BackParhayi.com
Home

Islamiyat Class 9 Chapter 1: قرآن مجید اور حدیثِ نبوی

Free chapter

Practice this chapterTake a testIslamiyat page

This is the free study page for Islamiyat Class 9, Chapter 1: قرآن مجید اور حدیثِ نبوی. It follows the Federal Board (FBISE) SSC-I syllabus and takes about 45 minutes to read. After reading, tap Practice this chapter to answer questions with the answers shown at once.

یہ نوٹس کیسے پڑھیں؟ (فریم ورک کے مطابق نقشہ)

یہ ایک ہی پرچہ (جماعت نہم کا اسلامیات پرچہ) ہے جس میں جماعت نہم اور جماعت دہم دونوں کتابوں کا مواد آتا ہے۔ دائرہ ۱ (قرآن مجید اور حدیثِ نبوی) سے معروضی، مختصر اور تفصیلی سوالات کے ساتھ حصہ ۴ کا سوال ۶ بھی آتا ہے جس میں دو احادیث مبارکہ ہوتی ہیں اور ہر حدیث مبارکہ کے ۲+۳+۲ نمبر ہوتے ہیں (ترجمہ، مفہوم، اطلاق)۔

موضوعکتاب میںنوٹس کا حصہ
تعارفِ قرآن مجید: معنی، نام، موضوعجماعت نہم ص۷؛ جماعت دہم ص۹-۱۲۱
فضائل، خصوصیات، عالمگیریتجماعت نہم ص۷-۸، ۱۱؛ جماعت دہم ص۷-۹۲
اعجاز اور تحریف سے حفاظتجماعت نہم ص۸-۹؛ جماعت دہم ص۷-۸۳
جمع و تدوینِ قرآن مجیدجماعت نہم ص۹-۱۱۴
مکی اور مدنی سورتیںجماعت دہم ص۱۰-۱۲۵
حدیث مبارکہ: تعریف اور اقسامجماعت نہم ص۱۳؛ جماعت دہم ص۱۴۶
حجیت، حفاظت اور جمع و تدوینِ حدیث مبارکہجماعت نہم ص۱۳-۱۴؛ جماعت دہم ص۱۴-۱۷۷
احادیثِ مبارکہ (۲۵ + ماڈل پیپر کی ۲)جماعت نہم ص۱۴-۲۳؛ جماعت دہم ص۱۸-۲۱۸

فریم ورک کی بات

  • ماڈل پیپر کا مختصر سوال: قرآن مجید کی عالمگیریت سے کیا مراد ہے؟ (۳ نکات)۔ حصہ ۴ کے سوال ۶ میں ماڈل پیپر کی احادیث: «مَنْ أُفْتِيَ…» یا «الْحَيَاءُ…»؛ اور «إن الله يرفع بهذا الكتاب…» یا «ما أمرتكم به…»۔ یہ دو آخری احادیث کتاب کی فہرست میں نہیں ہیں، اس لیے ان کا حوالہ نہیں لکھا گیا۔

اس یونٹ میں شامل نہیں

  • ترجمۂ قرآن مجید (جماعت نہم اور جماعت دہم کا پہلا سبق) الگ پرچے کا حصہ ہے۔ اسمائے حسنیٰ الگ یونٹ میں ہیں۔

فوری دہرائی

  • آٹھ حصے: تعارف، فضائل، اعجاز و حفاظت، جمع و تدوین، مکی مدنی، حدیث مبارکہ کی تعریف، حدیث مبارکہ کی حجیت و تدوین، احادیث۔
  • ہر حصے کے آخر میں مختصر اور تفصیلی سوالات جوابات سمیت دیے گئے ہیں۔

۱۔ تعارفِ قرآن مجید: معنی، نام اور موضوع

حاصلاتِ تعلم

  • قرآن مجید کا لغوی و اصطلاحی معنی بتا سکیں۔
  • ذاتی اور صفاتی ناموں میں فرق کر سکیں۔

معنی

قرآن مجید کے نام

ذاتی نام وہ ہے جو مستقل طور پر اسمِ علم کی حیثیت سے بیان ہو؛ صفاتی نام میں صفت اور خوبی ذکر ہوتی ہے۔

ذاتی نام (۵)معنی
القرآنبار بار پڑھی جانے والی
الفرقانحق و باطل میں فرق کرنے والی
الکتابتحریر شدہ
الذکرنصیحت کرنے والی
التنزیلنازل کی گئی
صفاتی ناممعنیحوالہ
المبارکبرکت والیالانعام ۹۲
الحکیمحکمت والییٰسٓ ۲
المبینکھلی ہوئییوسف ۱
عربیاًعربی زبان میںیوسف ۲
شفاءشفا دینے والیبنی اسرائیل ۸۲
بیانہدایت کی راہ کو واضح کرناآل عمران ۱۳۸
الکریمعزت والا، محترم، شرف والاالواقعہ ۷۷

هَٰذَا بَيَانٞ لِّلنَّاسِ وَهُدٗى وَمَوۡعِظَةٞ لِّلۡمُتَّقِينَ
ترجمہ: یہ لوگوں کے لیے واضح بیان ہے اور پرہیز گاروں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔

سورۃ آل عمران، آیت ۱۳۸

جماعت دہم ص۹ میں مزید صفاتی نام بھی درج ہیں: احسن الحدیث (بہترین کلام)، برہان (مضبوط اور روشن دلیل)، بلاغ (پیغام اور اعلان)، تبیان وغیرہ۔

وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدًا عَلَيۡهِم مِّنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَجِئۡنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِۚ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ تِبۡيَٰنٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُسۡلِمِينَ
ترجمہ: اور ہم نے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور خوش خبری ہے مسلمانوں کے لیے۔

سورۃ النحل، آیت ۸۹

موضوع

قرآن مجید کا بنیادی موضوع انسان ہے۔ آغاز ہی میں تین قسم کے انسان بیان ہوئے: (۱) جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں؛ (۲) جو ضد، ہٹ دھرمی، تعصب، تکبر یا حسد کی وجہ سے کفر پر اڑ گئے؛ (۳) منافقین، جن کے دلوں میں روگ ہے۔

ذاتی نام یاد کرنے کا طریقہ

پانچ ذاتی نام: ق ف ک ذ ت

  • ق - القرآن
  • ف - الفرقان
  • ک - الکتاب
  • ذ - الذکر
  • ت - التنزیل

فوری دہرائی

  • قرآن مجید = پڑھنا اور جمع کرنا؛ عربی میں نازل؛ موضوع انسان۔
  • ذاتی نام ۵: القرآن، الفرقان، الکتاب، الذکر، التنزیل۔
  • انسانوں کی تین قسمیں: مستفید، کافر، منافق۔

ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)

ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔

۱۔ لفظ قرآن مجید کا مادہ اور لغوی معنی بیان کریں۔

۲۔ قرآن مجید کی اصطلاحی تعریف تین نکات میں لکھیں۔

۳۔ قرآن مجید کے پانچ ذاتی نام لکھیں۔

۴۔ ذاتی نام اور صفاتی نام میں کیا فرق ہے؟

۵۔ قرآن مجید کے کوئی تین صفاتی نام مع حوالہ لکھیں۔

۶۔ قرآن مجید کے کوئی پانچ اسماء تحریر کریں۔

۷۔ قرآن مجید کا بنیادی موضوع کیا ہے؟ اور آغاز میں کتنی قسم کے انسانوں کا ذکر ہے؟

۸۔ منافقین کی کیا پہچان قرآن مجید کے آغاز میں بیان ہوئی ہے؟

۹۔ قرآن مجید کے پانچ صفاتی ناموں میں سے ہر ایک کا مطلب لکھیں۔

۱۰۔ “احسن الحدیث”، “برہان” اور “بلاغ” کا مطلب لکھیں۔

۱۱۔ “بیان” اور “الکریم” کے مفہوم آیات کے حوالے سے لکھیں۔

ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)

لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

۱۔ قرآن مجید کا تعارف لکھیں: لغوی و اصطلاحی معنی، ذاتی اور صفاتی نام۔

لغوی معنی

اصطلاحی معنی

ذاتی نام

صفاتی نام

۲۔ اسماء القرآن کو قرآنی آیات کے حوالے سے بیان کریں۔

ذاتی نام

صفاتی نام آیات کے ساتھ

دیگر صفاتی نام

۲۔ فضائل، خصوصیات اور عالمگیریت

حاصلاتِ تعلم

  • فضائل، عالمگیریت، ابدیت، جامعیت اور کاملیت بیان کر سکیں۔

قرآن مجید کی نو خصوصیات (جماعت دہم)

خصوصیتمطلبآیت
کلامِ الٰہیاللہ تعالیٰ کا کلام ہےالتوبہ ۶
محفوظ کلاماللہ تعالیٰ نے حفاظت کی ذمہ داری لیالحجر ۹
معجزاتی کلامزبان، نظم، فصاحت اور اثر انگیزی سب معجزہالبقرہ ۲۳
کامل ہدایتتمام انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہالبقرہ ۱۸۵
عالمگیر کتابتمام جہانوں کے لیے نصیحتالقلم ۵۲
تضاد سے پاکشک اور اختلاف سے پاکالنساء ۸۲
پُرتاثیرسننے والے کے دل پر اثر کرتا ہےیونس ۵۷
ابدی کتابہمیشہ رہنے والی، آخری کتاب—
جامع کتابزندگی کے تمام شعبوں کی رہنمائیالمائدہ ۳

وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
ترجمہ: حالاں کہ وہ (قرآن مجید) تو تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔

سورۃ القلم، آیت ۵۲

تَبَارَكَ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَٰلَمِينَ نَذِيرًا
ترجمہ: بہت ہی بابرکت ہے وہ (اللہ تعالیٰ) جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن مجید) نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے ڈرانے والے ہو جائیں۔

سورۃ الفرقان، آیت ۱

وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ
ترجمہ: اور ہم نے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

سورۃ الانبیاء، آیت ۱۰۷

أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ
ترجمہ: میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔

سورۃ المائدہ، آیت ۳ (جامعیت)

عالمگیریت

عظمت و فضیلت

دو احادیث مبارکہ (جماعت نہم ص۷-۸)

  • «تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے» (صحیح بخاری ۵۰۲۷)۔
  • «قرآن مجید پڑھا کرو، وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا» (صحیح مسلم ۸۰۴)۔

خصوصیات یاد رکھنے کا طریقہ

نو خصوصیات: کلام، محفوظ، معجزہ، ہدایت، عالمگیر، تضاد، تاثیر، ابدی، جامع

  • ۱ - کلامِ الٰہی
  • ۲ - محفوظ
  • ۳ - معجزاتی
  • ۴ - کامل ہدایت
  • ۵ - عالمگیر
  • ۶ - تضاد سے پاک
  • ۷ - پُرتاثیر
  • ۸ - ابدی
  • ۹ - جامع

فوری دہرائی

  • عالمگیریت = تمام انسانیت اور تمام جہانوں کے لیے، رہتی دنیا تک (القلم ۵۲)۔
  • ابدی = ہمیشہ رہنے والی آخری کتاب؛ جامع = زندگی کے تمام شعبے۔

ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)

ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔

۱۔ قرآن مجید کی عالمگیریت سے کیا مراد ہے؟

۲۔ قرآن مجید کو عالمگیر کتاب کیوں کہا جاتا ہے؟ تین وجوہات لکھیں۔

۳۔ عالمگیریت کی تائید میں قرآن مجید کی دو آیات کا حوالہ دیں۔

۴۔ قرآن مجید کی فضیلت میں دو احادیث لکھیں۔

۵۔ قرآن مجید کی تین فضیلتیں بیان کریں۔

۶۔ قرآن مجید کے کوئی تین فضائل و خصوصیات (جماعت دہم کے مطابق) لکھیں۔

۷۔ قرآن مجید کے تضاد سے پاک ہونے پر دلیل دیں۔

۸۔ قرآن مجید کے ابدی ہونے کا مطلب لکھیں۔

۹۔ قرآن مجید کو جامع کتاب کیوں کہا گیا ہے؟

۱۰۔ قرآن مجید کے پرتاثیر ہونے پر نوٹ لکھیں۔

۱۱۔ قرآن مجید کے رمضان المبارک میں نازل ہونے اور ہدایت ہونے کی آیت لکھیں۔

ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)

لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

۱۔ قرآن مجید کے فضائل اور خصوصیات بیان کریں۔

کلامِ الٰہی اور محفوظ کتاب

معجزاتی اور کامل ہدایت

عالمگیر اور ابدی

تضاد سے پاک، پرتاثیر اور جامع

۲۔ قرآن مجید کی عالمگیریت پر نوٹ لکھیں۔

مفہوم

قرآنی دلائل

پہلی کتابوں سے فرق

عملی پہلو

۳۔ قرآن مجید کی عظمت و فضیلت بیان کریں۔

قرآن مجید اور اس کے ماننے والے

احادیث میں فضیلت

خصوصیات

۳۔ اعجازِ قرآن مجید اور تحریف سے حفاظت

حاصلاتِ تعلم

  • اعجاز اور حفاظت کے بارے میں جان کر ایمان پختہ کر سکیں۔

اعجاز

قُل لَّئِنِ ٱجۡتَمَعَتِ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِمِثۡلِ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لَا يَأۡتُونَ بِمِثۡلِهِۦ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٖ ظَهِيرٗا
ترجمہ: آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم فرما دیجیے اگر تمام انسان اور جنات جمع ہو جائیں اس بات پر کہ وہ اس قرآن مجید جیسا بنا لائیں تو وہ اس جیسا نہیں لا سکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔

سورۃ بنی اسرائیل، آیت ۸۸

وَإِن كُنتُمۡ فِي رَيۡبٖ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا فَأۡتُواْ بِسُورَةٖ مِّن مِّثۡلِهِۦ وَٱدۡعُواْ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
ترجمہ: اور اگر تم شک میں ہو اس (کلام) کے بارے میں جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس طرح کی ایک سورت لے آؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔

سورۃ البقرہ، آیت ۲۳

تحریف سے حفاظت

تحریف: متن میں ایسی تبدیلی جس سے معنی و مفہوم بدل جائیں۔

إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ
ترجمہ: بے شک ہم ہی نے (اس) ذکر (قرآن مجید) کو نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی ضرور حفاظت فرمانے والے ہیں۔

سورۃ الحجر، آیت ۹

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَيۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخۡتِلَٰفٗا كَثِيرٗا
ترجمہ: تو کیا وہ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے؟ اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت اختلاف پاتے۔

سورۃ النساء، آیت ۸۲ (تضاد سے پاک)

فوری دہرائی

  • اعجاز: چیلنج بنی اسرائیل ۸۸ اور البقرہ ۲۳۔
  • حفاظت: الحجر ۹، ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی۔

ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)

ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔

۱۔ قرآن مجید کے معجزاتی کتاب ہونے پر ایک آیت کا حوالہ دیں۔

۲۔ اعجازِ قرآن مجید کے تین پہلو لکھیں۔

۳۔ قرآن مجید کو تحریف سے پاک کیوں کہا جاتا ہے؟ تین نکات لکھیں۔

۴۔ تحریف کیا ہے؟ اور قرآن مجید کی حفاظت پر کون سی آیت دلیل ہے؟

۵۔ قرآن مجید کی حفاظت کے طریقے لکھیں۔

ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)

لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

۱۔ قرآن مجید کے اعجاز اور تحریف سے محفوظ ہونے پر تفصیل سے لکھیں۔

اعجاز

تحریف کا مفہوم

قرآن مجید کی حفاظت

۴۔ جمع و تدوینِ قرآن مجید

حاصلاتِ تعلم

  • عہدِ رسالت اور عہدِ صحابہ میں جمع و تدوین کے مراحل بیان کر سکیں۔

جمع کے دو معنی: (۱) حفاظت کرنا اور سینے میں جگہ دینا؛ (۲) لکھنا۔

إِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهُۥ وَقُرۡءَانَهُۥ
ترجمہ: بے شک (آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے سینے میں) اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔

سورۃ القیامہ، آیت ۱۷

پہلا مرحلہ: عہدِ رسالت

بَلۡ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ فِي صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّـٰلِمُونَ
ترجمہ: بل کہ یہ تو واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں (محفوظ) جنھیں علم عطا کیا گیا ہے۔

سورۃ العنکبوت، آیت ۴۹

دوسرا مرحلہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عہد

حضرت زید رضی اللہ عنہ کے چار طریقے
۱۔ اپنی یادداشت سے نسخوں کی توثیق
۲۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اپنے حافظے سے توثیق کرتے
۳۔ دو قابلِ اعتماد گواہ کہ آیت نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے سامنے لکھی گئی
۴۔ صحابہ کے تیار کردہ مجموعوں سے موازنہ

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے قرآن مجید کو کتابی صورت میں جمع کیا۔

تیسرا مرحلہ: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا عہد

مصحفِ امّ

  • حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا مرتب کردہ پہلا نسخہ۔
مرحلہشخصیتکام
پہلانبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا عہدحفظ اور کتابت، مختلف اشیاء پر
دوسراحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہایک مصحف میں جمع (زید بن ثابت)
تیسراحضرت عثمان رضی اللہ عنہقریش کی لغت پر سات نسخے

کتاب کی ایک بات

  • جماعت نہم ص۱۰ میں نزولِ قرآن مجید کی مدت “تیس سال” لکھی ہے جبکہ جماعت دہم ص۱۰ میں تقریباً ۲۳ سال ہے۔ امتحان میں دونوں کتابوں کے الفاظ کے مطابق لکھیں اور سوال کے حوالے کو دیکھیں۔

فوری دہرائی

  • تین مرحلے: عہدِ رسالت، عہدِ ابوبکر، عہدِ عثمان۔
  • ابوبکر: زید بن ثابت، ایک سال، چار طریقے؛ عثمان: قریش کی لغت، سات نسخے، جامع القرآن۔

ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)

ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔

۱۔ جمعِ قرآن مجید کے دو معنی لکھیں۔

۲۔ عہدِ رسالت میں قرآن مجید کی حفاظت کن دو طریقوں سے ہوئی؟

۳۔ عہدِ رسالت میں کن چیزوں پر قرآن مجید لکھا جاتا تھا؟

۴۔ عہدِ رسالت کے پانچ حافظ صحابہ کرام کے نام لکھیں۔

۵۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کو یک جا کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟

۶۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں قرآن مجید جمع کرنے کی ذمہ داری کس کو دی گئی؟ اس نے کیا کیا؟

۷۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ جمعِ قرآن مجید میں کون سے چار طریقے اپناتے تھے؟

۸۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں جمعِ قرآن مجید کی بابت کیا فرمایا؟

۹۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن کیوں کہتے ہیں؟

۱۰۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن مجید کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

۱۱۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کمیٹی کے ارکان کے نام لکھیں۔

۱۲۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن مجید کے اقدامات لکھیں۔

۱۳۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے تیار کردہ سات نسخے کہاں کہاں بھیجے گئے؟

۱۴۔ مصحفِ امّ کیا ہے؟

۱۵۔ قرآن مجید کی جمع و تدوین کے تین مراحل بتائیں۔

ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)

لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

۱۔ عہدِ رسالت میں قرآن مجید کی جمع و تدوین کے اقدامات بیان کریں۔

جمع کے معنی

بذریعہ حفظ

بذریعہ کتابت

۲۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن مجید کا طریقۂ کار بیان کریں۔

پس منظر

تقرر

طریقۂ کار

نتیجہ

۳۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن مجید کے اقدامات کا جائزہ لیں۔

پس منظر

فیصلہ

کمیٹی

اقدامات

نتیجہ

۴۔ قرآن مجید کی جمع و تدوین کے تینوں مراحل کا تقابل کریں۔

عہدِ رسالت

عہدِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

عہدِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ

۵۔ مکی اور مدنی سورتیں

حاصلاتِ تعلم

  • مکی و مدنی سورتوں کی تعریف اور خصوصیات بیان کر سکیں۔
مکی سورتوں کی خصوصیات (۹)مثال
بنیادی عقائد کی تعلیمالاخلاص (توحید)، القارعہ (آخرت)
کفار و مشرکین کا رددلائل اور دردناک عذاب سے ڈرانا
اخلاق و آداب کی تعلیمبنی اسرائیل
مختصر اور جامع آیاتالعصر، الکوثر، التکاثر
حروفِ مقطعات اور سجدےاکثر مکی سورتوں میں
پوری انسانیت سے خطابيَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ
پیش گوئیاں اور قسمیںاہلِ روم کی فتح؛ وَٱلۡعَصۡرِ، ٱلۡفَجۡرِۖ، ٱلۡأٓيَٰتِۖ إِن
لفظ “کلا”اہم بات پر تنبیہ یا تردید
رعب دار اور پُرجلال آہنگالمزمل
مدنی سورتوں کی خصوصیات (۹)مثال
عبادات کی تعلیمنماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، جہاد
اہلِ ایمان کو خطابيَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ
بڑی اور طویل آیاتکتاب نے الانعام، الاعراف لکھی ہیں
اہلِ کتاب و منافقین کی خصلتیںالبقرہ، آل عمران
معاشرتی، معاشی، سیاسی تعلیماتالنساء، المائدہ
آیاتِ احکامزکوٰۃ، وضو، وراثت؛ تقریباً ۵۰۰
غزوات کا بیانالانفال، التوبہ
قوانین کی تنفیذحدود، قصاص
جہاد میں صبر و ثابت قدمیآل عمران، الانفال

کتاب کی دو باتیں

  • کتاب (جماعت دہم ص۱۱) میں طویل مدنی آیات کی مثال الانعام اور الاعراف لکھی ہے؛ اور مکی خصوصیت میں البقرہ کا حوالہ بھی چھپا ہے۔ نوٹس میں کتاب کے مطابق لکھا ہے؛ امتحان میں کتاب کے الفاظ استعمال کریں۔

فوری دہرائی

  • مکی = ہجرت سے پہلے؛ مدنی = ہجرت کے بعد۔
  • مکی: عقائد، مختصر آیات؛ مدنی: احکام، غزوات، حدود۔

ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)

ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔

۱۔ مکی اور مدنی سورتوں میں کیا فرق ہے؟

۲۔ مکی سورتوں کی کوئی تین خصوصیات لکھیں۔

۳۔ مکی سورتوں کی تین مزید خصوصیات لکھیں۔

۴۔ “کلا” کا لفظ کس بات کی نشاندہی کرتا ہے؟

۵۔ مدنی سورتوں کی کوئی تین خصوصیات لکھیں۔

۶۔ مدنی سورتوں کی تین مزید خصوصیات لکھیں۔

۷۔ آیاتِ احکام سے کیا مراد ہے؟

۸۔ حروفِ مقطعات سے کیا مراد ہے؟

۹۔ مدنی سورتوں میں غزوات اور قوانین کی تنفیذ کا ذکر کیوں ہے؟

ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)

لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

۱۔ قرآن مجید کی مکی سورتوں کی خصوصیات بیان کریں اور مثالیں دیں۔

تعریف

عقائد اور رد

اخلاق اور انداز

پیش گوئی اور آہنگ

۲۔ قرآن مجید کی مدنی سورتوں کی خصوصیات مثالوں سمیت بیان کریں۔

تعریف

عبادات اور خطاب

اہلِ کتاب، منافقین اور معاشرت

غزوات، قوانین اور جہاد

۳۔ مکی اور مدنی سورتوں میں فرق واضح کریں۔

تعریف کا فرق

موضوعات کا فرق

اسلوب کا فرق

۶۔ حدیث مبارکہ: تعریف اور اقسام

حاصلاتِ تعلم

  • حدیث مبارکہ کی تعریف، اقسام اور حدیث مبارکہ و سنت کا فرق بیان کر سکیں۔
قسممطلب
قولیرسول کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا قول یا فرمان درج ہو
فعلی (عملی)رسول اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے عمل کا بیان ہو
تقریریصحابہ کا ایسا عمل درج ہو جو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے علم میں آیا اور آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے منع نہ فرمایا

حدیث مبارکہ اور سنت میں فرق

  • حدیث مبارکہ عام ہے، اس کا اطلاق سنت سمیت قول اور فعل پر ہوتا ہے۔
  • سنت خاص ہے، اس سے مراد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا طریقۂ زندگی ہے۔

فوری دہرائی

  • حدیث مبارکہ کی تین قسمیں: قولی، فعلی، تقریری۔

ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)

ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔

۱۔ حدیث مبارکہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کریں۔

۲۔ حدیث مبارکہ کی کتنی اقسام ہیں؟ بیان کریں۔

۳۔ حدیث مبارکہ اور سنت میں فرق لکھیں۔

ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)

لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

۱۔ حدیث مبارکہ کی تعریف اور اقسام بیان کریں۔

لغوی معنی

اصطلاحی معنی

اقسام

حدیث مبارکہ اور سنت

۷۔ حجیت، حفاظت اور جمع و تدوینِ حدیث مبارکہ

حاصلاتِ تعلم

  • حدیث مبارکہ کی حجیت، اہمیت اور تدوین کے ادوار بیان کر سکیں۔

حجیت اور اہمیت

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار والوں کی۔

سورۃ النساء، آیت ۵۹

لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا
ترجمہ: یقینا تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔

سورۃ الاحزاب، آیت ۲۱

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِيِّ ٱلۡأُمِّيِّ ٱلَّذِي يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
ترجمہ: تو ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر جو نبی اُمّی ہیں … اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

سورۃ الاعراف، آیت ۱۵۸

مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ كَيۡ لَا يَكُونَ دُولَةَۢ بَيۡنَ ٱلۡأَغۡنِيَآءِ مِنكُمۡۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
ترجمہ: اور جو کچھ رسول تمھیں عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے رک جاؤ۔

سورۃ الحشر، آیت ۷

بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِۗ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ
ترجمہ: اور ہم نے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم لوگوں کے لیے واضح کر دیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا۔

سورۃ النحل، آیت ۴۴

حفاظت اور جمع و تدوین (جماعت دہم)

دورکیا ہوا
پہلا (زمانۂ رسالت، صحابہ، تابعین)حفظ، کتابت اور تعاملِ امت سے حفاظت
دوسرا (پہلی صدی کے آخر)حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے سرکاری حکم سے باضابطہ تدوین
تیسرا (تیسری صدی ہجری)دور دراز سفر، جانچ کے اصول، اسماء الرجال کا فن، صحاحِ ستہ
صحاحِ ستہمؤلفوفات (ہجری)
صحیح بخاریامام محمد بن اسماعیل البخاری۲۵۶
صحیح مسلمامام مسلم بن حجاج القشیری۲۶۱
جامع ترمذیامام محمد بن عیسیٰ الترمذی۲۷۹
سنن ابو داودامام سلیمان بن اشعث السجستانی۲۷۵
سنن نسائیامام احمد بن علی النسائی۳۰۳
سنن ابن ماجہامام محمد بن یزید ابن ماجہ القزوینی۲۷۳

اصولِ اربعہ (کتاب کے مطابق، فقہ جعفریہ)

  • الکافی (الکلینی، ف ۳۲۹)؛ من لا یحضرہ الفقیہ (ابن بابویہ قمی، ف ۳۸۱)؛ الاستبصار اور تہذیب الاحکام (الطوسی، ف ۴۶۰)۔

صحاحِ ستہ کا ترتیب وار نام

بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ

  • ۱ - بخاری
  • ۲ - مسلم
  • ۳ - ترمذی
  • ۴ - ابو داود
  • ۵ - نسائی
  • ۶ - ابن ماجہ

فوری دہرائی

  • تین ادوار: رسالت و صحابہ و تابعین، پہلی صدی کا آخر (عمر بن عبدالعزیز)، تیسری صدی (صحاحِ ستہ)۔
  • حجیت کی آیات: النساء ۵۹، الاحزاب ۲۱، الاعراف ۱۵۸، الحشر ۷، النحل ۴۴۔

ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)

ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔

۱۔ حدیث مبارکہ کی حجیت سے کیا مراد ہے؟ تین نکات لکھیں۔

۲۔ حدیث مبارکہ کی دینی حیثیت اور اہمیت تین نکات میں لکھیں۔

۳۔ حدیث مبارکہ کی ضرورت کے لیے قرآن مجید سے تین حوالے دیں۔

۴۔ حدیث مبارکہ کی اہمیت کے بارے میں اتباعِ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے متعلق کتاب کیا کہتی ہے؟

۵۔ جمع و تدوینِ حدیث مبارکہ کے تین ادوار کے نام لکھیں۔

۶۔ حدیث مبارکہ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرام نے کون سے تین ذرائع اختیار کیے؟

۷۔ دورِ تابعین میں حدیث مبارکہ کی کوئی تین کتابیں اور ان کے مرتبین لکھیں۔

۸۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث مبارکہ کے بارے میں کیا کارنامہ سرانجام دیا؟

۹۔ امام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث مبارکہ کی خدمت لکھیں۔

۱۰۔ تیسری صدی ہجری میں محدثین نے حدیث مبارکہ کی خدمت کیسے کی؟

۱۱۔ صحاحِ ستہ کی چھ کتابوں کے نام لکھیں۔

۱۲۔ صحاحِ ستہ کے مؤلفین کے نام لکھیں۔

۱۳۔ صحاحِ ستہ کے مؤلفین کے سنہ وفات (ہجری) لکھیں۔

۱۴۔ قرآن مجید اور حدیث مبارکہ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

۱۵۔ اصولِ اربعہ سے کیا مراد ہے؟ (کتاب کے مطابق)

ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)

لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

۱۔ حدیث مبارکہ کی حجیت اور اہمیت کو تفصیل سے بیان کریں۔

بنیادی حیثیت

قرآن مجید سے دلائل

حدیث مبارکہ سے دلیل

مثالیں

۲۔ حدیث مبارکہ کی دینی حیثیت اور اہمیت بیان کریں۔ (جماعت نہم کے مطابق)

اطاعتِ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم فرض

اسوۂ رسول خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم

اتباع ایمان کی نشانی

نافرمانی

۳۔ جمع و تدوینِ حدیث مبارکہ کے بارے میں دورِ ثانی اور ثالث کے حوالے سے تفصیل بیان کریں۔

دورِ اوّل کا خلاصہ

دورِ ثانی

دورِ ثالث

۴۔ اصولِ اربعہ اور صحاحِ ستہ کے نام اور ان کے مؤلفین کے نام لکھیں۔

صحاحِ ستہ

اصولِ اربعہ (کتاب کے مطابق)

۸۔ احادیثِ مبارکہ

حاصلاتِ تعلم

  • ہر حدیث مبارکہ کا ترجمہ، مفہوم اور عملی زندگی میں اطلاق بیان کر سکیں۔

نیچے ۲۵ احادیث ہیں (جماعت نہم کی ۱۰ اور جماعت دہم کی ۱۵)، اس کے بعد ماڈل پیپر کی دو احادیث۔ ہر حدیث مبارکہ کے تین حصے ہیں: ترجمہ، مفہوم کے تین نکات، اطلاق کے دو نکات۔ حدیثِ مبارکہ کا عربی متن کتاب کے صفحے سے دو بار ملایا گیا ہے۔

أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ
ترجمہ: مومنوں میں ایمان کے لحاظ سے کامل ترین وہ لوگ ہیں جن کا اخلاق اچھا ہو اور ان میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ بہتر ہیں۔

حدیث مبارکہ ۱: اخلاق (مسند احمد: ۵۱۹۳)

مفہوم

اطلاق

مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا
ترجمہ: نبی اکرم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: “جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانے (اس کا ادب و احترام نہ کرے) تو وہ ہم میں سے نہیں۔”

حدیث مبارکہ ۲: حقوق (سنن ابی داود: ۴۹۴۳)

مفہوم

اطلاق

أَيُّهَا النَّاسُ: اتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا فَاتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرُمَ
ترجمہ: اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے (اعتدال کے ساتھ) روزی طلب کرو کیونکہ کوئی انسان اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرے گا اگرچہ اس (رزق کے حصول) میں دیر ہو جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے روزی طلب کرو، جو حلال ہے وہ لے لو، جو حرام ہے وہ چھوڑ دو۔

حدیث مبارکہ ۳: رزق (سنن ابن ماجہ: ۲۱۴۴)

مفہوم

اطلاق

مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
ترجمہ: جو اس بات کا خواہش مند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کیا کرے۔

حدیث مبارکہ ۴: صلہ رحمی (صحیح مسلم: ۲۵۵۷)

مفہوم

اطلاق

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَبَائِرِ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ
ترجمہ: رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کی جان لینا اور جھوٹی گواہی دینا۔”

حدیث مبارکہ ۵: کبائر (صحیح مسلم: ۸۸)

مفہوم

اطلاق

إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ
ترجمہ: تمھارے غلام بھی تمھارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں تمھارے ماتحت رکھا ہے، اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے ماتحت ہو، اسے چاہیے کہ جو وہ خود کھاتا ہے وہی اسے کھلائے اور جو خود پہنتا ہے وہی پہنائے اور ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے، لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو۔

حدیث مبارکہ ۶: ماتحت (صحیح بخاری: ۲۵۴۵)

مفہوم

اطلاق

مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِي غَيْرِهِ فَقَدْ خَانَهُ
ترجمہ: جس کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا اور جس نے اپنے بھائی کو کسی ایسے امر کا مشورہ دیا جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔

حدیث مبارکہ ۷: فتویٰ (سنن ابی داود: ۳۶۵۷)

مفہوم

اطلاق

الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ
ترجمہ: حیا خیر کے علاوہ کچھ اور نہیں لاتی۔

حدیث مبارکہ ۸: حیا (صحیح مسلم: ۳۷)

مفہوم

اطلاق

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
ترجمہ: اے اللہ تعالیٰ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔

حدیث مبارکہ ۹: دعا (سنن ابن ماجہ: ۹۲۵)

مفہوم

اطلاق

كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ
ترجمہ: ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔

حدیث مبارکہ ۱۰: حرمت (صحیح مسلم: ۲۵۶۴)

مفہوم

اطلاق

مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
ترجمہ: جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔

حدیث مبارکہ ۱۱: فقہ (صحیح بخاری: ۷۱)

مفہوم

اطلاق

مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ وَإِنَّ اللهَ لَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ
ترجمہ: قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاقِ حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ بے حیا اور بد زبان سے نفرت کرتا ہے۔

حدیث مبارکہ ۱۲: اخلاق (سنن ترمذی: ۲۰۰۲)

مفہوم

اطلاق

مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ
ترجمہ: جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔

حدیث مبارکہ ۱۳: خیر خواہی (صحیح مسلم: ۲۶۹۹)

مفہوم

اطلاق

لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ
ترجمہ: آدمی کے دونوں قدم قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا۔

حدیث مبارکہ ۱۴: حساب (سنن ترمذی: ۲۴۱۶)

مفہوم

اطلاق

اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ
ترجمہ: (لوگو) سات ہلاک کر دینے والی باتوں سے بچو، پوچھا گیا یا رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم! وہ سات ہلاک کرنے والی باتیں کون سی ہیں؟ فرمایا: (۱) کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا۔ (۲) جادو کرنا۔ (۳) اس جان کو مار ڈالنا جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے سوائے حق کے۔ (۴) سود کھانا۔ (۵) یتیم کا مال کھانا۔ (۶) جہاد کے دن دشمن کو پیٹھ دکھانا۔ (۷) پاک دامن ایمان والی اور بے خبر عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔

حدیث مبارکہ ۱۵: کبائر (صحیح بخاری: ۲۷۶۶)

مفہوم

اطلاق

مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
ترجمہ: تم میں سے جو شخص منکر (ناقابلِ قبول کام) دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ (کی قوت) سے بدل دے اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے اپنی زبان (کی وعظ و نصیحت) سے بدل دے، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے اسے برا سمجھے (اور اس کے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔

حدیث مبارکہ ۱۶: نیکی کا حکم (صحیح مسلم: ۴۹)

مفہوم

اطلاق

نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ
ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے (یعنی) “تندرستی” اور “فراغت”۔

حدیث مبارکہ ۱۷: وقت (صحیح بخاری: ۶۴۱۲)

مفہوم

اطلاق

الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ
ترجمہ: حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، ان کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں جنھیں بہت سے لوگ نہیں جان پاتے (کہ حلال ہے یا حرام)۔ جو ان مشتبہ چیزوں سے بچے، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا، وہ ایک دن حرام میں بھی پڑ جائے گا، جیسا کہ چراگاہ کے قریب جانور چرانے والا اس بات کے قریب ہوتا ہے کہ اس کا جانور اس (چراگاہ) میں بھی چرنے لگ جائے۔ خبردار! ہر بادشاہ کا ایک ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ممنوعہ علاقہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔

حدیث مبارکہ ۱۸: حلال حرام (سنن ابن ماجہ: ۳۹۸۴)

مفہوم

اطلاق

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
ترجمہ: رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔

حدیث مبارکہ ۱۹: مشابہت (صحیح بخاری: ۵۸۸۵)

مفہوم

اطلاق

إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: يَسُبُّ الرَّجُلُ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ
ترجمہ: یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم! کوئی شخص اپنے ہی والدین پر کیسے لعنت بھیجے گا؟ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا کہ وہ شخص دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا۔

حدیث مبارکہ ۲۰: والدین (صحیح بخاری: ۵۹۷۳)

مفہوم

اطلاق

اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ
ترجمہ: مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (دعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔

حدیث مبارکہ ۲۱: مظلوم (صحیح بخاری: ۲۴۴۸)

مفہوم

اطلاق

يُوشِكُ الرَّجُلُ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِي فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ أَلَا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللهُ
ترجمہ: قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس سے میری کوئی حدیث مبارکہ بیان کی جائے تو وہ کہے: “ہمارے اور تمھارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کافی ہے، ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور جو چیز حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے”، تو سن لو! جسے رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے حرام قرار دیا ہے وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔

حدیث مبارکہ ۲۲: حجیت حدیث مبارکہ (سنن ابن ماجہ: ۱۲)

مفہوم

اطلاق

دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ
ترجمہ: جو چیز تجھے شک میں ڈال دے اسے چھوڑ دے اور شک سے پاک چیز اختیار کر، کیوں کہ سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔

حدیث مبارکہ ۲۳: سچ (سنن ترمذی: ۲۵۱۸)

مفہوم

اطلاق

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔

حدیث مبارکہ ۲۴: محبتِ رسول (صحیح بخاری: ۱۵، صحیح مسلم: ۱۶۹)

مفہوم

اطلاق

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا عمل؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا عمل؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا۔

حدیث مبارکہ ۲۵: افضل اعمال (صحیح بخاری: ۵۲۷، صحیح مسلم: ۲۵۲)

مفہوم

اطلاق

إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن مجید) کے ذریعے کچھ قوموں کو بلند کرتا ہے اور دوسروں کو پست کرتا ہے۔

حدیث مبارکہ ۲۶: قرآن مجید کی اہمیت ((حوالہ فریم ورک میں درج نہیں))

مفہوم

اطلاق

ما أمرتكم به فخذوه وما نهيتكم عنه فانتهوا
ترجمہ: جس بات کا میں تمھیں حکم دوں اسے لے لو اور جس سے منع کروں اس سے رک جاؤ۔

حدیث مبارکہ ۲۷: اطاعتِ رسول ((حوالہ فریم ورک میں درج نہیں))

مفہوم

اطلاق

فوری دہرائی

  • حدیث مبارکہ لکھنے کی ترتیب: عربی متن، ترجمہ، مفہوم (۳ نکات)، اطلاق (۲ نکات)۔

ممکنہ مختصر سوالات (جوابات سمیت)

ہر سوال کا جواب تین نکات میں لکھیں۔

۱۔ حیا اور ایمان کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

۲۔ حدیث مبارکہ کی روشنی میں کن تین چیزوں کی دعا مانگنے کی تلقین کی گئی ہے؟

۳۔ اسلامی اصطلاح میں تقویٰ سے کیا مراد ہے؟

۴۔ حدیث مبارکہ کی روشنی میں افضل اعمال کون سے ہیں؟

۵۔ شک سے بچنے اور سچائی کو اختیار کرنے کے بارے میں حدیث مبارکہ تحریر کریں۔

۶۔ قیامت کے دن آدمی سے کن پانچ چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا؟

۷۔ سات ہلاک کرنے والی باتیں (الموبقات) لکھیں۔

۸۔ برائی کو روکنے کے تین درجے حدیث مبارکہ کی روشنی میں لکھیں۔

۹۔ مسلمان کی تین حرمتیں حدیث مبارکہ کی روشنی میں بیان کریں۔

۱۰۔ حیا کے تین درجے لکھیں۔

۱۱۔ دعا کی قبولیت کی کتنی صورتیں کتاب میں بیان ہوئی ہیں؟ لکھیں۔

۱۲۔ مشتبہ چیزوں سے بچنے کی حدیث مبارکہ کا مفہوم تین نکات میں لکھیں۔

۱۳۔ مسلمان بھائی کی مدد کے تین کام اور ان کا انعام حدیث مبارکہ کی روشنی میں لکھیں۔

۱۴۔ صلہ رحمی کا مفہوم اور فائدے حدیث مبارکہ کی روشنی میں لکھیں۔

۱۵۔ ماتحتوں کے حقوق حدیث مبارکہ کی روشنی میں لکھیں۔

۱۶۔ رزق کے بارے میں حدیث مبارکہ (أَيُّهَا النَّاسُ: اتَّقُوا اللهَ) کی چار باتیں لکھیں۔

۱۷۔ مظلوم کی بد دعا کے بارے میں حدیث مبارکہ سے کیا سبق ملتا ہے؟

۱۸۔ والدین کو برا بھلا کہنے کے بارے میں حدیث مبارکہ کی تعلیم لکھیں۔

۱۹۔ صحت اور فراغت کے بارے میں حدیث مبارکہ کا مفہوم لکھیں۔

۲۰۔ مرد و عورت کی مشابہت کے بارے میں حدیث مبارکہ لکھیں۔

۲۱۔ بغیر علم کے فتویٰ اور مشورے کے بارے میں حدیث مبارکہ کی تعلیمات لکھیں۔

۲۲۔ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم سے محبت کے بارے میں حدیث مبارکہ سے تین نکات لکھیں۔

۲۳۔ “دین کی سمجھ” والی حدیث مبارکہ کا مفہوم لکھیں۔

۲۴۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ

۲۵۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا

۲۶۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
أَيُّهَا النَّاسُ: اتَّقُوا اللهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا

۲۷۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ

۲۸۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَبَائِرِ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ

۲۹۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا

۳۰۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ

۳۱۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ

۳۲۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا

۳۳۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ

۳۴۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ

۳۵۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ وَإِنَّ اللهَ لَيُبْغِضُ

۳۶۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ

۳۷۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ

۳۸۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ

۳۹۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ

۴۰۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ

۴۱۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ

۴۲۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ

۴۳۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ يَلْعَنُ

۴۴۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ

۴۵۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
يُوشِكُ الرَّجُلُ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِي فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللهِ

۴۶۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ

۴۷۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

۴۸۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ

۴۹۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين

۵۰۔ درج ذیل حدیث مبارکہ کا مفہوم اور اس سے ملنے والے عملی اسباق تین نکات میں لکھیں:
ما أمرتكم به فخذوه وما نهيتكم عنه فانتهوا

ممکنہ تفصیلی سوالات (جوابات سمیت)

لمبے جوابات کو عنوانات کے حساب سے ۵+۵، ۳+۳+۴ یا ۴+۴+۲ جیسے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

۱۔ احادیثِ نبویہ میں کن اخلاقی اوصاف کی تعلیم دی گئی ہے؟ وضاحت کریں۔

حسنِ اخلاق

رحم، احترام اور صلہ رحمی

حیا اور ماتحتوں سے حسنِ سلوک

دیانت اور خیر خواہی

۲۔ چھوٹوں اور بڑوں کے حقوق و احترام کے بارے میں نبوی تعلیمات بیان کریں۔

حدیث مبارکہ

چھوٹوں کے حقوق

بڑوں کے حقوق

نتیجہ

۳۔ رزقِ حلال کی طلب و حصول کے بارے میں رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم نے کیا تعلیمات دی ہیں؟ مفصل لکھیں۔

حدیث مبارکہ

چار نکات

دعا

عملی سبق

۴۔ صلہ رحمی کے بارے میں نبوی تعلیمات بیان کریں۔

مفہوم

حدیث مبارکہ

اہمیت

عملی سبق

۵۔ گناہِ کبیرہ میں کون کون سے گناہ شامل ہیں؟ ان سے کیسے بچا جائے؟ بیان کریں۔

کبائر کا مفہوم

حدیث مبارکہ (جماعت نہم)

حدیث مبارکہ (جماعت دہم)

بچاؤ کے طریقے

۶۔ احادیثِ نبویہ میں دی گئی تعلیمات میں سے کن پر ایک طالب علم عمل کر سکتا ہے؟ روز مرہ زندگی سے مثالیں دیں۔

احادیث اور عمل

معاشرتی مثالیں

نوٹ

۷۔ حدیث مبارکہ “مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا” کی روشنی میں برائی کو روکنے کے طریقے بیان کریں۔

ترجمہ

درجے

عملی اطلاق

۸۔ قیامت کے دن پانچ سوالوں والی حدیث مبارکہ کی وضاحت کریں اور اس کا عملی سبق لکھیں۔

حدیث مبارکہ

پانچ سوال

نتیجہ

عملی سبق

۹۔ مسلمان کی جان، مال اور عزت کی حرمت پر نوٹ لکھیں۔

حدیث مبارکہ

جان کی حرمت

مال کی حرمت

عزت کی حرمت

عملی سبق

فرہنگ

حدیث مبارکہ
نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کے اقوال، اعمال اور احوال۔
سنت
رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علی آلہ و اصحابہ و سلم کا طریقۂ زندگی۔
تواتر
بے شمار لوگوں کے ذریعے نقل ہونا۔
مصحف
قرآن مجید کا مکتوب نسخہ۔
مصحفِ امّ
حضرت زید بن ثابت کا مرتب کردہ پہلا نسخہ۔
کاتبینِ وحی
وحی لکھنے والے صحابہ۔
حفاظ
قرآن مجید زبانی یاد رکھنے والے۔
تحریف
متن میں ایسی تبدیلی جس سے معنی بدل جائیں۔
اعجاز
ایسا کلام جس کی مثال لانے سے مخلوق عاجز ہو۔
عالمگیریت
پوری انسانیت اور تمام جہانوں کے لیے ہونا۔
ابدی
ہمیشہ رہنے والی۔
جامع
زندگی کے تمام شعبوں کو شامل۔
مکی
ہجرتِ مدینہ منورہ سے پہلے نازل ہونے والی۔
مدنی
ہجرتِ مدینہ منورہ کے بعد نازل ہونے والی۔
حروفِ مقطعات
سورتوں کے شروع میں آنے والے الگ الگ حروف۔
حجت
دلیل جس پر عمل لازم ہو۔
اسماء الرجال
راویوں کے حالات کا علم۔
صحاحِ ستہ
حدیث مبارکہ کی چھ معتبر کتابیں۔
فتویٰ
شرعی مسئلے کا جواب۔
صلہ رحمی
رشتہ داروں سے اچھا سلوک۔
عقوق
والدین کی نافرمانی۔
مشتبہ
جس کے حلال یا حرام ہونے میں شک ہو۔

Chapter 1 is free

You are reading a free chapter. The other chapters of this subject are Premium. Rs 3000 now, Rs 4000 from 15 Dec.

All chaptersIslamiyatNext chapterاسمائے حسنیٰ