدیث مبارکہ میں تین حرمتیں بیان ہوئی ہیں: مسلمان کی جان کی حرمت، مال کی حرمت اور عزت و آبرو کی حرمت۔
- ہم ہر مسلمان کی جان، مال اور عزت کو اپنی جان، مال اور عزت کی طرح قابلِ احترام سمجھیں اور کسی کو ہاتھ یا زبان سے تکلیف نہ دیں۔
- کسی کی چیز ناجائز طریقے سے نہ لیں اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کرنے والے بنیں۔
۳۴۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
- اس حدیث مبارکہ میں دین کی سمجھ حاصل کرنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلائی کی علامت بتایا گیا ہے۔
- ہم دین کا علم سیکھنے اور اس کی سمجھ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
- جو علم حاصل کریں اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی سکھائیں۔
۳۵۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ وَإِنَّ اللهَ لَيُبْغِضُ
- قیامت کے دن اعمال تولے جائیں گے اور مومن کے میزان میں سب سے بھاری چیز اچھا اخلاق ہو گا۔
- اپنی گفتگو اور برتاؤ میں نرمی، خوش اخلاقی اور شائستگی اپنائیں۔
- گالی گلوچ، بد زبانی اور بے حیائی سے مکمل پرہیز کریں۔
۳۶۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ
- اس حدیث مبارکہ میں مسلمان بھائی کی مدد کرنے کے تین کام اور ان کے انعام بیان ہوئے ہیں: تکلیف دور کرنا، تنگ دست کے لیے آسانی کرنا اور پردہ پوشی کرنا۔
- ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی پریشانیاں دور کرنے، تنگ دست کو مہلت یا آسانی دینے میں آگے بڑھیں۔
- کسی کا عیب دیکھ کر اسے پھیلانے کے بجائے اس کی پردہ پوشی کریں۔
۳۷۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ
- قیامت کے دن ہر انسان سے پانچ چیزوں کا حساب لیا جائے گا: عمر، جوانی، مال کمانے کا ذریعہ، مال خرچ کرنے کا مصرف اور علم پر عمل۔
- ہم اپنی عمر اور جوانی نیک کاموں میں گزاریں اور وقت ضائع نہ کریں۔
- حلال کمائیں، جائز جگہوں پر خرچ کریں اور جو علم حاصل کریں اس پر عمل کریں۔
۳۸۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ
- اس حدیث مبارکہ میں سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچنے کا حکم ہے: شرک، جادو، ناحق قتل، سود، یتیم کا مال کھانا، میدانِ جہاد سے پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
- ہم عقیدے کی خرابی (شرک اور جادو) سے بچیں اور معاملات میں سود، یتیم کا مال کھانے اور ناحق خون سے بچیں۔
- کسی پاک دامن پر الزام اور تہمت لگانے سے ہمیشہ پرہیز کریں اور دینی فرض کے وقت ثابت قدم رہیں۔
۳۹۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ
- برائی کو روکنے کے تین درجے ہیں: ہاتھ (قوت) سے، زبان (وعظ و نصیحت) سے اور دل سے برا جاننا۔
- اگر ہم برائی ہوتی دیکھیں تو اپنی استطاعت کے مطابق اسے روکنے کی کوشش کریں؛ کم از کم نرمی سے سمجھائیں۔
- ہر حال میں برائی کو دل سے برا جانیں اور اس میں شریک نہ ہوں۔
۴۰۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ
- صحت اور فراغت اللہ تعالیٰ کی دو بڑی نعمتیں ہیں جن کی اکثر لوگ قدر نہیں کرتے۔
- ہم صحت کی حفاظت کریں اور اسے نیکی اور علم حاصل کرنے میں لگائیں۔
- خالی وقت کو کھیل کود اور فضول کاموں میں ضائع نہ کریں بلکہ مفید کاموں میں استعمال کریں۔
۴۱۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ
- حلال اور حرام واضح ہیں اور ان کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کا حکم بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا۔
- ہم مشکوک کمائی، کھانے پینے اور معاملات سے بچیں تاکہ حرام سے دور رہیں۔
- جس چیز کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہو اس کے بارے میں علم رکھنے والوں سے پوچھیں اور احتیاط کریں۔
۴۲۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ
- اس حدیث مبارکہ میں مردوں کا عورتوں کی مشابہت اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا ناپسندیدہ اور قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے۔
- ہم اپنے چال چلن، لباس اور انداز میں اپنی فطری شناخت کا خیال رکھیں۔
- دوسروں کی غلط نقالی سے بچیں اور اسلامی شناخت پر قائم رہیں۔
۴۳۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَلْعَنُ
- والدین کو برا بھلا کہنا یا ان پر لعنت بھیجنا سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے۔
- ہم والدین کا ادب کریں اور کبھی انھیں برا بھلا نہ کہیں۔
- کسی کے والدین یا بڑوں کو گالی نہ دیں تاکہ جواب میں اپنے والدین کی توہین کا سبب نہ بنیں۔
۴۴۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ
- مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- ہم کسی پر ظلم نہ کریں، نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے اور نہ کسی کا حق مار کر۔
- اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہو گئی ہو تو اس سے معافی مانگیں اور اس کا حق لوٹا دیں۔
۴۵۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
يُوشِكُ الرَّجُلُ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِي فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ
- اس حدیث مبارکہ میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو آرام سے بیٹھ کر کہیں گے کہ ہمیں صرف قرآن مجید کافی ہے اور حدیث مبارکہ کی ضرورت نہیں۔
- ہم قرآن مجید کے ساتھ ساتھ حدیث مبارکہ کو بھی دین کا ماخذ مانیں اور دونوں پر عمل کریں۔
- حدیث مبارکہ کا انکار یا اس کی اہمیت کم کرنے سے بچیں؛ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے ہر حکم پر عمل کریں (الحشر ۷)۔
۴۶۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ
- جس بات یا کام میں شک ہو اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرنا چاہیے جس میں شک نہ ہو۔
- ہم مشتبہ باتوں اور کاموں سے بچیں اور احتیاط کا راستہ اپنائیں۔
- ہمیشہ سچ بولیں تاکہ دل کو سکون ملے اور جھوٹ سے بچیں۔
۴۷۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
- ایمان کی تکمیل کے لیے نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے محبت سب سے بڑھ کر ہونا ضروری ہے۔
- ہم نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی سنت پر عمل کر کے اپنی محبت کا ثبوت دیں۔
- جب کسی رشتے یا خواہش اور رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے حکم میں ٹکراؤ ہو تو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے حکم کو ترجیح دیں۔
۴۸۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ
- اس حدیث مبارکہ میں تین افضل اعمال بیان ہوئے: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا، والدین سے حسنِ سلوک اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد۔
- ہم نمازیں پابندی سے ان کے وقت پر ادا کریں۔
- والدین کی خدمت اور فرماں برداری کریں اور دین کی سربلندی کے لیے کوشش کرتے رہیں۔
۴۹۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين
- اس حدیث مبارکہ میں قرآن مجید کو عزت و ترقی اور ذلت و پستی کا معیار بتایا گیا ہے۔
- ہم قرآن مجید کو پڑھیں، سمجھیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔
- قرآن مجید سے جڑ کر انفرادی اور قومی ترقی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
۵۰۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
ما أمرتكم به فخذوه وما نهيتكم عنه فانتهوا
- اس حدیث مبارکہ میں نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے ہر حکم کو ماننے اور ہر ممانعت سے رک جانے کی تعلیم ہے۔
- ہم رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی سنت اور احکام کی پیروی کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں۔
- جن کاموں سے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے منع فرمایا ان سے مکمل طور پر رک جائیں۔
ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)
لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔
۱۔ احادیثِ نبویہ میں کن اخلاقی اوصاف کی تعلیم دی گئی ہے؟ وضاحت کریں۔
حسنِ اخلاق
- ایمان کے لحاظ سے کامل ترین وہ ہیں جن کا اخلاق اچھا ہو (مسند احمد ۵۱۹۳)۔
- اخلاقِ حسنہ قیامت کے دن میزان میں سب سے بھاری ہوں گے (سنن ترمذی ۲۰۰۲)۔
رحم، احترام اور صلہ رحمی
- چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کا احترام (سنن ابی داود ۴۹۴۳)۔
- رشتہ داروں سے اچھے تعلقات؛ رزق اور عمر میں برکت (صحیح مسلم ۲۵۵۷)۔
حیا اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک
- حیا خیر ہی لاتی ہے (صحیح مسلم ۳۷)۔
- ماتحت بھائی ہیں؛ جو خود کھاؤ وہی کھلاؤ (صحیح بخاری ۲۵۴۵)۔
دیانت اور خیر خواہی
- مشورہ امانت ہے؛ غلط مشورہ خیانت (سنن ابی داود ۳۶۵۷)۔
- مسلمان بھائی کی تکلیف دور کرنا، آسانی دینا اور پردہ پوشی (صحیح مسلم ۲۶۹۹)۔
۲۔ چھوٹوں اور بڑوں کے حقوق و احترام کے بارے میں نبوی تعلیمات بیان کریں۔
حدیث مبارکہ
- جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں (سنن ابی داود ۴۹۴۳)۔
چھوٹوں کے حقوق
- رحم کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم رحمۃ للعالمین ہیں۔
- بچوں سے نرمی اور شفقت سے پیش آنا اور غلطی پر عفو و درگزر۔
بڑوں کے حقوق
- بڑے عمر، عہدے اور علم کے لحاظ سے ہوتے ہیں: والدین، رشتہ دار، بہن بھائی، اساتذہ۔
- ان کی تعظیم، نصیحت سننا اور خدمت کرنا ان کے حق میں شامل ہے۔
نتیجہ
- جو معاشرہ چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام کرتا ہے وہ فلاحی معاشرہ بنتا ہے۔
۳۔ رزقِ حلال کی طلب و حصول کے بارے میں رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے کیا تعلیمات دی ہیں؟ مفصل لکھیں۔
حدیث مبارکہ
- لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے روزی طلب کرو؛ کوئی انسان اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرے گا؛ حلال لے لو اور حرام چھوڑ دو (سنن ابن ماجہ ۲۱۴۴)۔
چار نکات
- تقویٰ: پرہیز گاری اور خشیتِ الٰہی۔
- روزی کی طلب میں اعتدال۔
- رازق اللہ تعالیٰ ہے؛ رزق کی تقسیم اس کے پاس ہے (سبا ۳۹)۔
- حلال لینا اور حرام چھوڑنا (البقرہ ۱۶۸)۔
دعا
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے پاکیزہ روزی کی دعا سکھائی (سنن ابن ماجہ ۹۲۵)۔
عملی سبق
- حلال ذرائع سے کمائیں؛ رشوت، دھوکے اور ناجائز طریقوں سے بچیں۔
- لالچ نہ کریں اور یقین رکھیں کہ جو رزق لکھا ہے وہ ضرور ملے گا۔
۴۔ صلہ رحمی کے بارے میں نبوی تعلیمات بیان کریں۔
مفہوم
- صلہ رحمی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم رکھنا ہے۔
- اس کی ضد قطع رحمی یعنی رشتے توڑ دینا ہے۔
حدیث مبارکہ
- جو رزق میں فراخی اور عمر میں درازی چاہے وہ صلہ رحمی کرے (صحیح مسلم ۲۵۵۷)۔
اہمیت
- جنت میں داخل کرنے والے اعمال میں صلہ رحمی شامل ہے (صحیح بخاری ۵۹۸۳)۔
- قطع رحمی کرنے والا جنت سے محروم رہے گا۔
عملی سبق
- رشتہ داروں سے ملتے رہیں اور دکھ سکھ میں شریک ہوں۔
- رشتہ دار برا سلوک کریں تب بھی رشتہ نہ توڑیں۔
۵۔ گناہِ کبیرہ میں کون کون سے گناہ شامل ہیں؟ ان سے کیسے بچا جائے؟ بیان کریں۔
کبائر کا مفہوم
- کبائر، کبیرہ کی جمع ہے یعنی بڑے گناہ جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہیں (النساء ۳۱)۔
حدیث مبارکہ (جماعت نہم)
- شرک، والدین کی نافرمانی، ناحق قتل اور جھوٹی گواہی (صحیح مسلم ۸۸)۔
حدیث مبارکہ (جماعت دہم)
- سات ہلاک کرنے والی باتیں: شرک، جادو، ناحق قتل، سود، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت (صحیح بخاری ۲۷۶۶)۔
بچاؤ کے طریقے
- شرک نہ کریں، والدین کے فرماں بردار رہیں، کسی کی جان نہ لیں۔
- ہمیشہ سچی گواہی دیں اور معاملات میں سود اور یتیم کا مال کھانے سے بچیں۔
۶۔ احادیثِ نبویہ میں دی گئی تعلیمات میں سے کن پر ایک طالب علم عمل کر سکتا ہے؟ روز مرہ زندگی سے مثالیں دیں۔
احادیث اور عمل
- نماز اپنے وقت پر پڑھنا اور والدین کی خدمت کرنا (صحیح بخاری ۵۲۷)۔
- بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت (سنن ابی داود ۴۹۴۳)۔
معاشرتی مثالیں
- ہم جماعت یا پڑوسی کی مشکل میں مدد کرنا اور پردہ پوشی کرنا (صحیح مسلم ۲۶۹۹)۔
- سچ بولنا اور مشکوک چیزوں سے بچنا (سنن ترمذی ۲۵۱۸)۔
نوٹ
- یہ سوال ذاتی عمل پر ہے؛ اوپر کی مثالیں احادیث سے لی گئی ہیں، طالب علم اپنی عملی مثالیں اپنے الفاظ میں لکھے۔
۷۔ حدیث مبارکہ “مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا” کی روشنی میں برائی کو روکنے کے طریقے بیان کریں۔
ترجمہ
- جو تم میں سے برائی دیکھے اسے ہاتھ سے بدل دے، نہ ہو سکے تو زبان سے، نہ ہو سکے تو دل سے برا جانے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے (صحیح مسلم ۴۹)۔
درجے
- ہاتھ (قوت) سے؛ زبان (وعظ و نصیحت) سے؛ دل سے برا سمجھنا۔
- ہر شخص پر اپنی طاقت اور اختیار کے مطابق برائی کو بدلنا لازم ہے۔
عملی اطلاق
- برائی دیکھیں تو استطاعت کے مطابق روکیں، کم از کم نرمی سے سمجھائیں۔
- ہر حال میں برائی کو دل سے برا جانیں اور اس میں شریک نہ ہوں۔
۸۔ قیامت کے دن پانچ سوالوں والی حدیث مبارکہ کی وضاحت کریں اور اس کا عملی سبق لکھیں۔
حدیث مبارکہ
- آدمی کے قدم رب کے پاس سے نہیں ہٹیں گے جب تک پانچ چیزوں کے بارے میں نہ پوچھا جائے (سنن ترمذی ۲۴۱۶)۔
پانچ سوال
- عمر کہاں صرف کی؛ جوانی کہاں کھپائی۔
- مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔
- علم پر کہاں تک عمل کیا۔
نتیجہ
- آخرت میں جواب دہی کا یقین پیدا ہوتا ہے۔
عملی سبق
- عمر اور جوانی نیک کاموں میں گزاریں اور وقت ضائع نہ کریں۔
- حلال کمائیں، جائز جگہوں پر خرچ کریں اور علم پر عمل کریں۔
۹۔ مسلمان کی جان، مال اور عزت کی حرمت پر نوٹ لکھیں۔
حدیث مبارکہ
- ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے (صحیح مسلم ۲۵۶۴)۔
جان کی حرمت
- جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے کی سزا جہنم ہے (النساء ۹۳)۔
مال کی حرمت
- چوری، ڈکیتی، غصب اور ناجائز ذرائع حرام ہیں؛ کسی کی چیز مذاق میں بھی نہ لی جائے (سنن ابی داود ۵۰۰۳)۔
عزت کی حرمت
- مذاق اڑانا، گالی، بہتان، چغلی اور غیبت سے بچنے کا حکم ہے۔
عملی سبق
- ہر مسلمان کی جان، مال اور عزت کو اپنی جان، مال اور عزت کی طرح قابلِ احترام سمجھیں۔
فرہنگ
- حدیث مبارکہ
- نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اقوال، اعمال اور احوال۔
- سنت
- رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا طریقۂ زندگی۔
- تواتر
- بے شمار لوگوں کے ذریعے نقل ہونا۔
- مصحف
- قرآن مجید کا مکتوب نسخہ۔
- مصحفِ امّ
- حضرت زید بن ثابت کا مرتب کردہ پہلا نسخہ۔
- کاتبینِ وحی
- وحی لکھنے والے صحابہ۔
- حفاظ
- قرآن مجید زبانی یاد رکھنے والے۔
- تحریف
- متن میں ایسی تبدیلی جس سے معنی بدل جائیں۔
- اعجاز
- ایسا کلام جس کی مثال لانے سے مخلوق عاجز ہو۔
- عالمگیریت
- پوری انسانیت اور تمام جہانوں کے لیے ہونا۔
- ابدی
- ہمیشہ رہنے والی۔
- جامع
- زندگی کے تمام شعبوں کو شامل۔
- مکی
- ہجرتِ مدینہ منورہ سے پہلے نازل ہونے والی۔
- مدنی
- ہجرتِ مدینہ منورہ کے بعد نازل ہونے والی۔
- حروفِ مقطعات
- سورتوں کے شروع میں آنے والے الگ الگ حروف۔
- حجت
- دلیل جس پر عمل لازم ہو۔
- اسماء الرجال
- راویوں کے حالات کا علم۔
- صحاحِ ستہ
- حدیث مبارکہ کی چھ معتبر کتابیں۔
- فتویٰ
- شرعی مسئلے کا جواب۔
- صلہ رحمی
- رشتہ داروں سے اچھا سلوک۔
- عقوق
- والدین کی نافرمانی۔
- مشتبہ
- جس کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہو۔
Chapter 1 is free
You are reading a free chapter. The other chapters of this subject are Premium. Rs 3000 now, Rs 4000 from 15 Dec.